مہنگائی: نگرانوں کی نگرانی کون کرے گا
14 اپریل 2019 2019-04-14

بادشاہ سلامت نے شاہی اصطبل کے لیے مہنگا ترین گھوڑا خریدا۔ کچھ دن بعد بادشاہ نے وزیر کے ہمراہ اپنے پسندیدہ گھوڑے کو دیکھنے کے لیے اصطبل کا دورہ کیا اور وزیر کو کہا کہ گھوڑا کمزور ہو رہا ہے ۔ وزیر نے معاملے کی تحقیقات کی اور بادشاہ کو بتایا کہ گھوڑے کا نگران اس کی خوراک میں بدعنوانی کرتا تھا مگر بادشاہ سلامت آپ فکر نہ کریں ہم نے اُس کے اوپر ایک اور نگران مقرر کر دیا ہے جو نگران کی نگرانی کرے گا ۔ بادشاہ وقتی طور پر خاموش ہو گیا کچھ عرصے کے بعد وہ دوبارہ اصطبل گیا تو دیکھا کہ گھوڑا پہلے صرف کمزور تھا اب بیمار بھی ہے اس نے پھر وزیر کو اصلاح احوال کا کہا وزیر صاحب نے بادشاہ کو رپورٹ دی کہ نگران کے اوپر جو دوسرا نگران مقرر کیا گیا تھا وہ پہلے نگران سے ملا ہوا ہے لہٰذا اب ہم نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ایک تیسرا نگران لگا دیا گیا ہے جو دونوں نگرانوں کی کرپشن کو آہنی ہاتھ سے کچل دے گا جیسے جیسے نگرانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا شاہی گھوڑے کی صحت مزید بگڑتی گئی اور ایک دن بادشاہ کو خبر دی گئی کہ گھوڑا مر گیا ہے۔ یہ گھوڑا پاکستان کے بد قسمت عوام ہیں جنہیں مہنگائی نے چیر پھاڑ کر رکھ دیا ہے۔ حکومت خود تسلیم کر رہی ہے کہ اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ 19 فیصد ہے مگر یہ اعداد و شمار دوست نہیں ہیں جب 200 روپے والی دوائی 400 سے 600روپے تک ہو جائے سادہ ریاضی سے حساب لگا لیں اس میں کسی کیلکولیٹر کی ضرورت نہیں کہ مہنگائی کی شرح کیا ہے۔ اس تمثیل میں جو گھوڑے کی دیکھ بھال پر مامور نگرانوں کی فہرست ہے وہ وزراء سے شروع ہوتی ہے اور بیورو کریسی سے ہوتی ہوئی ذخیرہ اندرون ناجائز منافع خوروں اور مہنگائی مافیا کہ آخری loop تک جاتی ہے جس میں سبزی فروش دودھ فروش ڈاکٹر حکیم ٹرانسپورٹر رکشا ویگن پٹرول فروش سارے شامل ہیں۔

رمضان کی آمد سے پہلے ہی منافع مافیا متحرک ہو چکا ہے دوسرے ملکوں میں ماہ صیام مسلمانوں کو اللہ سے نزدیک کرتا ہے مگر ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں ہر شخص دوسرے کا گلا کاٹ رہا ہے ہر شخص بیک وقت ظالم بھی ہے اور مظلوم بھی کیونکہ ایک طرف وہ دوسرے کا حق مارتا ہے جبکہ دوسری طرف سے اور خود بھی کسی اور کے ظلم کا شکار ہو جاتا ہے ہمارے ہاں عام طو رپر گھناؤنے جرائم کے حوالے سے لاقانونیت کا لفظ استعمال ہوتا ہے مگر عملاً آپ دیکھیں تو مہنگائی سے بڑھ کر کوئی لاقانونیت نہیں ہے۔ ہر شخص روز مرہ لین دین میں اپنی اپنی اشیاء کی منہ مانگی قیمت وصول کر رہا ہے مگر اُسے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ اس لاقانونیت کا سب سے پہلا شکار غریب اور بے آواز طبقہ ہے مہنگائی نے ان سے تن کے کپڑے بھی کھینچ لیے ہیں مگر حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی۔ عوام لٹ رہے ہیں پس رہے ہیں جبکہ مافیا صورت حال سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور راتوں رات قیمتیں بڑھا کر لاکھوں لگاؤ اور کروڑوں کماؤ کا عملی نمونہ پیش کر رہا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کی شرح بے لگام حد تک زیادہ ہے اور 90 فیصد مہنگائی کا تعلق پٹرول کی قیمت یا ڈالر کی شرح مبادلہ سے نہیں بلکہ غیر اخلاقی ، غیر قانونی مجرمانہ اور من مانی قیمتوں کے اضافے کے ساتھ ہے جس کی ساری کی ساری ذمہ داری حکومت کی ہے اگر ناجائز گراں فروشی پر سزائیں دی جائیں تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر مہنگائی کے معاملے میں حکومت مکمل طور پر بے بس بلکہ منظر سے غائب ہے۔

کچھ عرصہ پہلے مجھے اندرون سندھ سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ہائی وے پر جگہ جگہ غریب کسان اپنی سبزیاں سڑک پر رکھ کر فروخت کر رہے تھے جب ٹماٹر کی قیمت پنجاب میں 100 روپے کلو تھی تو وہاں ٹماٹر 15 سے20 روپے کلو بک رہے تھے اسی طرح سندھ میں آم 40 روپے کلو تھے جبکہ پنجاب کی ریڑھیوں پر اس کا ریٹ 80 سے 100 روپے تھا۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ جب اجناس اور سبزیاں اتنی مہنگی ہو چکی ہیں تو کاشتکار طبقہ تو بہت امیر ہو چکے ہوں گے۔ ہرگز نہیں ان کی حالت پہلے سے بدتر ہے سارا منافع مڈل مین ٹرانسپورٹر آڑھتی منتھلی لینے والے حکومتی اہل کاروں اور بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے ایک طرف عوام دو گنا قیمت پر خریداری کرتے ہیں مگر پھل اور سبزیاں پیدا کرنے والا کسان پھر بھی پہلے سے زیادہ بھوکا ننگا رہتا ہے یہ ظلم کا نظام کیسے اور کتنی دیر تک چلے گا ۔

مہنگائی کنٹرول کرنے پر بات کرنے سے پہلے یہ ذہن نشین رکھیں کہ ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لیے محکمہ اینٹی کرپشن بنا تو انہوں نے خود رشوت لینا شروع کر دی اس صورت حال میں ایف آئی اے وجود میں آیا جب وہ بھی اینٹی کرپشن ثابت ہوا تو قومی احتساب بیورو بنا دیا گیا یعنی جیسا کہ شروع میں عرض کیا ہے کہ نگران بڑھتے گئے مگر بدعنوانی بھی ساتھ ساتھ اسی رفتار سے بڑھتی گئی۔ بالکل اسی طرح حکومت نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ مقرر کر رکھے ہیں ضلعی حکومتیں کام کر رہی ہیں روزانہ اے سی اور ڈی سی چھاپے مارتے ہیں مگر نہ ملاوٹ کنٹرول ہوتی ہے نہ چور بازاری یہ کم ہونے کی بجائے اور بڑھ جاتی ہے۔ مہنگائی کا بیورو کریسی کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ سے کیا تعلق ہے۔ اندرون خانہ تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو لوگ پیسے دے کر تعینات ہوتے ہیں انہوں نے اپنا خرچہ اسی طرح پورا کرنا ہوتا ہے کرپشن کا ایک متوازی ریاستی نظام ہے جو رواں دواں ہے کوئی پارٹی ہو کوئی حکومت ہو یہ اسی طرح چلتا رہتا ہے جو اس وقت بھی چل رہا ہے۔ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ پنجاب میں کنزیومر پروٹیکشن عدالتیں کام کر رہی ہیں جو صارفین کے حقوق کے تحفظ کی ضامن ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مہنگائی روکنے سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آصف زرداری پاکستان کے صدر تھے ان کی پارٹی بر سر اقتدار تھی ان سے مہنگائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ریکارڈ کی بات ہے۔ شاید یہ ان کے منہ سے نکل گیا تھا مگر تحریک انصاف کی حکومت میں بے قابو مہنگائی کے پس منظر میں یہ بات بھی سنائی دے رہی ہے کہ عمران خان مولی گاجر سستی بیچنے کے لیے نہیں آئے بلکہ لوٹا ہوا مال واپس کروانے آئے ہیں اگر یہ مہنگائی کا جواز ہے تو میرے خیال میں یہ آصف زرداری کے بیان سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔

مہنگائی دعائیں مانگنے یا بدعائیں دینے سے ختم ہو جائے تو پھر حکومت کی کیا ضرورت ہے۔ خدا کا خوف مجرموں کو جرم سے روکنے کے لیے کافی ہوتا تو پھر حکومتیں اور عدالتیں غیر ضروری ہو جاتیں۔ نبی اکرم صلعم نے فرمایا تھا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا شخص اگر 100 دن غلے کو فروخت کرنے سے روکے رکھے تا کہ قیمت بڑھ جائے تو وہ اگر سارے کا سارا مال خیرات کر دے تو بھی اس کا قصور معاف نہیں ہوگا۔ یہ ریاست مدینہ کی مثال دینے والوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔


ای پیپر