آپ ہمارے ہیرو ہیں
14 اپریل 2019 2019-04-14

جے ایف 17 تھنڈر بلاک 2 طیارے جدید میزائل، گن اور بم ٹیکنالوجی سے لیس ہیں ۔ ان میں 23 ملی میٹر دہانے والی اور دوہری نال کی حامل جی ایس ایچ 23۔2 توپ نصب ہے۔ اس کے علاوہ ان طیاروں میں سات ہارڈ پوائنٹس ہیں جن میں سے چار انڈر ونگ، 2 ونگ ٹپس پر اور 1 طیارے کے فیوزلاج (مرکزی ڈھانچے) کے نیچے ہوتا ہے۔فضا سے فضا میں حملہ کرنے کیلیے پی ایل 5EII (شارٹ رینج) اور حدِ نگاہ سے دور تک مار کرنے والا ایس ڈی 10 اے بی وی آر میزائل شامل ہیں ۔ فضا سے زمین پر مار کرنے کیلیے سی ایم 102 اینٹی ریڈی ایشن میزائل، جبکہ فضا سے سمندر تک مار کرنے کیلیے سی 802 اے کے اینٹی شپ میزائل اور سی ایم 400 اے کے جی ’’کیریئر کلر‘‘ اینٹی شپ میزائل نصب کیے جاسکتے ہیں ۔ علاوہ ازیں، عمومی مقاصد کے بموں میں ایم کے 82، 83، 84، رن وے تباہ کرنے کیلیے ’’ماترا‘‘ ڈیورینڈل، اور راک آئی ایم کے 20 بکتر شکن کلسٹر بم شامل ہیں ۔ لیزر گائیڈڈ بموں میں جی بی یو 10، 12، اور 16 بم، جبکہ جی پی ایس سے رہنمائی لینے والے ایل ایس 6 میزائل بھی شامل ہیں ۔ان سب کے علاوہ ایئربورن کے جی 300 جی سیلف پروٹیکشن جیمنگ پوڈ بھی جے ایف 17 تھنڈر بلاک 2 کا حصہ ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر بلاک ٹو، 12000 کلوگرام سے زائد وزن لے جانے کے صلاحیت رکھتے ہیں ۔اسے اڑنے کے لیے تقریباً 600میٹر رن وے درکار ہے۔جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 بھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔ یہ بلاک 2 سے کئی گنا بہتر ہے اور اپنی خصوصیات کی بدولت تقریباً ففتھ جنریشن طیاروں کے قریب ہے۔ اس کا ڈیزائن اور انجن مکمل ہو چکے ہیں ۔

بلاک 3 میں کے ایل جے 7 اے ای ایس اے ریڈار سسٹم نصب ہوگا جو اپنی رینج کے اعتبار سے بھارت کو فروخت کیے جانے والے رافیل طیاروں میں نصب آر بی ای 2 اے اے، اے ای ایس اے ریڈار کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقتور ہے۔ پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں میں یہ ریڈار سسٹم استعمال ہورہا ہے، جسے دشمن کے ریڈار سے پکڑنا تقریباً ناممکن ہے۔ماہرین کے مطابق جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 کی ایوی اونکس ایف 16 کے مقابلے میں کئی حوالوں سے بہتر ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 میں ہیلمٹ ماونٹڈ سائٹ (ایچ ایم ایس) ٹیکنالوجی نصب کی گئی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پائلٹ کو ٹارگٹ لاک کرنے کے لیے طیارے کو ٹارگٹ کی طرف موڑنا نہیں پڑتا بلکہ ٹارگٹ لاک کرنے کے لیے پائلٹ کو ٹارگٹ کی طرف ایک نظر دیکھنا ہو گااور پلک جھپٹنے میں ٹارگٹ لاک کر کے میزائل فائر ہو جائے گا۔ یہ ٹیکنالوجی دنیا میں نئی ہے اور ففتھ جنریشن طیاروں میں استعمال ہو رہی ہے۔ جے ایف 17 بلاک 1,2 میں آر ڈی 93 انجن استعمال ہوئے ہیں جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 2222 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ بلاک 3 میں ڈبلیو سی 30 انجن استعمال کیا گیا ہے جس کی رفتار 2500 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جو کہ انڈین رافیل کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس کی فیول کپیسٹی تقریباً ایف 16 بلاک 52 جتنی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ ایف سولہ کی نسبت زیادہ وزنی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ان خوبیوں کے ساتھ جے ایف 17 ففتھ جنریشن کیٹگری میں شامل ہوجاتا ہے اور سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ پوری دنیا میں اس کی قیمت اپنے مقابلے کے کسی بھی طیارے کی قیمت سے کم ہے۔

اگر پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر اور بھارت کے فرانس سے حاصل کردہ رافیل طیاروں کا موازنہ کیا جائے تو کارکردگی اور خرچ کے اعتبار سے پاکستان کو بھارت پر واضع برتری حاصل ہوتی ہے۔ ایک رافیل طیارے کی قیمت میں پاکستان تین جے ایف 17 تھنڈر طیارے تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مورخ گواہ ہے کہ پاکستان سے چار گنا زیادہ اسلحہ اور فضائی قوت ہونے کے باوجود پاکستان کو ہندوستان پر ہمیشہ فضائی برتری حاصل رہی ہے۔ اس کی وجہ ٹیکنالوجی میں مہارت کے ساتھ حب الوطنی کا جذبہ اور ملک کی حفاظت کا جنون بھی ہے۔ 1965ء کی جنگ میں پاکستان نے-86 F امریکی طیارے استعمال کیے جبکہ بھارت نے روس سے درآمد شدہ نئے مگ 21 طیارے استعمال کیے۔ جدید طیارے ہونے کے باوجود بھارت کو بری طرح شکست ہوئی۔ 1971 اور کارگل میں فضائی جنگ نہیں ہوئی اور ستائیس فروری 2019 کے نتائج دنیا کے سامنے ہیں ۔یہاں تک کہ مودی صاحب کو یہ بیان دیکر پوری دنیا کے سامنے شکست تسلیم کرنا پڑی کہ رافیل طیارے نہ ہونے کی وجہ سے بھارت کو پاکستان سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اگر رافیل طیارے بھی ہوں تو بھی بھارت پاکستان سے فضائی محاذ پر کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ بھارت کے پاس ائیر مارشل شاہد لطیف جیسے جانباز نہیں ہیں ۔ جنھوں نے اپنی ساری زندگی پاکستانی ائیر فورس کی برتری قائم رکھنے کے لیے وقف کر دی اور حسن صدیقی جیسے جوانوں پر مشتمل ایک ایسی فضائی فوج تیار کی ہے جو کارکردگی اور محب الوطنی میں کوئی ثانی نہیں رکھتی۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ ائیر مارشل شاہد لطیف ہمارے ہیرو ہیں ۔ آپ آنے والی نسلوں کے لیے رول ماڈل ہیں اورپاکستان کی فضائی برتری کی داستان آپ کے ذکر کے بغیر ہمیشہ ادھوری رہے گی۔

کالم کے اختتام پر میری وزیراعظم عمران خان صاحب سے گزارش ہے کہ ہمیں پاکستان کے اس ہیرو کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ جے ایف 17 تھنڈر کی کامیابی کے بعد انھیں ایسے پروجیکٹ کی سربراہی سونپی جائے جس میں چائینیز کے ساتھ معاملات طے کرنے ہوں۔ جہاں چائینیز کے ساتھ پروجیکٹ مینجمنٹ کی تکنیک مہارت سے استعمال کرنے کی ضرورت ہو اور جہاں کم عرصہ میں بہترین نتائج لینا مقصود ہوں۔کیونکہ چائینیز سے کس طرح کام لینا ہے یہ پاکستان میں شاہد لطیف صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ سی پیک اس وقت مسائل کا شکار ہے۔ پچھلی حکومت کی غلط پالیسیوں اور پروجیکٹ مینجمنٹ سے عاری لوگوں کی تعیناتی کی وجہ سے سی پیک کی سمت درست نہیں ہو سکی۔ میری آپ سے گزراش ہے کہ پاکستان کی بہتری کے لیے شاہد لطیف صاحب کو سی پیک کی سربراہی سونپ دیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اس پروجیکٹ کو بھی اسی احسن طریقے سے لے کر چلیں گے جس طرح جے ایف 17 تھنڈر پروجیکٹ کو لے کر چلے تھے۔ انھوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کو وہاں بھی منوایا اور یہاں بھی منوائیں گے۔ وزیراعظم صاحب جس طرح آپ کے کامیاب پروجیکٹس کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی عوام نے آپ کو وزیر اعظم منتخب کیا ہے بالکل اسی طرح ائیر مارشل(ر) شاہد لطیف صاحب کے ماضی کے کامیاب پروجیکٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے فائدہ حاصل کیا جائے۔ آپ کے باقی فیصلوں کی طرح یہ فیصلہ بھی پاکستان کے حق میں بہتر ثابت ہو گا۔


ای پیپر