ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے
14 اپریل 2019 2019-04-14

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارت پاکستان پر ایک اور حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ کارروائی 16 سے 20 اپریل کے درمیان کی جاسکتی ہے۔ ملتان میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مودی سرکار نے سیاسی مقاصد کے لیے خطے کے امن کو داؤ پر لگادیا ہے۔ جنگ کے بادل اب بھی منڈلارہے ہیں۔ ہمارے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ بھارت پاکستان میں ایک اور حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ بھارت بہانے کے طور پر مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ جیسا واقعہ بھی کراسکتا ہے۔ خدانخواستہ ایسا ہوتا ہے تو خطے پر اس کے کیا اثرات پڑ سکتے ہیں، اندازہ لگا سکتے ہیں۔خطے میں امن کے لیے عالمی برادری کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے اپنی اس تشویش اور صورتحال کی سنگینی سے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو آگاہ کیا ہے۔ عالمی برادری بھارت کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کا نوٹس لے۔ خطے میں امن کے لیے عالمی برادری کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ پلوامہ واقعے کے بعد 26 فروری کو بھارت جب کارروائی کرتا ہے اس پر دنیا خاموش رہتی ہے، کئی ذمے دار ممالک سمیت دنیا نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ تاہم ہم اتنے بھی نا سمجھ نہیں کہ عالمی برادری خاموش کیوں ہے۔وجہ جو نظر آ تی ہے، وہ یہ کہ بھا ر ت اپنے مذ مو م عز ا ئم میں تنہا نہیں۔ا و ر نہ صر ف یہ کہ اسے اسر ا ئیل کی پشت پنا ہی حا صل ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اسرا ئیل کے اپنے مز ید عز ئم الگ سے شا مل ہیں جن کا ذ کر آ گے چل کر آ ئے گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ممکنہ بھارتی جارحیت کے بارے میں جس خوفناک صورتحال کا انکشاف کیا ہے، اس کے ایسا رونما ہونے کی صورت میں پورے خطے کا امن ایک بار پھر داؤ پر لگ سکتا ہے۔ بھارت کی جانب سے سرجیکل سٹرائیکس اور ٹارگٹڈ حملوں کی دھمکیاں ایک خوفناک جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ 26 فروری کے بعد 27 فروری کو بھارتی طیاروں نے ایک بار پھر پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تو پاکستان نے اس کے دو طیارے مار گرائے جن میں سے ایک کا ملبہ پاکستان میں گرا اور اس کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرلیا گیا، بعد ازاں پاکستان نے خیرسگالی اور خطے کے امن کو برقرار رکھنے کی خاطر گرفتار پائلٹ ابھی نندن کو غیرمشروط طور پر بھارت کے حوالے کردیا۔ اس واقعہ کے بعد بھارت کو جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑا اور عالمی رائے عامہ پاکستان کے حق میں ہوگئی۔ چند روز کے بعد صورت حال میں بہتری آنے لگی اور یوں محسوس ہونے لگا کہ بھارتی جارحیت کے بعد خطے پر جنگ کے جو بادل چھا گئے تھے وہ چھٹنے لگے ہیں اور دونوں ممالک اب اپنے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں گے لیکن بھارت کی جانب سے ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا جس سے بہتری کی امید بندھتی۔ بھارت نے پاکستان کو پریشان کرنے کے لیے کنٹرول لائن پر فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور پاکستان کے بار بار انتباہ کے باوجود اس میں کمی نہیں کی۔ اب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 16 سے 20 اپریل تک بھارتی جارحیت کے جس خطرے کے نشاندہی کی ہے اس سے پورے خطے کا امن ایک بار پھر داؤ پر لگ سکتا ہے اور اگر بھارت واقعی سرجیکل سٹرائیکس کی آڑ میں پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پاکستان بھارت کے اس جارحانہ رویے پر قطعی خاموش نہیں رہے گا اور اسے بھرپور جواب دے گا۔ خدانخواستہ ایسی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے تو دونوں ممالک کے درمیان بات بڑھتے بڑھتے جنگ تک پہنچ سکتی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہ الیکشن جیتنے کے لیے ہر جائز اور ناجائز حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان کے خلاف نفرت انگیز اور جنگی فضا قائم کرنا بھی ان کے انتخابی ایجنڈے کا ایک حصہ ہے۔ حیرت انگیز اور افسوسناک امر یہ ہے کہ نریندر مودی اپنی پانچ سالہ کارکردگی پر الیکشن لڑنے کے بجائے خطے میں جنگی ماحول پیدا کرکے الیکشن جیتنے کا نامناسب اور غیرذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت پر واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے جارحیت کا مظاہرہ کیا تو ہم اپنے ملک کے دفاع کا بھرپور حق رکھتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ بھارت کی جانب سے ایسی حماقت دوبارہ دہرائی جائے۔ پاکستان کل بھی امن کا داعی تھا اور آج بھی ہے۔ اس نے رواں ماہ 360 بھارتی قیدی رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت کی جانب سے جب ایل او سی کو عبور کرتے ہوئے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کے باوجود پوری دنیا خاموش رہی، جو ایک خطرناک رجحان کی غمازی کرتا ہے۔ اگر عالمی برادری بھارتی جارحیت کا نوٹس لیتی اور اقوام متحدہ نے اس کے خلاف قرارداد مذمت پیش کی ہوتی تو اس سے یقیناًبھارت پر دباؤ پڑتا اور وہ مستقبل میں کسی قسم کی جارحیت سے گریز کرتا۔ عالمی برادری کی اس خاموشی ہی سے اسے شہ ملی۔ عالمی برادری کو پاکستان کے خدشات کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے اور بھارت سے جواب طلب کیا جانا چاہیے۔ امریکہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر مستقل ارکان کو جنوبی ایشیا کی سنگین صورتحال کا فوری طور پر نوٹس لینا چاہیے تاکہ بھارت کسی ممکنہ مہم جوئی سے باز رہے۔ ادھر پاکستان کو بھارت کی تمام سرگرمیوں پر گہری نظر رکھتے ہوئے اپنی دفاعی تیاریاں مکمل رکھنی چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔

اب با ت کر تے ہیں اسرا ئیل کے اپنے مذ مو م عز ائم کی۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صاف صاف بتادیا ہے کہ مستقبل کے لیے اسرائیل اور فلسطین کے مابین جو امن منصوبہ تیار کیا جارہا ہے، اس منصوبے میں خواہ کچھ بھی شرائط ہوں،لیکن اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں جو یہودی بستیاں قائم کی ہیں، ان میں سے کوئی ایک بھی کم نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کسی اسرائیلی نو آبادی میں سے کسی ایک فرد کو بھی کم کیا جائے گا۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے ایک ٹی وی چینل کے ساتھ اپنے انٹرویو میں نتن یاہو نے کہا کہ اگر امن منصوبے کی خاطر مقبوضہ مغربی کنارے سے کوئی ایک اسرائیلی نو آبادی بھی ختم کرنے کی تجویز آئی تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ انٹرویو جمعہ کے دن براڈ کاسٹ کیا گیا۔ اسرائیل میں انتخابات کے بعد کسی وقت امریکہ امن منصوبے کا اعلان کرے گا۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا اسرائیل کو پتہ ہے کہ امریکہ امن منصوبہ کے مندرجات کیا ہیں، نتن یاہو نے کہا وہ جانتے ہیں کہ اس منصوبے کے اندر کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کے تمام علاقے پر اسرائیل اپنا مکمل قبضہ چاہتا ہے اور امریکی امن منصوبے کے لیے اسرائیل کی طرف سے یہی ایک شرط ہے جس سے اسرائیل پیچھے ہٹنے کو ہرگز تیار نہیں۔ نتن یاہو نے کہا کہ ہم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صاف صاف بتادیا ہے کہ اسرائیلی اپنی نو آبادیوں میں کسی قسم کی تخفیف قبول نہیں کرے گا۔ کوئی ایک آبادی بھی کم نہیں کی جائے گی اور نہ کسی اسرائیلی آبادی کے کسی ایک شخص کو بھی کم کیا جائے گا تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں شک ہے کہ ایسی کوئی تجویز امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو پیش کی جائے گی۔ نتن یاہو نے مزید کہا کہ اگر اس قسم کی کوئی تجویز امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو پیش کی گئی تو اسرائیل امن مذاکرات کی میز سے اٹھ کر باہر نکل جائے گا۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں فلسطین کے وسیع علاقے پر قبضہ کرلیا تھا اور پھر تمام مقبوضہ علاقے پر اسرائیل نے یہودی بستیاں تعمیر کرنا شروع کردیں۔ حالانکہ بین الاقوامی برادری نے نہ اسرائیلی قبضہ کو قبول کیا تھا اور نہ ہی مقبوضہ علاقے میں یہودی بستیوں کو قبول کیا گیا ہے بلکہ اسرائیلی فلسطین تنازعہ میں یہودی بستیوں کو سب سے بڑی رکاوٹ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اس کا کوئی سد باب نہیں کیا جاسکتا کیونکہ امریکہ غاصب اسرائیل کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے اور اس نے اسرائیل کے ایسے مطالبات بھی تسلیم کرلیے ہیں جن کی قبولیت کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی یعنی تل ابیب کی جگہ مقبوضہ بیت القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلینا اور اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کردیا۔


ای پیپر