جن کو اپنی خبر نہیں ہوتی
14 اپریل 2018

ایک طرف ہم امریکی ناراضگی اور ڈومور کے شکنجے میں گرفتار ہیں۔ مسلسل ہماری بانہہ مروڑی جارہی ہے۔ جنوری میں ہماری 2ملین ڈالر کی دفاعی امداد روکی تھی حسب سابق حقانی گروپ کا نام لے کر۔ اب شنید ہے کہ سویلین امداد کے 265ملین بھی روکے جائیں گے۔ خیال ہے کہ آگے چل کر یہ مخالفت آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں پر بھی اثرانداز ہوگی۔ ہمارا بھی تو حال یہ ہے کہ۔۔۔ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ اپنے ادارے، صنعتیں، وسائل اپنے ہاتھوں تباہ کرکے (پی آئی اے، سٹیل مل جیسے ) اپنے ڈیم نہ بنائے اور دریا بھارت کو سونپ کر، بجلی پانی سے محرومی کا خودانتظام کرکے، کشکول اٹھائے پھرتے ہیں۔ اللوں تللوں اور دونوں ہاتھوں سے غیرپیداواری اخراجات میں قومی خزانہ لٹانے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ۔ ایک چھوٹا سا واقعہ اس کی دلیل ہے۔ ہمارے مرنجاں مرنج صدر ممنون صاحب نے جب ٹرین کا ایک سفر کیا تھا اہل خانہ کے ساتھ تو 3کروڑ میں یہ سفر طے کیا گیا تھا۔ 8انجن استعمال ہوئے۔ 400اہلکاروں کی ڈیوٹی لگی تھی۔ عوام اس دوران سٹیشنوں پر انگریزی میں سفر (Saffer)کرتے رہے۔ اس سے بہت زیادہ اخراجات ایسے ہی کھیل تماشوں میں اڑا کر ہمیں بھیک مانگنی اور امریکی گھرکیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ صدر صاحب تو پھر نسبتاً سادہ آدمی ہیں۔ بجٹ پر حکمران، جج، بیوروکریٹ، جرنیل یکساں طورپر بھاری پڑتے ہیں۔ دوسری جانب سیاست دانوں کی زبانی، عزائم ملاحظہ ہوں۔ زرداری صاحب فرماتے ہیں۔ ’حکومت بناکر ڈرائیونگ سیٹ پر خود بیٹھوں گا‘۔ (اگرچہ جانتے ہیں کہ یہ گاڑی چلتی ریموٹ سے ہے۔ کنٹرول بوٹ والوں کے ہاتھ میں رہتا ہے !) عمران خان صاحب فرماتے ہیں۔ ’الیکشن میں تمام جماعتوں کو پھینٹی لگادوں گا۔ نواز، زرداری چور ہیں۔ شہباز کو نوکری نہیں ملے گی‘۔ یہ تولیڈروں کا طرز تخاطب ہے!تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے۔ دوسری طرف لوٹا کریسی پورے جوبن پر ’عوامی نمائندوں‘ کے اخلاق وکردار پر بھرپور روشنی ڈال رہی ہے۔ ہم کہاں سے چل کر کہاں پہنچ گئے۔ بہت اچھے رہے علامہ اقبال کہ خواب دیکھ کر دنیا سے رخصت ہوئے اور قائداعظم، کہ ملک بناکر جیسے تیسے دفنا دیئے گئے۔ رہی اس سے پہلے کی تاریخ ۔ تو وہ ہمارے نصابوں کا حصہ نہیں رہی کہ ہمارے بچوں کو پتا ہوتا کہ۔۔۔ تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں۔۔۔ کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سردارا ۔۔۔!آج کے داراؤں کے ہم جوتے چاٹنے والے بن چکے ہیں، تاریخ بھلاکر دیوانے ہوگئے۔ 8صدیاں ہم نے سپین پر شاندار حکمرانی۔ 6صدیاں خلافت عثمانیہ 3براعظموں پر حکمران رہی۔ خلاف راشدہ یا عمر بن عبدالعزیز ؒ سے موازنہ کیا کریں۔ وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہوکرگسوں میں۔ اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ ورسم شاہبازی !خلفائے راشدین وہ تھے جو روتے ہوئے زورزبردستی کرسئی اقتدار پر بٹھائے جاتے اور اللہ سے لرزاں وترساں، جوابدہی کے خوف سے کانپتے دنیا سے رخصت ہوتے۔ ہمارے والے دھکم پیل، آپا دھاپی، میری باری کے نعرے لگاتے، شیروانیاں سلواسلوا کر کرسی کے لیے بے حال ہوئے جاتے ہیں۔ بھنگڑے ڈالتے، آتش بازیاں کرتے کرسی پر بیٹھتے ہیں۔ ایک مفلوک الحال ملک کی تار تار معیشت سے بھی ان کی تجوریاں بھرتی ہیں۔ نجانے
کیا شعبدہ ہے! وہاں 2لاکھ مربع میل کا حاکم (عمرفاروقؓ) راتوں کو عوام کی پہرے داری کرتا، پیوند لگے کرتے میں ملبوس تھکا ہارا خلیفہ ایک گدھا سوار سے لفٹ لے کر شہر میں ڈیوٹیاں نبھاتا واپس آرہا ہے !چشم فلک اس مسجود ملائک کے یوں ذمہ داریوں کے بوجھ تلے غم سے گھلتے پستے کو دیکھ کر رودی ہوگی!ہمارے حکمرانوں کا ایک ایک قدم۔۔۔ جب وہ اپنے عشرت کدوں سے نکل کر سڑک پر تشریف لاتے ہیں۔ قوم کو لاکھوں کا پڑتا ہے۔ ہٹو بچو ۔ آگے پیچھے گاڑیاں، ایمبولینس، فائربریگیڈ اوراوپر اڑتے فضائی نگرانی والے ہیلی کاپٹر !اگرچہ ان میں سے کوئی ایک سہولت بھی ملک الموت پروف نہیں ہوتی ! قبرستانوں میں سارے پیش رو آباد عبرت کی کہانیاں سنارہے ہیں، لیکن کیا کیجئے کہ نشۂ اقتدار سب کچھ بھلا دیتا ہے۔ حتیٰ زرتم المقابر۔۔۔ یہاں تک قبروں کے منہ کھل جاتے ہیں! ایٹمی پاکستان کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ امریکی دفاعی اتاشی ، بڑے بمپروں والی جناتی امریکی گاڑی، لال بتی کی خلاف ورزی کرکے موٹرسائیکل پر دن دہارے چڑھ دوڑا۔ ایک نوجوان کی جان لے لی دوسرے کو شدید زخمی کردیا۔ نشے میں تھا۔ نشہ دوآتشہ تھا۔ ایک امریکی ہونے کا، دوسرا شراب کا۔ ایسے 4واقعات پہلے ہوچکے۔ ریمنڈ ڈیوس، امریکی جاسوس کے سرعام دونوجوانوں کا قتل اور ایک کو امریکی گاڑی تلے کچلے جانے کے باوجود ہم نے جو وی آئی پی سلوک کیا تھا، یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے حوصلے ہیں زیاد! سوشل میڈیا پر پورے واقعے کی ویڈیو آجانے پر حکومت پھنس گئی۔ امریکی سفیر طلب کرلیا گیا۔ متکبرامریکہ کیونکر یہ جسارت برداشت کرتا۔ قانون کی حکمرانی کی بات اب ہم کیسے کریں جب سالہاسال پاکستان امریکہ کی چراگاہ بنارہا۔ ہماری ہواؤں، فضاؤں، ہوائی اڈوں، سڑکوں کو اس کے گویا حوالے کیے رکھا۔ کون سی خدمت ہم نے نہ کی۔ 400ڈرون حملے مشترکہ آپریشنوں کے تحت ہوتے رہے۔ پاکستانی جان کی حرمت ہم نے خود ہی حقیر کردی۔ امریکہ پاکستان کو اپنی کالونی سمجھ کر برتتا رہا ہے۔ سو ہماری اس غیرمعمولی جسارت پر اسے پتنگے لگ گئے۔ اس کی سزاواشنگٹن میں پاکستانی سفارتی عملے پر پابندیاں عائد کرکے دینی زیرغورہے! نیز اپنے اتاشی کو تفتیش کے لیے ہمارے حکام کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔ خودامریکہ کا حال یہ ہے کہ یواین میں پاکستانی سفیر منیراکرم کا اپنی غیرملکی بیوی سے جھگڑا ہوگیا۔ اس پر خاتون نے پولیس کو فون کردیا۔ تاہم اس دوران باہم تصفیہ ہوگیا اور اس نے پولیس واپس بھجوادی۔ لیکن امریکی انتظامیہ سینئر ترین سفارتکار کو گرفتار کرنے پر مصر رہی۔ ایک تھپڑ کے نتیجے میں !شام میں اس دوران ڈوما پر کیمیائی حملے کی خوفناک کارروائی سامنے آئی۔ 2013ء سے بین الاقوامی طورپر ممنوعہ کلورین گیس ودیگر کا یہ 18واں حملہ تھا۔ یہ تمام حملے ننھے بچوں عورتوں کی بڑی تعداد کے نشانہ بننے کے باوجود جاری وساری رہے۔ اس مرتبہ بھی معصوم بچوں کو کربناک اذیت میں مبتلا دیکھا گیا۔ 70افراد شہید ہوئے۔ تصاویر، ویڈیوز میں خاندانوں کی بکھری لاشیں نمایاں ہیں۔ 1000افراد علاوہ ازیں متاثرین میں سے ہیں۔ ناکافی طبی سہولتوں میں ہلاکتیں بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ سورۃ النساء پکاررہی ہے آج بھی۔ ’آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جوکمزور پاکردبا لیے گئے ہیں اور فریاد کررہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی ومددگار پیدا کردے‘۔ (آیت 75)امت کہاں ہے؟ ایٹمی پاکستان اور سعودی عرب کہاں ہے امت کی امیدوں کا مرکز۔؟ اور اسلامی اتحادی فوج؟ عالمی دہشت گرد ممالک نے ان بے بس مردوں عورتوں بچوں پر انتہا پسندی دہشت گردی کا ٹیگ (Tag)لگاکر ان کی مدد کو جرم قرار دے رکھا ہے۔ سو جلتے، سسکتے شام سے منہ موڑے سعودی ولی عہد فرانس میں فرانسیسی ’اویرا‘ کمپنی سے معاہدہ کررہے تھے۔ موسیقی اور رقص وسرود کی تربیت سعودی عرب میں یہ کمپنی فراہم کرے گی۔ پیچھے لاالٰہ والا جھنڈا لگا ہے ! فی الوقت سعودی عرب میں پہلوٹھی کا فیشن ویک ہورہا ہے۔ سعودی اور مشرقی یورپ کی فیشن سے منسلک عورتیں ماڈل، مرد ریاض کے رٹزکارلٹن ہوٹل میں یکجا ہیں۔ 1500لوگ متوقع ہیں۔ 400بیرون ملک سے۔ لیلیٰ عیسی ابوزید جو اس کی مہتمم ہیں (عرب فیشن کونسل کی ڈائریکٹر! سعودی عرب اور امارات اپنی امارت کے نئے مصارف میں مگن ہیں) فیشن ویک سے مقامی ’صلاحیتوں‘ کی جلا اور معاشی سرگرمی کے فوائد گنوا رہی تھیں۔ ان کی خواہش ہے کہ پیرس کے فیشن ویک کی ٹکرپر یہ سب ہو پائے (سرزمین حرمین شریفین میں!) اوپرا، آرکسٹرا اور فیشن ویک نے تاریخ میں جلتے روم میں بانسری بجاتے نیرو کی یاد تازہ کردی۔ باوجودیکہ ہمارے سارے نیروکلمہ گو ہیں اور شامی مظلومین بھی !
جن کو اپنی خبر نہیں ہوتی
ان کو ہم سربراہ رکھتے ہیں


ای پیپر