”آپ اورہم کس کھاتے میں ہیں؟“
14 اپریل 2020 2020-04-14

قارئین کرام، کہنے کو تو میں بھی مسلمان ہوں، اور آپ بھی مسلمان ہیں مگر میں کئی دنوں سے سوچ رہاتھا، کہ ہمارے گھر میں اگر کوئی ملازمہ یا ملازم نوکری کے لیے آتا ہے، تو ہمارا پہلا سوال یہ ہوتا ہے، کہ کیا تم پڑھے لکھے ہو؟ان میں سے بعض اگر یہ کہہ دیں، کہ میں پڑھا لکھا تو نہیں، مگر قرآن پاک پڑھ لیتا ہوں، تو ہمارے لبوں پہ ایک طنزیہ مسکراہٹ مچلنے لگتی ہے، اگر معیار خواندگی اسی کو تسلیم کرلیا جائے، تو کتنے افسوس کا مقام ہے کہ اصل میں تو اَن پڑھ اور اُمی تو ہم ہیں، کہ جو کتاب الٰہی ہی نہیں پڑھ سکتے، اور اگر پڑھ بھی لیتے ہیں، تو اس کے قواعد وضوابط اور گرائمر کے علوم سے بے بہرہ ہوتے ہیں، حالانکہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے، ہروالدین کو تعلیم و تربیت کے لیے اولین ترجیح نونہالان وطن اور وارثین وطن کی تربیت انہی خطوط رسول امی کے مطابق کرنی چاہیے۔

اور یکساں نظام تعلیم کے دعوے داران کے دورپُرآشوب میں جب منفی رویوں کا سامنا ہوتا ہے، تو مظفر شاہ صاحب کی بے ساختگی دل کے اشعار ہمارے لبوں پہ آجاتے ہیں کہ

تو بھی سیل اشک یوں آنکھوں کے اندر روک لے

جس طرح بے تاب لہروں کو سمندرروک لے

آپ اگر اصل ریاست مدینہ کی بات کریں، تو موجودہ ریاست مدینہ کے قول وعمل کا تضاد ہی اصل میں وجہ فساد وعناد ہے، دورحضور تو صورت موجودہ مملکت اسلامیہ کے برعکس تھی۔ وہاں نہ تو یوٹرن، کی کسی کواجازت تھی، اور نہ ہی جلسے جلوسوں میں رقص وسرود کی، مگر یہاں تو صورت حال تبدیل شدہ پاکستان میں ایسی ہوگئی ہے، کہ ایک دینی جماعت جو ہمیشہ انتخابات میں ہارجاتی ہے، اس لغرہ بے خودی میں لبیک کہہ کر شامل ہوگئی ہے۔ شاید اس کی وجہ کسی صوبے میں ہم آہنگی بصورت بانسری وسارنگی ہو تاہم قانون خالق کون ومکان کی طرف ہمیشہ دھیان دینا چاہے، چاہتے وہ دورروشن خیالی ہو، یا تبدیل شدہ پاکستان ہو۔

قارئین ، آپ کو شاید یاد ہوگا، کہ پہلے ملت اسلامیہ کی جامعہ الازہر مصر اور اب بھی طالبان تعلیم حقیقی کی ترجیح وہاں داخلہلینے کی ہوتی ہے اس کے بعد مولانا سمیع الحق مرحوم کے دورتک، اسلامی ممالک اور ریاستوں کے طلباءپاکستان کے مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے کے شدید مضطرب ہوتے تھے ، اور اس طرح بیرون ملک سے پاکستان کو یہ طلباءرقوم بھیج کر زرمبادلہ بڑھانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، کیونکہ ان کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ مگر ہندوستان نے روایتی عدوپن اور دشمنی کو اپنی مو¿ثر حکمت عملی کے تحت اس کو بطور ہتھیار استعمال کیا کہ پاکستان میں یہ غیرملکی عناصر بھارت میں دہشت گردی میں ملوث ہیں، مگر حیرت کی بات ہے کہ وہ اس حوالے سے صرف خودساختہ اجمل قصاب کے علاوہ اور کوئی بھی مثال پیش نہیں کرسکا، اور اس کا الزام حافظ سعید صاحب پہ لگادیا اور اس طرح انہیں پابند سلاسل کردیا گیا، حالانکہ وہ ڈرامہ بھی بھارت کا اپنا پیش کردہ ڈرامہ تھا، جس میں اجمل قصاب نامی شخص کو ملوث کیا گیا، اور پھر اس ثبوت کو یعنی اجمل قصاب کو پھانسی پہ چڑھا کر ختم کردیا گیا، جبکہ اقرار شدہ غدار کلبھوشن کو ایک اچھی سفارت کاری کے ذریعے بائیس کروڑ پاکستانیوں کے دلوں سے بھلاکر دورکردیا گیا ہے۔

عالمی عدالت انصاف کے پاس اجمل قصاب کا کیس بھارت نے کیوں نہیں بھیجا تھا، اور پاکستان کی حکومت نے اس کا مطالبہ کیوں نہیں کیا تھا، بلوچستان میں آئے روز دہشت گردی، اور خصوصاً ہزارہ قبائل کے خلاف قتل جلیانوالہ کی صورت میں مسلسل جو ہورہے ہیں اور چند ایک دہشت گرد بھی ہماری آئی ایف سی کے ہاتھ غالباً لگے ہیں تو ان کو اقوام عالم کے سامنے کیوں نہیں رکھا جاتا؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ”ابھی نندن“ ابھی تک پاکستان کی قید میں ہوتا ، تاکہ ہماری کامیاب خارجہ پالیسی اس کو ابھی تک، غیر ملکیوں سے لعنت ملامت اور سرکوبی ہند کے لیے استعمال کرسکتی مگر ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی جن کا اب ہربیان اسلام آباد کی بجائے ان کے آبائی شہر ملتان سے آتا ہے، اس معاملے میں کوئی قابل تحسین کارکردگی دکھانے سے قاصر رہے، کیونکہ ان کا ہر بیان ہرمقام سے اپنے وزیراعظم کی چاپلوسی میں ہوتا ہے، تاہم شیخ رشید اور شاہ صاحب کے درمیان ابھی تک قوم تذبدب کا شکار ہے کہ ان میں ”سواسیر“ کون ہے؟

تبدیل شدہ پاکستان کے وزیراعظم کا ہربیان طالبان کے حق میں آتا ہے، جس سے ٹرمپ بھی دھوکہ کھا گیا، اور تھوڑی دیرکے لیے وہ بھی کردار کپتانی ادا کرنے پر مجبور ہوگیا .... مگر اگر طالبان حقیقی، اور افغانستان کی ملت اسلامیہ کا ہماری حکومت کو کچھ خیال ہوتا تو افکار ملت اسلامیہ سنیے وہ فرماتے ہیں، کہ ہم دشمن کی صفوں میں موجود افغان فوجیوں کو مطلع کرتے ہیں کہ تم لوگوں نے جس راستے کا انتخاب کررکھا ہے، وہ دنیاوی اور اخروی زندگی کی ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے، تم استعمار کی زیر کمان اپنے مومن عوام کے خلاف لڑرہے ہو، اگر اس راہ میں مارے جاﺅ گے تو تمہاری موت مردود ہے۔ اب ان حالات میں وزیراعظم پاکستان اور صدر امریکہ کیا کرسکتے ہیں طالبان ہرحالت میں افغانستان میں نفاذ اسلام چاہتے ہیں جو ٹرمپ نہیں ہونے دیتا .... مگر ریاست مدینہ کے دعوے دار نے، ریاست مدینہ کے بانی حضور کے کسی ایک قول ، کسی ایک افکار، کسی بھی اعمال کی عملی تاکید کی ؟ منکر نکیر تو منہ سے نکلا ہر وعدہ جو 23سالوں سے قوم سے کیا جارہا ہے.... لکھ رہے ہیں، اگر حضرت عمرؓ ، اپنے اعمال کا جواب دیتے پسینے پسینے ہوگئے تھے، تو آپ، اور ہم کس کھاتے میں آتے ہیں ؟


ای پیپر