یہ ملاقات ایک بہانہ ہے ! (دوسری قسط)
14 اپریل 2020 2020-04-14

میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کیا کر کے آیا، بے شمار صحافی دوستوں جن میں بہت بڑی تعداد میرے سٹوڈنٹس کی ہے ، نے اپنے اپنے اخبارات ، نیوز چینلز اور یوٹیوب چینلز کے لئے میرا انٹرویو لینے کے لئے جان کھا لی۔ وہ اصل میں یہ جاننا چاہتے تھے ہر حوالے سے مشکل ترین موجودہ حالات میں وزیر اعظم کا مورال کیسا ہے ؟۔ بے شمار لوگوں کو شاید پتہ نہ ہو، خصوصاً جب کسی انسان کی سوشل لائف وسیع ہوتی جا رہی ہو، اور محض اس لئے وسیع ہوتی جا رہی ہو بے شمار لوگ صرف فیس بک وغیرہ پر مختلف اہم شخصیات وغیرہ کے ساتھ آپ کی تصویریں اور وڈیوز دیکھ کر ہی آپ سے تعلقات قائم کر لیتے ہوں۔ یا آپ ان سے کر لیتے ہوں تو انہیں آپ کا پتہ ہوتا ہے آپ کیا کرتے ہیں نہ آپ کو ان کا پتہ ہوتا ہے وہ کیا کرتے ہیں؟۔ اس حوالے سے اگلے روز وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا ایک بڑا دلچسپ وڈیو کلپ سامنے آیا جس میں وہ وزیر اعظم کے ”احساس پروگرام“ کے تحت ایک خاتون کو امدادی چیک دیتے ہوئے ان سے پوچھ رہی ہیں ”آپ کے بچے کتنے ہیں؟ وہ خاتون بولی”میرے آٹھ بچے ہیں“ اس پر معاون خصوصی برائے اطلاعات یا ”غیر مصدقہ اطلاعات“ فردوس عاشق اعوان کی رگ ظرافت پھڑکی، جو کہ اکثر پھڑکتی رہتی ہے ۔ انہوں نے اس خاتون سے پوچھا ”اچھا یہ بتاﺅ آپ کے میاں اس کے علاوہ کیا کرتے ہیں؟ .... اس سوال پر وہ خاتون خود بھی مسکرا کر رہ گئی۔ ممکن ہے اس نے فردوس عاشق اعوان کے بھاری پن سے خوف کھا کر صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا ہو، ورنہ وہ کہہ سکتی تھی ”میڈم جی میرے میاں اس کے علاوہ کچھ نہیں کرتے، لیکن آپ اگر انہیں کوئی کام دینا چاہتی ہیں میں انہیں آپ کے پاس بھجوا دیتی ہوں“.... کچھ اسی طرح کا ایک واقعہ میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔ میں نے ایک جاننے والے سے پوچھا ”آپ کتنے بہن بھائی ہیں؟۔ وہ بولا” مجھے ملا کر کل بارہ تیرہ ہیں“.... میں نے پوچھا یہ ”آپ کے ابو کیا کرتے ہیں؟“....وہ کہنے لگا ”بتایا تو ہے ہم بارہ تیرہ بہن بھائی ہیں“.... اس کے کہنے کا مطلب تھا ابو بس یہی کرتے ہیں، اس کے علاوہ اور کچھ کرنے کا انہیں موقع یا وقت ہی نہیں ملتا.... ویسے میں سوچ رہا تھا شکر ہے میرا یہ جاننے والا کسی بڑے عہدے پر فائز نہیں تھا، وہ وزیر اعظم ہوتا تو ”بارہ تیرہ بہن بھائی“ کہنے کے بجائے ممکن ہے یہ کہہ دیتا ”ہم بارہ” ساڑھے بارہ“ بہن بھائی ہیں“.... جیسا کہ اگلے روز ہمارے محترم وزیر اعظم نے اپنے روایتی بھولپن میں کہہ دیا کہ ”کرونا وائرس سے سو میں سے ایک یا زیادہ سے زیادہ ”ڈیڑھ انسان“ مرتا ہے “.... ملاقات میں وزیر اعظم سے بہت سی باتیں پوچھنی رہ گئیں، جن میں ایک یہ بھی ہے ”خان صاحب یہ ”ڈیڑھ انسان“ سے آپ کی کیا مراد سعید تھی؟؟؟سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے اس ”روایتی بھولپن“ کا بڑا تمسخر اڑایا گیا۔ تب مجھے ایک اور سابقہ وزیر اعظم میاں نواز شریف یاد آ گئے، اپنے ایک انٹرویو میں جنہوں نے فرمایا تھا ”ہمارے قدم آج تک ڈگ نہیں مگائے“.... ہمارے اکثر حکمران ایسی ”بونگیاں“ مارتے رہتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں جس عمر میں انسان حکمران بنتا ہے بے چارہ وہ سوائے بونگیوں کے کچھ مار بھی نہیں سکتا۔ میں کئی بار وزیراعظم سے کہہ چکا ہوں، جب سے آپ وزیر اعظم بنے ہیں آپ کا سارا زور کرپشن کے خلاف کوششوں پر ہے ۔ یہ زور بھی آپ کا نہیں چل رہا، کیونکہ جب پورا معاشرہ کرپٹ ہو اس میں سے اپنی پسند یا ناپسند کے مطابق چند لوگوں کو نکال کر سزا دینے اور چند لوگوں کو نظر انداز کرنے کا عمل ہمیشہ ناکام رہتا ہے ۔ سو اس پر اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے اس سے بھی بڑے مسائل پر توجہ دیں۔ ایک مسئلہ آبادی کا خطرناک حد تک بڑھنا بھی ہے ۔ جتنی تیزی سے پاکستان میں کورونا بڑھ رہا ہے لگتا ہے یہ کورونا نہیں آبادی بڑھ رہی ہے ۔ بلکہ آبادی کا اتنی تیزی سے بڑھنا کورونا کے اتنی تیزی سے بڑھنے سے زیادہ خطرناک ہے ۔ اس سے ملک میں ظلم زیادتی خصوصاً بھوک ننگ بڑھ رہی ہے ۔ حکمران اس پر توجہ نہیں دیں گے تو قدرت خود میدان میں اترے گی، جو کہ اتر چکی ہے ۔ المیہ یہ ہے اس حوالے سے اپنی ساری ”کالی کرتوتوں“ کا ذمہ دار ہم قدرت کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ یہ ہمارا ”تکیہ کلام“ ہی بن چکا ہے ”بس جی“ اوپر والے ”کو یہی منظور تھا“.... ایک صاحب سے میں نے پوچھا ”کتنے بچے ہیں خیر سے آپ کے ؟“ وہ بولا ”اوپر والے کی مہربانی سے چودہ بچے ہیں“.... میں نے کہا

یہ آپ کے اوپر رہتا کون ہے جو مسلسل مہربانی کئے جا رہا ہے ؟“.... تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے عمل کو اسی طاقت سے روکنا ہو گا جس طاقت سے بچے پیدا کئے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے لوگوں کی تربیت کی ایک نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے ۔ مالی کمزوریوں کا شکار اکثر لوگ بالکل ”ویلے“ اورنکمے ہوتے ہیں۔ ان کی صرف ایک ہی ”مصروفیت و اہلیت“ ہوتی ہے بچے پہ بچے پیدا کرنے کی ہوتی ہے ۔ البتہ کچھ لوگ بڑے سمجھ دار ہوتے ہیں۔ ایک بار بہت سالوں سے ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار لڑکی لڑکے سے میں نے پوچھا” اب آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے؟۔ وہ بولے”ہم اصل میں بچے پیدا نہیں کرنا چاہتے“ شاید ہمارے محترم وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے بھی اسی لئے شادی نہیں کی اس کے بعد بچے پیدا کرنے پڑ جاتے ہیں جو ان کے لئے تقریباً اتنا ہی ناممکن عمل ہے جتنا سچ بولنا ہے ۔ وہ جھوٹ بول رہے ہوں صاف پتہ چل جاتا ہے جھوٹ بول رہے ہیں، سچ بول رہے ہوں پھر بھی صاف پتہ چل جاتا ہے جھوٹ بول رہے ہیں۔ بہتر ہے وہ بولا ہی نہ کریں۔ تا کہ ملکی مسائل کا کوئی حل نکل سکے۔ بہرحال میں اس کالم کی ابتداءمیں عرض کر رہا تھا”میری سوشل لائف میں بے شمار نئے لوگ داخل ہوئے ہیں۔ جن کی اطلاع کے لئے عرض ہے پیسے کے لحاظ سے میں باقاعدہ طور پر ایک صحافی نہیں ایک استاد (پروفیسر) ہوں۔ ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں شعبہ صحافت کا سربراہ ہوں۔ یہ ”پروفیسر“ ہونے کا معاملہ بھی بڑا دلچسپ ہے ۔ ایک پروفیسر صاحب کا کہیں رشتہ طے ہونے لگا لڑکی والوں کو بتایا گیا ”منڈا پروفیسر اے“.... وہ بولے“ اوہ تے ٹھیک اے پر منڈا کردا کی اے؟؟؟.... ایسے ہی ایک پروفیسر صاحب کی شادی ہوئی۔ ان کی پہلی رات بس ایسے ہی گزر گئی۔ اگلے روز وہ اپنے سسرال گئے۔ کھانا وغیرہ کھا کر فارغ ہوئے باہر لان میں آ کر بیٹھ گئے۔ وہاں بے شمار مرغے ایک مرغی کے ساتھ پھر رہے تھے۔ انہوں نے بڑی حیرانی سے ساتھ بیٹھی بیگم سے پوچھا ”میں نے ہمیشہ بے شمار مرغیوں کے ساتھ ایک مرغا تو دیکھا ہے ، پر بے شمار مرغوں کے ساتھ ایک مرغی پہلی بار دیکھ رہا ہوں“.... بیگم بولی ”ان میں مرغا ایک ہی ہے باقی ”پروفیسر“ ہیں“....اس پر نئے نویلے شوہر کچھ ناراض سے ہو گئے۔ کہنے لگے ”تم نے پروفیسر کیوں کہا؟“.... تم بلاول بھٹو زرداری بھی کہہ سکتی تھی۔ بہرحال میں اپنے جرنلزم کے ان سٹوڈنٹس کی بات کر رہا تھا جو مجھ سے یہ جاننا چاہتے تھے کہ کورونا اور حکومت کی تبدیلی کی مسلسل افواہوں کے ماحول میں وزیر اعظم کا مورال کیسا تھا؟ (جاری ہے )


ای پیپر