معراج سے واپسی اور سوال وجواب!
14 اپریل 2018

سفر معراج تاریخ انسانی کا منفرد اور بے مثال واقعہ ہے۔ آنحضورؐ نے جسمانی طور پر ایک رات میں یہ پورا سفر کیا اور واپس بھی آگئے۔ قرآن پاک میں سورۃ الاسراء اور سورۃ النجم میں اس کا تذکرہ ہے جبکہ کتب احادیث میں اس کی بہت زیادہ تفصیلات بیان ہوئی ہے۔ اکثر معتبر روایات کی رو سے یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے ماہِ رجب میں پیش آیا۔حدیث اور سیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کی تفصیلات بکثرت صحابہؓ سے مروی ہیں، جن کی تعداد ۲۵ تک پہنچتی ہے۔ ان میں سے مفصل ترین روایات حضرت انس بن مالکؓ، حضرت مالک بن صَعْصَعہؓ، حضرت ابوذرغفاریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہیں۔ ان کے علاوہ حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت ابوسعید خدریؓ، حضرت حذیفہ بن یمانؓ، حضرت عائشہؓ اور متعدد دوسرے صحابہؓ نے بھی اس کے بعض اجزا بیان کیے ہیں۔
جو لوگ معراج کو روحانی تجربہ قرار دیتے ہیں وہ دو روایات کا سہارا لیتے ہیں، جن میں سے ایک سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی زبانی بیان ہوئی ہے اور دوسری حضرت معاویہؓ نے روایت کی ہے۔ امام قرطبی ان روایات کا تذکرہ بھی کرتے ہیں جو حضرت عائشہؓ اور حضرت معاویہؓ کی طرف منسوب کی گئی ہیں اور ان میں معراج کو روحانی تجربہ کہا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ اس وقت بہت چھوٹی تھیں: کانت صغیرۃ لم تشاہد ولا حدثت عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم، واما معاویۃؓ فکان کافرا فی ذالک الوقت، غیرمشاہد للحال ولم یحدث عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ یعنی حضرت عائشہؓ اس وقت بہت چھوٹی عمر میں تھیں، انھوں نے اس واقعہ کا مشاہدہ نہیں کیا نہ ہی آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست اس موضوع پر کوئی حدیث روایت کی ہے۔ جہاں تک حضرت معاویہؓ کا تعلق ہے وہ اس وقت حالتِ کفر میں تھے اور انھوں نے بھی اس واقعہ کا مشاہدہ نہیں کیا اور نہ ہی آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی زبانی کوئی حدیث براہِ راست روایت کی گئی ہے۔
امام قرطبی اپنی دلیل کے حق میں یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد: سُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ پورا واقعہ بیداری کی حالت میں نہ کہ خواب کی حالت میں پیش آیا۔ وفی نصوص الاخبار الثابتۃ دلالۃ واضحۃ علی ان الاسراء کان بالبدن واذا ورد الخبر بشیء فی قدرۃ اللہ تعالیٰ فلا طریق لانکار۔ ۔۔۔صریح نصوص میں بیان ہونے والے ثابت شدہ واقعات پورے دلائل کے ساتھ یہ وضاحت کرتے ہیں کہ اسرا ومعراج بدنی تھا، نہ کہ روحانی۔ اور جب کسی واقعہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کرتا ہے تو اپنی عقل کے پیمانوں سے اس کا انکار کرنے کی کوئی گنجایش نہیں رہتی۔ (الجامع لاحکام القرآن، الجزء العاشر، طبع دارالکتب العربی، قاہرہ، ص۲۰۹)
ابن سعد نے قصہ معراج کا قدرے مختصر تذکرہ کیا
ہے، جو طبقات کی جلد اول کے صفحہ ۲۱۳ سے لے کر۲۱۵ تک ہے۔ ابن سعد نے لکھا ہے کہ معراج کی رات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پا کر آپؐ کے عزیزواقارب پریشان ہوگئے۔ حضرت عباسؓ آپ کی تلاش میں نکلے۔ وادئ ذی طویٰ میں انھوں نے بلند آواز سے کہا: یا محمدؐ، یامحمدؐ۔ آپؐ نے جواب دیا: لبیک۔ انھوں نے پوچھا: آپؐ رات کہاں تھے؟ آپؐ نے جواب میں فرمایا: بیت المقدس۔ انھوں نے پوچھا: آپ خیریت سے رہے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں! مجھے اس سفر میں خیر ہی خیر ملا۔ اس رات آپؐ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر پر سوئے تھے۔ صبح نماز فجر ادا کرنے کے بعد آپؐ نے حضرت ام ہانی کو پورا واقعہ بتایا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: میں باہر جاکر تمام لوگوں کو اس واقعہ کے بارے میں بتاتا ہوں۔ ام ہانی کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: آپؐ ایسا نہ کریں، لوگ آپ کی تکذیب کریں گے اور آپ کو اذیت پہنچائیں گے۔ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! میں ضرور ان کو یہ واقعہ سناؤں گا۔ آپؐ نے جب لوگوں کو یہ واقعہ سنایا تو سب کو تعجب ہوا اور کفار نے مذاق اڑایا اور کہا کہ یہ سب بناوٹ ہے، ہم نے ایسی بات اس سے پہلے کبھی نہیں سنی۔ (طبقات ابن سعد، ج۱، ص۲۱۴۔۲۱۵)
آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر جبریلؑ سے کہا: اے جبریلؑ ! میری قوم اس واقعہ کو سن کر میری تصدیق نہیں کرے گی۔ جبریلؑ نے جواب دیا کہ اور کوئی تصدیق کرے یا نہ کرے، ابوبکرؓ تو لازماً تصدیق کریں گے۔ جب آپؐ نے لوگوں کو واقعہ سنایا تو انھوں نے کئی سوال کیے، حتّٰی کہ یہ بھی پوچھا کہ مسجداقصیٰ کے کتنے دروازے ہیں۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ میں نے دروازے دیکھے تو تھے، مگر گنے نہیں تھے۔ اللہ نے اس وقت مسجد اقصیٰ میری آنکھوں کے سامنے حاضر کردی اور میں نے ایک ایک دروازہ گن کر تعداد بتائی اور ان کی پوری تفصیلات بیان کردیں۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:
وَإِذْ قُلْنَا لَکَ إِنَّ رَبَّکَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤیَا الَّتِیْٓ اَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنََۃَ فِی القُرْآنِ وَنُخَوِّفُہُمْ فَمَا یَزِیْدُہُمْ إِلاَّ طُغْیَانًا کَبِیْرًا۔ (بنی اسرائیل۱۷:۶۰)
یاد کرو اے نبیؐ، ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ تیرے رب نے ان لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔ اور یہ جوکچھ ابھی ہم نے تمھیں دکھایا ہے، اس کو اور اس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، ہم نے ان لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا۔ ہم انھیں تنبیہ پر تنبیہ کیے جارہے ہیں، مگر ہر تنبیہ ان کی سرکشی میں اضافہ کیے جاتی ہے۔ (طبقات ابن سعد، ج۱، ص۲۱۵، سیرۃ ابن ہشام، القسم الاول، ص۳۹۹)
جب آپ نے لوگوں کو واقعہ سنایا تواس وقت حضرت ابوبکرصدیقؓ مجمع میں موجود نہیں تھے۔ ابوجہل اور دیگر معاندینِ اسلام فوراً حضرت ابوبکرؓ کے پاس پہنچے اور کہا: ابوبکر! تمھارے صاحب نے آج ایک عجیب بات بیان کی ہے۔ پھر انھیں پورا واقعہ سنایا اور کہا کیا یہ ممکن ہوسکتا ہے؟ انھوں نے جواب میں فرمایا: اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے یہ بات کہی ہے تواس کے سچ ہونے میں کوئی شک وشبہ ہی نہیں۔ اسی موقع پر آپ کا لقب صِدِّیق رکھا گیا۔ صدیق صفتِ مبالغہ ہے یعنی سب سے زیادہ صدقِ مقال اور سچا۔ ابن ہشام مزید بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے بیت المقدس کو دیکھا ہوا تھا۔ انھوں نے بھی پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ بیت المقدس کے بارے میں کچھ تفصیل بتائیں کیونکہ میں نے اسے دیکھا ہوا ہے۔ اس موقع پر بھی بیت المقدس آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کردیا گیا اور آپ نے پوری تفصیل بیان فرمادی، جسے سن کر حضرت ابوبکر صدیقؓ بہت زیادہ مسرور ہوئے۔ (سیرۃ ابن ہشام، القسم الاول، ص۳۹۹)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ بھی بتایا کہ میں راستے میں فلاں مقام پر پہنچا تو وہاں فلاں قبیلے کے ایک قافلے کو دیکھا۔ان کے اونٹ براق کو دیکھ کر بدکے اور منتشر ہوگئے۔ ایک اونٹ ان میں سے گم ہوگیا۔ یہ لوگ اپنے گم شدہ اونٹ کو تلاش کررہے تھے۔ میں نے انھیں آواز دے کر بتایا کہ ان کا اونٹ فلاں جانب ہے۔ انھوں نے اس اونٹ کو وہیں پہاڑی کے نیچے پالیا۔ یہ واقعہ شام کی طرف جاتے ہوئے پیش آیا۔ آپؐ نے مزید فرمایا واپسی پر جب میں مقام ضجنان پر پہنچا تو فلاں قبیلے کا ایک قافلہ یہاں مقیم تھا۔ میں نے ان لوگوں کے ایک برتن سے پانی بھی پیا اور پھر اسے اسی طرح ڈھانپ دیا۔ یہ لوگ سوئے ہوئے تھے۔ ان کی علامت یہ ہے کہ بیضا کے مقام پر کوہِ تنعیم سے اتر تے ہوئے ان کا ایک اونٹ جو آگے آگے چل رہا تھا وہ بھورے، سیاہی مائل رنگ کا تھا۔ اس اونٹ کے اوپر دو تھیلے لادے گئے تھے۔ ایک کا رنگ سیاہ تھا اور دوسرے کے مختلف مخلوط رنگ تھے۔
جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ سب باتیں بتائیں تو کفار اس انتظار میں تھے کہ قافلے واپس آئیں تو ان سے پوچھیں۔ چنانچہ قافلے واپس آئے تو جو کچھ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا اہل قافلہ نے مکمل طور پر اس کی تصدیق کی۔ اونٹوں کے بدکنے اور گم ہونے سے لے کر قافلہ والوں کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے برتن میں پانی تھا جس میں سے رات کو کسی نے پانی پی لیا تھا۔ بیضا کا قافلہ تو جلد ہی مکہ میں وارد ہوگیا، جبکہ دوسرا قافلہ کچھ دنوں کے بعد آیا۔ ہر دو قافلوں کے لوگوں نے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کی حرف بحرف تصدیق کی۔ (سیرۃ ابن ہشام، القسم الاول، ص۴۰۲)
اسراء ومعراج کی پوری تفصیلات کے لیے مندرجہ ذیل کتب سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ صحیح البخاری، کتاب: فضائل الصحابۃ، باب :المعراج، حدیث نمبر۳۶۷۴، کتاب الصلوٰۃ، باب: کیف فرضت الصلوٰت فی الاسراء، حدیث نمبر۳۴۲، صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الاسراء، حدیث نمبر۱۶۳، سیرۃ ابن ہشام، القسم الاول، ص۳۹۶۔۴۰۸، البدایۃ والنہایۃ، ج۱، طبع دارِ ابن حزم، بیروت، ص۵۲۱۔۵۲۷، طبقات ابن سعد، ج۱، ص۲۱۳۔۲۱۵، السیرۃ الحلبیۃ، ج۱، دارالکتب العلمیہ بیروت، ص۵۱۴۔۵۸۱۔


ای پیپر