خوشحالی کا در۔۔۔گوادر
14 اپریل 2019 2019-04-14

آج مجھے 1958ء یاد آرہا ہے جب اس وقت کے وزیر اعظم محترم فیروز خان نون کا ایک ریڈیو پیغام نشر ہواتھا۔7ستمبر کی شام وزیر اعظم فرما رہے تھے کہ گوادر پاکستان کا حصّہ بن گیا ہے۔ گوادر کے شہری یقین رکھیں کہ ان کو وہی حقوق ملیں گے جو پاکستان کے دیگر شہریوں کو مل رہے ہیں۔

پاکستان پر خالق کائنات کا خاص کرم ہے کہ وہ گاہے بگاہے اس مملکت اسلامی کے استحکام کے اسباب پیدا فرماتا رہتا ہے۔ گوادر خریدنے کیلئے جو معمولی رقم درکار تھی وہ بھی پاکستان کے پاس نہیں تھی۔بحیرہ عرب کے ساحلوں پر واقع گہرے اور گرم پانیوں والی بندرگاہ کا فیصلہ پاکستان کے حق میں آگیا تھا لیکن تین سو ملین ڈالر کہاں سے آتے ؟۔ میںآج پرنس کریم آغا خان مرحوم کی روح کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جن کے معقول عطیہ نے یہ مشکل بھی حل کردی۔ حکومت پاکستان نے چندے کی کوئی اپیل نہیں کی تھی۔بڑی خاموشی کیساتھ چند دوستوں کے تعاون سے رقم کی ادائیگی کی گئی اور وہ گوادر جو کبھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فوجوں نے فتح کیاتھا اور مغل دور میں شہنشاہ اکبر کی سلطنت کا حصہ رہا تھا وہ قیام پاکستان کے دس سال بعد اہل مکران کی مرضی و منشا کے عین مطابق پاکستان کو مل گیا۔پہلے صوبہ بلوچستان کی تحصیل بنا، پھر ضلع بنا اور اب ڈویژن کا درجہ پا چکا ہے۔ مچھلی فروشوں اور مچھلی خوروں کا یہ ساحل اب چین ،سنڑل ایشیا اور روس کا تجارتی گیٹ وے بننے جارہا ہے۔

آزمائشی طور پر یہاں بحری جہاز لنگر انداز ہوچکے ہیں۔گزشتہ برس فوڈ آئٹمز سے بھرا ہوا ایک چینی جہاز دبئی کیلئے بھیجا گیا تھا۔ گوادر ائیر پورٹ کا افتتاح ہوچکا ہے۔ اگر بجلی اور پانی کے منصوبے بروقت مکمل ہوگئے تو دوتین سال میں یہ پورٹ مکمل طور پر فنکشنل ہوجائے گا ،ہمارا گوادر راتوں کو بھی جگمگ کرتا دکھائی دے گا۔پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کیلئے تجارت کا ایک بہت بڑا راستہ کھل جائے گا۔ہم اپنے گوادر میں جہاز کے عرشے پر کھڑے ہو کر اومان کی روشنیوں کو دیکھیں گے ،چاہ بہار پر بھارتی جہازلنگر انداز ہوتے نظر آئیں گے ،وہ ہمیں دیکھیں گے اور اگر ایکدوسرے کو ہمسایوں کی نظر سے دیکھا گیا تو اس خطے میں بسنے والے تین ارب انسانوں کی زندگیوں میں خوشحالیاں نظرآئیں گی ،مسکراہٹیں بکھریں گی اور رحمتیں برسیں گی۔

پاکستان کو کسی نہ کسی طور غیبی مدد حاصل ہوجاتی ہے۔ پہلے پہل یہ عالمی اہمیت کی پورٹ سنگا پور کی کپمنی کے حوالے کی گئی۔لیکن ہم مطلوبہ زمیں سنگاپور کمپنی کے حوالے نہ کر سکے۔ معاہدہ ختم ہوگیا۔خیال تھا کہ اب اس منصوبے کیلئے کون سرمایہ کاری کریگا۔ اسی دوران چین نے اپنے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا اعلان کردیا اور گوادرکی اہمیت کے پیش نذر اسے چینی منصوبے کا لازمی حصہ بننا تھا۔ جناب آصف علی زرداری نے چین کے ساتھ طویل مذاکرات کئے اور یوں اصولی طور پر دونوں ممالک گوادر سمیت ’’سی پیک‘‘ پر متفق ہوگئے۔بعد ازاں میاں محمد نوازشریف نے اس منصوبے پر عملی کام شروع کرادیا۔اب تو پچاس فیصد کام مکمل بھی ہوچکاہے۔صرف سچے جزبوں کی ضرورت ہے اور خوشحالی کا یہ در یعنی گوادر کھلنے والاہے۔

گوادر ہی دراصل گیم چینجر ہے۔اس کے حوالے سے ہر روز قومی سطح پر غوروفکر ہونا چاہیے اور چین کیخلاف جاری میڈیا مہم کا توڑ ہوتے رہنا چاہیے۔جناب مجیب الرحمن شامی پاکستان کے صف اول کے دانشور ہی نہیں وہ پاکستانیت کے بھی محافظ ہیں۔ گوادر کی کامیابی پاکستان کا استحکام ہے۔روزنامہ پاکستان نے آج کی کانفرنس کا انعقاد کرکے دراصل استحکام پاکستان میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔آج ہمیں گوادر خریدنا نہیں گوادر بچانا ہے۔یہ بھی قومی بقا ہی کی جنگ ہے۔شامی صاحب اس بقا کی جنگ میں ہمارے جرنیل ہیں اور ہم سب ان کے سپاہی ہیں۔ قومی نوعیت کے پروگرام کرانے والے سپاہی شہزادہ علی ذوالقرنین اور میاں اشفاق انجم نے بروقت اور بہترین پروگرام مرتب کرکے پاکستان کے مایوس کن ماحول میں اْمید کا دیا جلایا ہے۔میڈاس گروپ اور دوسرے اسٹیک ہولڈرز نے دامے درمے سخنے شرکت کرے اس کانفرنس کو کامیاب کیا ہے۔ سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ جس کاروباری سرگرمی سے استحکام پاکستان کی منزل آسان ہو اس کے پھلنے پھولنے کی دعا ہونی چاہیے۔

مجھے گوادر کے مقامی لوگوں سے وزیر اعظم فیروز خان نون کا کیاہوا وعدہ یاد آرہا ہے۔اگر اس عظیم بندرگاہ سے مکرانیوں کی زندگیوں میں کوئی بہتری نہ آئی اور وہ اپنی پیٹ کی بھوک مٹانے کیلئے سمندر پر تپتی دھوپ میں ہی تیرتے رہے تو پھر پاکستان کے قیام کے مقاصد پر ایک بار پھر پانی پھر جائے گا۔فلاحی ریاست کاآغاز گوادر کے محروم پاکستانیوں سے کرنا ہوگا۔ہم انہیں چین کی نوازشات پر نہیں چھوڑ سکتے۔وہ پاکستان کے محسن ہیں اور احسان کا بدلہ چکانے کا وقت ابھی ہے ،اور یہ کسی اور کی نہیں ہماری ذمہ داری ہے۔


ای پیپر