بگڑتی معاشی صورت حال
14 اپریل 2019 2019-04-14

جب سے ہوش سنبھالا ہر حکومت اور حکمران سے یہ تین باتیں ضرور سنیں۔ پہلی تو یہ کہ ملک نازک صورت حال سے گزر رہا ہے ۔ ملک کو بہت سارے خطرات کا سامنا ہے۔ دوسری ملک کا خزانہ خالی ہے۔ عوام کو کچھ عرصہ قربانی دینی پڑے گی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اس کے بعد ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ ہر طرف خوشحالی کا راج ہو گا۔ تیسری ہر نئی حکومت پچھلی حکومت پر یہ الزام عائد کرتی ہے کہ اس نے تو ملک کو دیوالیہ کر دیا تھا۔ خراب معاشی صورت حال کی ذمہ دار پچھلی حکومت یا حکومتیں ہیں۔ ہمیں کچھ وقت دیں تا کہ ہم معیشت کو مستحکم کر کے معاشی حالات کو بہتر کر دیں۔

تحریک انصاف کی حکومت بھی گزشتہ 8 ماہ سے یہی کچھ کر رہی ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت بشمول وزیراعظم عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو یہ کہنے تھے کہ ملک میں کرپشن اس لیے عام ہے کیونکہ حکمران کرپٹ ہیں مگر اب تو سات ماہ سے ایمانداروں اور دیانتداروں کی حکومت ہے مگر جس بھی دفتر میں جاؤ کرپشن کا کاروبار دھڑلے سے جاری ہے۔ تھانوں میں مقدمہ درج کروانے کے لیے آج بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔ پٹواری سے فرد لینے کے لیے نذرانہ دینا پڑتا ہے۔ بدعنوانی کا کاروبار اسی طرح جاری ہے۔ ہسپتالوں اور سکولوں میں صورت حال یا تو جوں کی توں ہے یا پھر پہلے سے خراب ہوئی ہے۔ محنت کشوں اور نوجوانوں کو کام نہیں مل رہا۔ ایماندار حکمرانوں کی فیض و برکات عام لوگوں تک نہیں پہنچ رہیں۔

اس وقت معیشت کی صورت حال خراب ہے۔ نہ صرف مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ معاشی شرح نمو میں کمی ہو رہی ہے۔ معیشت کا پہیہ سست ہو چکا ہے۔ معاشی گراوٹ جاری ہے جسے روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی معیشت تیزی سے سٹیگ فلیشن (Stag flation) کی کیفیت میں داخل ہو رہی ہے ۔ سٹیگ فلیشن کی اصطلاح ایسی معاشی صورت حال کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جس میں ایک طرف تو معاشی ترقی کی شرح بہت کم ہو جاتی ہے اور معیشت جمود کا شکار ہونے لگتی ہے، دوسری طرف افراط زر کی شرح بہت بڑھ جاتی ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس معاشی صورت حال میں غربت بڑھ جاتی ہے اور ایسے لاکھوں افراد جو کہ غربت کی لکیر سے اوپر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں وہ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جاتے ہیں۔ اس معاشی کیفیت میں محنت کش عوام 12 سے 16 گھنٹے کام کرنے کے باوجود غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس وقت آئی ایم ایف، عالمی بینک ، ایشیائی ترقیاتی بینک، اکانو مسٹ جیسے معتبر سرمایہ دارانہ جریدے اور ادارے پاکستان کی معیشت کی خرابی کی باتیں کر رہے ہیں۔ ان اداروں کا تجزیہ اور پیشین گوئی یہ ہے کہ اگلے 3 سال پاکستان کی معیشت کے لیے بھاری ہیں۔ آئی ایم ایف نے تو اپنی تازہ ترین رپورٹ اور تجزیے میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 2.5 فیصد تک گرنے کی بات کی ہے۔ آئی ایم ایف نے اگلے چند سالوں میں اوسط شرح ترقی 2.5 فیصد رہنے کی پیشین گوئی کی ہے جبکہ موجودہ مالی سال میں یہ شرح ترقی 2.8 فیصد گرنے کے خدشے کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس سے ملتی جلتی پیشین گوئی اور تجزیہ برطانوی جریدے اکانومسٹ کے انٹیلی جنس یونٹ نے بھی کیا ہے جس کے مطابق اگلے 4 برسوں میں شرح ترقی 2.4 سے 2.9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اس سے قبل عالمی بینک بھی اگلے چند سالوں میں 3 فیصد سے کم شرح نمو کی پیشین گوئی کر چکا ہے۔

ان سب اداروں کی رپورٹس اور تجزیے اس حقیقت کا واضح اظہار کر رہے ہیں کہ پاکستانی معیشت تیزی سے گر رہی ہے۔ معیشت کے تمام شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔ برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ خوراک، ادویات اور اشیائے ضروریہ غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ مہنگائی کی موجودہ لہر نے تو درمیانے طبقے کی نچلی پرتوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ قوت خرید گر رہی ہے۔ افراط زر میں اضافے کے باعث حقیقی آمدن میں کمی واقع ہوئی ہے۔ 30,000 کی آمدن رکھنے والا خاندان اب چار ہزار سے پانچ ہزار روپے ماہانہ سے محروم ہو چکا ہے۔ اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ تنخواہیں مہنگائی بڑھنے سے پہلے والی سطح پر ہیں۔ عام لوگوں کے لیے زندگی پہلے سے مشکل ہو گئی ہے۔ معاشی ترقی ، خوش حالی، تبدیلی اور نیا پاکستان کے خواب چکنا چور ہو رہے ہیں۔ اگر عالمی مالیاتی اداروں کے جائزے، تجزیے اور اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو مطلب ہے لاکھوں گھر، نوکریاں، تیز ترین معاشی ترقی اور غربت میں کمی کے تمام خواب، دعوے، وعدے اور نعرے یا تو سوشل میڈیا پر ملیں گے یا پھر حکومتی وزراء کے بیانات میں 2.5 یا 3 فیصد کی رفتار سے ترقی کرنے والی معیشت نہ تو 50 لاکھ گھروں کا بوجھ اٹھا سکتی ہے اور نہ ہی ایک کروڑ نئی ملازمتوں کا۔ نئی ملازمتوں کو تو ایک طرف رکھیے اگر معاشی ترقی کی شرح اگلے ایک یا دو سالوں میں 5 فیصد سے اوپر نہ گئی تو پرانی ملازمتوں والوں کو اپنی ملازمتوں کے لالے پڑ جائیں گے۔ سٹیگ فلیشن کی کیفیت میں معاشی جمود، افراط زر کی بلند شرح اور بے روزگاری کا عفریت مل کر عوام کا جینا محال کر دیتے ہیں۔ ان کی پہلے سے اذیت ناک زندگی مزید اجیرن ہو جاتی ہے۔ معیشت کا پھیلاؤ رک جاتا ہے۔ غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ 2.5 یا 2.9 فیصدکی شرح ترقی کا مطلب ہے کہ معیشت مکمل جمود اور ٹھہراؤ کی کیفیت میں ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح 2.4 فیصد کے قریب ہے اگر معاشی شرح ترقی بھی اتنی ہی ہو گی تو اس کا مطلب ہے کہ خاص ترقی نہیں ہو رہی۔

ماہر معیشت اور سابق مشیر خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسین خان کے مطابق پاکستانی معیشت میں 15 فیصد گراوٹ کا امکان ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی مجموعی جی ڈی پی (GDP) 330 ارب ڈالر سے گر کر 280 ارب ڈالر ہو جائے گی جبکہ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق بے روزگار افراد کی تعداد میں اس سال کے دوران 10لاکھ افراد کا اضافہ ہو گا جبکہ 40 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا گریں گے۔ حکمرانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ عوام کو معاشی اعداد و شمار اور معاشی اعشاریوں کی جادو گردی سے غرض نہیں ہوتی انہیں تو روزگار چاہیے سستی خوراک، بجلی، گیس، پٹرول، رہائش، تعلیم اور صحت چاہیے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے گھر کا چولہا جلتارہے۔ ان کے بچے جیسی بھی ہے سرکاری تعلیم حاصل کر سکیں اور سرکاری ہسپتال سے یا محلے کے ڈاکٹر سے بیمار ہونے پر چند گولیاں خرید سکیں۔ حکومت کب تک پچھلی حکومتوں پر ملبہ ڈال کر اپنی ناکام پالیسیوں اور حکمت عملی کو چھپاتی رہے گی۔ یہ بات مجھ جیسے ناقص العقل اور اوسط ذہن والے بھی جانتے ہیں کہ معاشی پالیسیوں کے اثرات عوام تک پہنچنے میں کچھ وقت لگتا ہے مگر اپنی پالیسیاں توواضح کریں۔ پرانی پالیسیوں کے نتائج بھی پرانے ہی سامنے آئیں گے مگر حکومتی بقراطوں اور ماہرین کو شاید یہ بات سمجھ نہیں آ رہی۔ جب آپ کچھ نیا کر ہی نہیں رہے تو اس کے نتائج نئے کیسے ہوں گے۔ پرانی پالیسیوں سے تبدیلی تو نہیں آئے گی بلکہ اس سے سٹیٹس کو مضبوط ہو گا۔


ای پیپر