مسٹر اردوکی وفات اور جواز جعفری ایوارڈ
14 اپریل 2019 2019-04-14

اگلے روز ہمارے ایک بہت ہی دیرینہ دوست پروفیسر مقصود حسنی قصور میں انتقال کرگئے ۔اناللہ وانا الیہ راجعون،مقصود حسنی ایک گوشہ نشین تخلیق کار تھے۔ حال ہی میں ان کے ایک شاگرد ریاض انجم نے ان کے حوالے سے ایک کتاب ” مسٹر اردو“ شائع کی۔ مقصود صفدر حسنی عمر بھر لکھنے میں مصروف رہے۔ میرا ان سے تعارف اُس وقت سے ہے جب ہم نئے نئے لاہور آئے تھے ان دنوں روزنامہ آفتاب کے ادبی ایڈیشن اور ایڈیٹوریل صفحات میرے ذمے تھے۔ مقصود حسنی ان دنوں سید مقصود ایس حسنی کے نام سے سیاسی مضامین لکھا کرتے تھے۔ ان سے بالمشافہ ملاقات نہ تھی۔ پھر جب لیکچرار شعبہ اردو گورنمنٹ اسلامیہ کالج قصور میں میری پہلی تقرری ہوئی تو معلوم ہوا مقصود حسنی بھی شعبہ اردو سے وابستہ ہیں۔ یوں پرانی شناسائی قربت اور دوستی میں بدل گئی۔ میں روزانہ لاہور سے قصور جایا کرتا تھا۔ شعبہ اردو میں اس وقت اکرام ہوشیار پوری صاحب صدر شعبہ اردو تعینات تھے۔ ان کی مشفقانہ سرپرستی اور مقصود حسنی اور عزیزی عطاءالرحمن سے دوستی کے سبب قصور میں بہت اچھا وقت گزرا۔ اکرام ہوشیار پوری ہمارے عزیز دوست اور روزنامہ نئی بات کے تجزیہ نگار جاوید اکرام کے والد گرامی تھے۔ اب بھی جب جاوید سے ملاقات ہوتی ہے ہم پہروں قصور کے احباب کو یاد کرتے ہیں اور میں انہیں ان کے والد اکرام ہوشیار پوری صاحب کی عنایتوں کے بارے میں بتاکر مسرت محسوس کرتا ہوں۔

اسلامیہ کالج قصور میں اس وقت ایک نواب صاحب پرنسپل ہواکرتے تھے۔ وائس پرنسپل ارشاد حقانی تھے جو کبھی کبھی کالج تشریف لاتے۔ علاوہ ازیں حاجی ڈوگر اسلامیات کے شعبے میں تھے بعد میں آپ سیکرٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ بھی تعینات رہے ۔ راﺅ اختر اور معین صاحب بھی تھے اردو کے شعبے میں محمد بابر، اظہر علی کاظمی، علی حسن چوہان بھی ہواکرتے تھے۔ میں عطاءالرحمن اور مقصود حسنی اکٹھے بیٹھتے اور خاص طورپر کالج کے باہر چائے کے کھوکھے پر باقاعدگی سے چائے اکٹھے پیتے تھے۔ کالج سے فراغت کے بعد لاری اڈے تک بھی یہ دونوں دوست میرے ساتھ رہتے تھے۔ چار برس میں کتنی دوپہریں اور کتنی شامیں ہم اکٹھے رہے۔ مقصود حسنی ایک درویش صفت انسان تھے۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر کتب لکھیں۔ نثری ہائیکو لکھے۔ تنقیدی وتحقیقی مضامین تحریر کیے۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ دوست انہیں مذاق میں کچھ بھی کہہ لیں مسکراتے رہتے۔ انہوں نے کبھی شہرت کے لیے نہیں لکھا۔ بے نیازی ان کی طبیعت کا حصہ تھی۔ بس ایک کونے میں بیٹھ کر انہوں نے بہت کچھ لکھا۔ ستائش اور صلے کی تمنا ہوتی تو لاہور ان سے دور نہ تھا۔ ایسے افراد جو جینوئن تخلیق کار ہوتے ہیں انہیں زیادہ نمایاں ہونے کی آرزو بھی نہیں ہوتی۔ یہی سبب ہے کہ بعض شریف النفس اور بے نیاز قسم کے افراد کے تعلقات بھی محدود ہوتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ہمارے ایک دوست غضنفر علی ندیم ہواکرتے تھے انہوں نے حلقہ تصنیف ادب بنایا ہوا تھا۔ بابائے سرائیلے کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی وفات کے بعد بھی حلقہ چلتا رہا۔ ایسے احباب کے لیے کوئی لکھنے والا نہیں ہوتا۔ نثااکبر آبادی، ایاغ عیسیٰ خیلوی ، اسماعیل عاطف اور ایسے کچھ اور نام بھی ہیں جنہیں یاد کرنے والا کوئی نہیں۔ اصل میں یہ مفادات کی دنیا ہے۔ بندے کی آنکھ بند ہوتے ہی اس کے قریبی لوگ بھی آنکھیں پھیرلیتے ہیں۔ یہاں تو بڑے بڑے نامی گرامی تخلیق کاروں کو یاد کرنے والا کوئی نہیں مسکین اور پی آر نہ رکھنے والے درویش صفت اہل قلم کو کون یاد کرے ؟....اب تو وہ زمانہ ہے کہ اپنی زندگی میں ہی ایک تخلیق کار اگر اپنی پذیرائی کو کچھ کر جائے تو کرجائے ورنہ ”اج مرے کل دُوجا دن “ لوگ اپنے کالموں میں اب اپنی تعریف و توصیف خود نہ کریں تو کیا کریں۔ ؟ سو یہ رسم دنیا بن گئی ہے کہ اگر کسی نے اچھا کھانا کھلا دیا ہے تو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہوئے اس پر کالم صرف کردیا جائے۔ کوئی مانے نہ مانے۔ لوگ رسوائی سمجھیں یا پذیرائی۔ اپنے چند احباب کو اکٹھا کرکے بھلے اپنے نام کا ایوارڈ جاری کردیا جائے۔ مرنے کے بعد کی شہرت کس کام کی۔ کیوں نہ اپنے ہوتے، اپنی پذیرائی دیکھ لی جائے۔

ہمیں خوشی ہے کہ عطاالحق قاسمی ایوارڈ کا اجراءان کی زندگی میں ہوگیا ہے۔ یہ ایوارڈ محض شیلڈز وغیرہ نہیں کیش ایوارڈ ہے۔ اور اس مہنگائی میں کیش کے بغیر عیش ناممکن ہے۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ ظفراقبال کو ایک لاکھ روپے ( ایوارڈ ) وصول کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ میں نے کہا ایوارڈ تو ایوارڈ ہوتا ہے۔ لکھ کا ہو یا ککھ کا بقول منصور آفاق اس سے قبل ہمیں جواز جعفری کے نام پر بننے والی تنظیم اور ایوارڈ پر اعتراض تھا اب عطا الحق قاسمی ایوارڈ کے بعد جواز جعفری ایوارڈ پر اعتراض نہیں رہا۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اگر ایوارڈ کتب پر دیئے جائیں تو فروغ کتب کے لیے جتنے ایوارڈ ہوں اتنے کم ہیں۔ میں نے تو یارعزیز باقی احمد پوری کو بھی کہا ہے کہ کوئی ایک شاگرد ایسا بھی نکالو، جو آپ کے نام سے نئی آنے والی کتب پر ایوارڈ دے۔ شاید اسی طرح ہماری کسی کتاب کو بھی کوئی ایوارڈ مل جائے ورنہ اکادمی ادبیات کے سرکاری ایوارڈ یا قومی سول اعزازات تو سارا شہر بھی مر جائے تو ہمیں کسی نے نہیں پوچھنا۔ دیکھئے باقی صاحب کیا کرتے ہیں۔ حالانکہ شاگرد تو ایک دو باقی صاحب کے بھی بیرون ملک موجود ہیں۔ جواز جعفری کے شاگرد عزیز اعظم منیر مبارک باد کے مستحق ہیں کہ وہ دوسال سے استاد کے نام پر ایوارڈ دیتے ہیں۔ اور جواز تو خود ان تقریبات سے دور رہتے ہیں ۔ ویل ڈن جواز ۔


ای پیپر