بابا آئین تو سلامت رہے، بی جمہوریت تیری خیر ہو
14 اپریل 2018

سپریم کورٹ وہی ہے۔۔۔ جس طرح نظریہ ضرورت کے موجد سابق چیف جسٹس محمد منیر کے وقت تھا۔۔۔ فوج بھی وہی ہے جو فیلڈ مارشل ایوب خاں کی تھی۔۔۔ حاضر سروس جرنیل سیاستدانوں کو اسی طرح حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔۔۔ جیسے پچاس کی دہائی میں ہوتا تھا۔۔۔ پارلیمنٹ پہلے اڑا کر رکھ دی جاتی تھی۔۔۔ اب اس کے ایوان بالا پر مرضی کا چیئرمین مسلط کر دیا گیا ہے۔۔۔ ایوان زیریں کا انتخاب ہونا باقی ہے۔۔۔ عام رائے یہ ہے ووٹ خواہ کسی جماعت کو بھاری تعداد میں ملیں قومی اسمبلی کو بھی معلق (HUNG) اور ماتحت بنانے کے لیے بلوچستان اسمبلی اور سینیٹ کے تجربے کو باانداز نو دہرایا جائے گا۔۔۔ ایجنسیاں اسی طرح رات کے اندھیروں میں سیاستدانوں کی وفاداریاں بدلنے کے شغل میں مصروف ہیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں۔۔۔ نیب کا ڈکٹیٹر کا قائم کردہ احتساب کے نام پر ناپسندیدہ سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے والا ادارہ آج بھی اپنے بانی کے دور کی مانند انہی خطوط پر اور اسی جذبے کے تحت کام کر رہا ہے۔۔۔ آج بھی ریاست کو سکندر مرزا اور جسٹس منیر کے ادوار کی مانند کنٹرولڈ ڈیموکریسی اور نظریہ ضرورت کے فلسفوں کے تحت چلایا جا رہا ہے۔۔۔ اگرچہ نام نہیں لیا جاتا کہ ہر دو نظریے اور ان کے بانی مطعون ہو چکے ہیں۔۔۔ قومی و عوامی سطح پر سخت ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔۔۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔۔۔ البتہ جس پاکستان کو خالصتاً جمہوری و عوامی جدوجہد اور ووٹ کی طاقت کی بنیاد پر قائداعظم اور ان کی زیرقیادت آل انڈیا مسلم لیگ نے بنایا تھا وہ کب کا اپنی اصل شکل میں باقی نہیں رہا عشروں قبل دولخت ہو چکا ہے۔۔۔ بانی پاکستان نے اپنی قائم کردہ ریاست کے امور کو چلانے کے لیے سویلین بالادستی کا نظریہ پیش کیا تھااسے پوری طرح نظرانداز کر دیا گیا ہے۔۔۔ بلکہ مسلسل رگیدا جا رہا ہے۔۔۔ بانیان پاکستان نے قرارداد مقاصد کے ذریعے اور بعد میں 1956ء کے آئین میں جس اسلامی جمہوری پاکستان کا تصور قائم کیا تھا پھر 1973ء کے اندر بقیہ پاکستان میں دوسرے اور متفق علیہ آئین تیار کرنے والوں نے بھی پوری طرح اپنا لیا۔۔۔ اس کی بجائے یہ ریاست عملاً نیشنل سکیورٹی سٹیٹ میں تبدیل کر کے رکھ دی گئی ہے۔۔۔ 1971ء کے سانحہ عظیم کے بعد جو پاکستان باقی رہ گیا ہے اس پر مقابلتاً چھوٹا اور جغرافیائی لحاظ سے Compact ہونے کی وجہ سے آہنی گرفت قائم رکھنا زیادہ آسان ہو گیا۔۔۔ جس پاکستان کے اندر ہم زندہ ہیں اور جسے ہماری پچھلی نسل کے لوگوں نے قائداعظمؒ کی قیادت میں بڑی قربانیاں دے کر بنایا تھا۔۔۔ آج بھی اس کا چپہ چپہ قوم کو جان سے زیادہ عزیز ہے۔۔۔ وہ اپنے آئین کی وجہ سے بس نام کا اسلامی جمہوریہ ہے بالفعل نیشنل سکیورٹی سٹیٹ ہے۔۔۔ اسی سوچ اور فکروعمل کے تحت اسے چلایا جا رہا ہے۔۔۔ اعلیٰ عدالتیں بھی جسٹس منیر اور بعد میں جسٹس ارشاد کے دور کی مانند اسی تصور ریاست کے آئینی اور قانونی پہیوں کا کام دے رہی ہیں۔
پرسوں جمعہ 13 اپریل کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس کی صدارت میں پانچ رکنی بنچ نے متفقہ طو رپر تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم نوازشریف کو جو عمر بھر کے لیے نااہل قرار دیا ہے وہ اسی تصور ریاست کی مسلط کردہ سوچ کا شاخسانہ ہے۔۔۔ نوازشریف اس مقدمے میں درخواست گزار تھے نہ فریق مگر اس کے تحت صادر ہونے والے فیصلے کا سب سے بڑا نشانہ بنے۔۔۔ عمران خان کے دست راست جہانگیر ترین Balancing Actکے طور پر فیصلے کی زد میں آ گئے ہیں مگر انہیں اور ان کے سیاسی قائد کو یقین ہے اس سلسلے میں ان کی جانب سے جو اپیل زیرسماعت ہے اس سے مفید مطلب نتیجہ برآمد ہو گا۔۔۔ جہانگیر ترین بالآخر بچ نکلیں گے۔۔۔ عمران خان نے اسی سبب چیف جسٹس اور ان کے ساتھی ججوں کو سلیوٹ پیش کیا ہے۔۔۔ نیشنل سکیورٹی سٹیٹ کے اندر مشہور راولپنڈی سازش کی ناکامی کے بعد اگر پہلے اور منتخب وزیراعظم اور یکے از بانیان پاکستان لیاقت علی خان کو اصل حکمرانوں کے شہر میں سرعام گولی مار کر ہلاک کیا جا سکتا ہے۔۔۔ آج تک معلوم نہیں ہو سکا پیچھے کون سی قوت کارفرما تھی البتہ اس وقت کے آئی جی پنجاب پولیس قربان علی خاں کو گورنر بلوچستان مقرر کر دیا گیا۔۔۔ ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے عہد میں سپریم کورٹ کے ایک متنازع اور منقسم فیصلے کے نتیجے میں وقت کے مقبول سیاستدان اور شب خون کے ذریعے برطرف شدہ وزیراعظم کو قتل کے الزام میں اسی شہرناپرساں کے اندر تختہ دار پر لٹکایا جا سکتا ہے تو نوازشریف کون سے باغ کی مولی
ہے اسے تاحیات نااہل نہ قرار دیا جائے۔ آئین کی 62 ون ایف نامی جس شق کے تحت تاریخی تسلسل کے غماز اس فیصلے کا صدور ہوا ہے وہ ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے اس قومی دستاویز کے اندر شامل کی تھی۔۔۔ مقصود یہ تھا اس کے ذریعے ناپسندیدہ سیاستدانوں کو پارلیمنٹ کی رکنیت اور اقتدار میں شراکت سے باہر رکھا جائے۔۔۔ نوازشریف کی غلطی تھی اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے وقت اس کے پاس موقع تھا قالین میں لگائے گئے ٹاٹ کے اس آمرانہ پیوند کو اکھاڑ باہر پھینکتا۔۔۔ ایسا نہ کیا ۔۔۔ وہی شق اس کی وزارت عظمیٰ کے لیے گلے کا طوق بن گئی ہے۔۔۔ ججوں نے اس مقصد کی خاطر شق 62 ون ایف کی اس سخت انداز اور بے رحمی کے ساتھ تشریح کی ہے کہ اپنی جڑواں شق 63 کو پیچھے چھوڑ گئی ہے اور بانیان آئین کے بنائے ہوئے آرٹیکل 17 کے الفاظ اور روح بھی زخمی ہو گئے ہیں۔۔۔ شق نمبر 63 کے تحت اگر کوئی رکن اسمبلی کتنے بڑے مالیاتی یا اخلاقی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کی سزا پانچ سال کی نااہلی ہے۔ شق نمبر 17 متقاضی ہے کہ کسی بھی شہری سے انتخاب لڑنے، سیاسی جماعت بنانے کا بنیادی حق چھینا نہیں جا سکتا کیونکہ سزا کے بعد معافی نہ صرف اسلام کا بنیادی اصول ہے بلکہ دنیا بھر کے مہذب معاشروں اور دستور ہائے مملکت میں تسلیم کیا جانے والا حق ہے۔۔۔ مگر شق نمبر 62 ون ایف کی جو تشریح سامنے آئی ہے اور جوہری لحاظ سے تشریح سے زیادہ ترمیم کا حکم رکھتی ہے اس نے مندرجہ بالا تینوں شقوں کو ایک دوسرے سے متعارض بنا دیا ہے۔۔۔ ان کے اندر باہمی ٹکراؤ پیدا کر دیا ہے۔۔۔ حالانکہ حق یہ تھا ایسی تشریح کی جاتی جو 62 ون ایف کو شق نمبر 63 اور 17 کے ہم آہنگ بنا دیتی۔۔۔ آئین کی تشریح اسی اصول اور فلسفے کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے۔۔۔ اگر زنا یا چوری کے مرتکب رکن اسمبلی کی سزا پانچ سال کی نااہلی ہے مگر عوام کے ووٹوں کے ذریعے بار بار منتخب وزیراعظم پر محض اس جرم کی پاداش میں تاحیات نااہلی مسلط کر دی جائے کہ بیٹے کی غیرملکی کمپنی میں اس کا نام (جلاوطنی کی حالت میں دبئی اور برطانیہ آنے جانے کے لیے ویزوں کی خاطر) بطور ملازم درج تھا۔۔۔ تنخواہ کے خانے میں بھی دس ہزار درہم لکھے ہوئے تھے وہ اگر کبھی وصول نہیں بھی کئے تو اس ’’اثاثے‘‘ کو 2013ء کے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیوں نہیں کیا۔۔۔ واضح رہے پاکستان کے انکم ٹیکس قوانین کے تحت ایسی تنخواہ جو کبھی آپ کے ہاتھ اور جیب یا بینک اکاؤنٹ تک نہ پہنچی ہو اثاثہ نہیں کہلاتی۔۔۔ مگر نوازشریف کے نام درج تنخواہ کو اثاثہ قرار دینے کی خاطر غیرملکی بلیک ڈکشنری کا سہارا لیا گیا۔۔۔ اس انوکھے انصاف کو آنے والے دور میں کن الفاظ میں یاد کیا جائے گا۔۔۔ اس سے قطع نظر لمحہ موجود کے اندر جسے نشانہ بنانا مقصود تھا بنا لیا گیا۔۔۔ جو ہدف حاصل کرنا تھا کر لیا گیا ہے۔۔۔
نوازشریف اور ان کی جماعت کے قائدین و کارکنان جو چاہے کہتے رہیں کہ ان کا ووٹ بینک پہلے سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔۔۔ 2000ء میں بھی ڈکٹیٹر مشرف کے زیرسایہ عدالتوں نے انہیں طیارہ ہائی جیکنگ کے خانہ ساز مقدمے میں 14 سال کی قید، دو کروڑ روپے جرمانہ اور اکیس برس تک نااہلی کی سزا دی تھی۔۔۔ کیا وہ پانی کا بلبلہ ثابت نہ ہوئی۔۔۔ اس کے بعد وطن واپس آ کر عوامی حمایت اور ووٹوں کی طاقت کی بنا پر نوازشریف نے تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا کر نئی تاریخ رقم کی۔۔۔ اب بھی اس سے ملتی جلتی کہانی دہرائی جائے گی۔۔۔ مگر معلوم ہونا چاہیے یار لوگوں نے اس کا پیشگی بندوبست کر رکھا ہے۔۔۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا خفیہ ٹیلیفونوں اور ملتی جلتی دوسری تدابیر کے ذریعے ایسے ہتھکنڈے ایجاد کر لیے گئے ہیں کہ اس مرتبہ مسلم لیگ (ن) واضح یا واحد اکثریتی جماعت کی حیثیت سے نہ ابھر سکے۔۔۔ پانامہ مقدمہ زیربحث ہے اگرچہ ابھی تک کوئی الزام ثابت نہیں ہو پایا مگر سزا دینی کون سی مشکل بات ہے۔۔۔ سابق وزیراعظم کو اُسی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ڈال کر نااہلی پر مہر تصدیق ثبت کر دی جائے گی۔۔۔ نیب نے جو ان کے خلاف ریفرنس تیار کر رکھے ہیں اور جواب طلبی کے لیے اس کی جناب میں پیش ہونے کا کہا جا رہا ہے سو علیحدہ۔۔۔ لہٰذا مقتدر لوگوں کے نزدیک ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔۔۔ محترم چیف جسٹس ثاقب نثار نے فرمایا ابھی تو انہوں نے پچاس ازخود نوٹس جاری کئے ہیں ضرورت پڑی تو مزید کا جراء ہو گا۔۔۔ 14 فروری کو جب نااہلی کا فیصلہ لکھ کر محفوظ کر لیا گیا تھا ازخود نوٹس بھی ان دنوں آگے پیچھے سامنے آنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔ ان کے تحت نواز اور شہباز حکومتوں کی کارکردگی کو وہ جیسی بھی تھی عوام کی نظروں میں گرانے کی کوشش کی گئی۔۔۔ یہاں تک کہ حکومت کاری کا عمل تقریباً منجمد ہو کر رہ گیا ہے۔۔۔ کیونکہ کوئی سرکاری افسر بڑا انتظامی قدم اٹھانے کی جرأت نہیں کرتا مبادا احد چیمہ کے انجام سے دوچار ہونا پڑے۔۔۔ حق یہ ہے چیف جسٹس صاحب کے پیمانوں کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو ہمسایہ ملک بھارت میں نریندر مودی کی حکومت اپنی عدالتوں کے ہاتھوں بہت بڑی مجرم ٹھہرا دی جائے گی۔۔۔ وہاں غربت جس طرح تگنی کا ناچ ناچتی ہے۔۔۔ ہسپتالوں میں عام درجے کے مریضوں کی جو درگت بنتی ہے اور دیگر شعبوں میں پراگندگی اور ناقص کارکردگی کا جو عالم ہے۔۔۔ اسے سامنے رکھتے ہوئے بھارت کی سپریم کورٹ ہمارے چیف جسٹس صاحب کے نقش قدم پر چل پڑے تو اس کی پوری انتظامی مشینری مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔۔۔ ہر جانب خاک اڑتی نظر آئے گی۔۔۔ کیا بھارت میں کوئی اس کی اجازت دے گا یا برداشت کر لے گا۔۔۔ بھارت تو خیر ہماری طرح پسماندہ ملک ہے۔۔۔ امریکہ کے انتہائی ترقی یافتہ اور مہذب ترین کہلانے والے ملک کے اندر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے منتخب صدر پر جس شدت کے ساتھ تنقید کی جا رہی ہے اور اسے فہمیدہ حلقوں کی جس سخت مخالفت کا سامنا ہے اس کے پیش نظر اگر امریکہ کا چیف جسٹس ازخود نوٹس لینا شروع کر دے اور حکومتی و انتظامی مشینری کا پہیہ ہماری طرح منجمد ہونے کو آ جائے تو امریکی سپریم کورٹ کے اس رویے کو کس نظر سے دیکھا جائے گا۔۔۔ یہ جاننے کے لیے امریکی سیاسیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کا حامل ہونا ضروری نہیں، مگر ہمارا باوا آدم نرالا ہے۔۔۔ یہاں سب کچھ جائز ہے۔۔۔ ایک منتخب حکومت کے مستقبل کے بارے میں جو فیصلے عوام نے کرنے ہیں وہ کہیں اور سے صادر ہو رہے ہیں وہ بھی عام انتخابات سے دوچار ماہ پہلے ۔۔۔ اس سب کے باوجود یہ بات نوازشریف کے کریڈٹ میں جاتی ہے کہ باد مخالف کی تیز اور تھپیڑے دار ہواؤں کے مقابلے پر ڈٹ کر کھڑا ہے۔۔۔ اسے اپنی عوامی طاقت پر یقین ہے۔۔۔ اس سے قبل کسی وزیراعظم نے چٹان کی مانند مخالف قوتوں کا جنہیں وہ غیرآئینی اور غیرجمہوری سمجھتا ہے مقابلہ شاید نہ کیا تھا۔۔۔ بابا آئین تو سلامت رہے، بی جمہوریت تیری خیر ہو ۔۔۔ منتخب وزیراعظم کو نکال باہر کرنے کی خاطر تم دونوں کو بھی کبڑا بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔۔۔ خدا آپ کا اس ملک اور آنے والی نسلوں کا حامی و ناصر ہو ۔


ای پیپر