سیاہ ۔۔۔ست۔۔۔
14 اپریل 2018

دوستو، سیاست ہمارے ملک میں سیاہ ست میں تبدیل ہوچکی ہے، ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں کہ ’’ سیاہ ‘‘کو سات مرتبہ ضرب لگائیں تو پھر ’’ سیاہ ست ‘‘ معرض وجود میں آتی ہے۔۔۔ہم چونکہ ہمیشہ غیرسیاسی کالم ہی لکھنے کی کوشش کرتے ہیں ،اسی لئے آج بھی سیاست پر کوئی بات نہیں ہوگی بلکہ ’’ سیاہ ست ‘‘ کو موضوع بنائیں گے۔۔۔لیجنڈ مزاح نگار مشتاق یوسفی صاحب نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ۔۔۔ ’’سیاست اور سائیکل کی سواری میں ہوا ہمیشہ مخالف ہی ملتی ہے‘‘۔۔۔
جس طرح سائیکل کی سواری میں کمزور سائیکل سوار ایک طاقتور سائیکل سوار سے مات کھاجائے گا۔۔۔اسی طرح سیاست میں بھی ایک کم حیثیت اور کمزور مالی پوزیشن والا سیاست دان طاقتور سیاست دان سے مات کھا جائے گا۔۔۔ کمزور سائیکل سوار کی سائیکل خواہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو لیکن چونکہ وہ سائیکل کو تیز رفتاری سے چلانے کے لئے مطلوبہ قوت نہیں رکھتا اس لئے ہار جاتا ہے اس کے برعکس ایک طاقتور سائیکل سوار نسبتاً پرانی اور کمزور سائیکل پر بھی تیز رفتاری سے سفر کرتے ہوئے کمزور کو پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح کمزور سیاست دان کی پالیسیاں اور طرزِ سیاست خواہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، وہ کمزور مالی پوزیشن کے باعث اپنی پی آر نہیں بنا سکتا، پریس کانفرنس کے خرچے نہیں برداشت کرسکتا، الیکشن کے اخراجات اس کے بس سے باہر ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ اول تو انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیتا اگر حصہ لے بھی تو اپنی انتخابی مہم اچھے انداز میں نہیں چلا سکتا اور ہار جاتا ہے۔ جبکہ ایک سرمایہ دار اور طاقتور سیاست دان اپنے سرمائے کے زور پر اپنی پی آر بناتا ہے، انتخابات میں حصہ لینے کا حوصلہ رکھتا ہے اور انتخابی مہم میں دل کھول کر پیسہ خرچ کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ کمزور اور عوام دشمن پالیسیز کے باجود انتخابات میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین کرنا ازحد ضروری ہے کہ ، سائیکل کی سواری ہو یا سیاست، دونوں میں اگر احتیاط سے نہ چلا جائے تو بہت بری طرح گرنے اور چوٹ کھانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اور دونوں میں ایک بات اور بھی قدرِ مشترک ہے کہ اگر کوئی سائیکل سوار اپنے آپ کو ہوشیار سمجھتے ہوئے لوگوں کے درمیان سائیکل پر کرتب دکھا رہا ہو اور اس دوران اگر وہ غلطی سے گر جائے تو کوئی اس کی مدد کو نہیں آتا بلکہ لوگ اس پر ہنستے ہیں اور طنز کرتے ہیں کہ’’ بہت ہوشیار بن رہا تھانا! اب مزہ آیا‘‘۔ غور کریں تو یہی چیز سیاست میں بھی ہوتی ہے کہ اگر کوئی سیاست دان اپنے آپ کو انتہائی چالاک سمجھتے ہوئے ،عوام کو بیوقوف بنا کر سیاسی کرتب دکھا رہا ہو اور اس دوران اگر وہ حالات کی گرفت میں آکر پھنس جائے تو عوام اس سے ہمدردی نہیں کرتے بلکہ یہی کہتے ہیں کہ ’’ بہت ہوشیار بن رہا تھانا ، ہن مزہ آیا۔۔۔‘‘
واقفان حال جانتے ہیں کہ اس وقت ملکی سیاست صرف دو ہی شخصیات کے گرد گھوم رہی ہے، ایک نواز شریف تو دوسرے عمران خان۔۔۔دونوں کے پیچھے عوام اس طرح کھنچے چلے جاتے ہیں جیسے یہ دونوں مقناطیس باقی سب لوہا،کیل کانٹے ہوں۔۔۔دونوں کا ہی ووٹ بینک ہے، دونوں ہی سیاست کے ستارے ہیں، دونوں میں شدید قسم کے نظریاتی اختلافات ہیں، ٹام اینڈ جیری کی طرح دونوں ایک دوسرے کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔۔۔حیرت انگیز طور پر دونوں میں کچھ باتیں مشترک بھی ہیں۔۔۔دونوں ہی کرکٹ کے شوقین ہیں،فرق صرف یہ رہا کہ جب ایک بڑھا تو رکا نہیں جب کہ دوسرا جب رکا تو آگے بڑھا نہیں۔۔۔اسی طرح بات کرنے کے معاملے میں دونوں کی اپنی اپنی انفرادیت ہے، میاں صاحب کوکوئی بات بتاکر تھک کر چُور ہوجائیں گے مگر مجال ہے جو وہ کچھ بولیں،دوسری طرف خان صاحب کو تھکی سے تھکی بات (یہ محاورتاًکہا ہے جس کا مطلب ہے انتہائی فضول سی بات) بھی کوئی بتادے پھر مجال ہے جو خان صاحب کو خاموش کراسکے۔۔۔دونوں کا ماضی دیکھا جائے تو دونوں کا دامن ہی قدرے داغ دار ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک کا ’’زر‘‘ سے تو دوسرے کا ’’زن‘‘ سے۔۔۔دونوں کی سیاسی رفتار بھی خاصی تیز ہے،میاں صاحب کی حکومت جتنی تیزی سے آتی ہے اتنی ہی رفتار سے چلی بھی جاتی ہے اور دوسری جانب خان صاحب کی تیزرفتاری کا یہ عالم ہے کہ اکثر دوسروں سے آگے نکل جاتے ہیں لیکن پھر ’’یوٹرن‘‘ لے کر واپس آنا پڑتا ہے۔۔۔غصے کے دونوں ہی تیز ہیں لیکن اس کا اظہار میاں صاحب زیادہ کھاکر جب کہ خانصاحب مزید غصہ دکھاکرکرتے ہیں۔۔۔بڑی سڑکیں بھی دونوں کی کمزوری ہیں، میاں صاحب بڑی سڑکیں بنانے کے لئے ہروقت تیاررہتے ہیں جب کہ خان صاحب ان بڑی سڑکوں پر ہر وقت دھرنے کے لئے تُلے رہتے ہیں۔۔۔
ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ جب ایک بار انہوں نے اپنی گرل فرینڈ کو کہا ہے کہ ، میں ایک شریف انسان ہوں تو وہ اتنا ہنسی کہ اس کا وضو ہی ٹوٹ گیا۔۔۔سیاست دانوں کے حوالے سے ہی کسی سیانے نے کیا خوب کہاتھا کہ کچھ لوگ آپ کی زندگیوں میں صرف یہ سکھانے آتے ہیں کہ آپ کتنی جلدی بے وقوف بن جاتے ہیں۔۔۔کہتے ہیں کہ مرد بیشک ’’پڑولا ‘‘ہی کیوں نہ ہو جائے ہمیشہ اہل سمجھا جاتا ہے خواہ یہ مرد سیاست میں ہو،بڑے عہدے پر فائز ہو یا پھر مولوی ہی کیوں نہ ہو۔ آئین کے ہر تناظرسے دیکھا جائے تو سب کامیاب ہیں۔اور اگر عورت ذ را سی بھی موٹی ہو جائے تو اس کو شادی کے قابل بھی نہیں سمجھا جاتا ۔۔۔اگر ’’میاں‘‘ نہیں شادی والے ’’میاؤں‘‘ کی بات کریں تو بے چارے گھر میں ہمیشہ بھیگی بلی ہی بنے رہتے ہیں اسی لئے ان لوگوں کو’’میاؤں‘‘ کہتے ہیں، یہ لوگ باہر شیر ہوتے ہیں لیکن گھر میں مٹی کا ڈھیر ہوتے ہیں۔۔۔اسلام آباد پنجاب ہاؤس میں مسلم لیگ نون کے اہم رہنماؤں کو میاں صاحب نے لطیفہ سنایا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ریس کورس میں گھوڑوں کی دوڑ دیکھتے ہوئے ایک شخص سگریٹ پہ سگریٹ پھونک رہاتھا۔اس سے پوچھاگیاکہ آپ پریشان ہیں ؟جواب ملانہیں۔اس سے پھر پوچھا گیاکہ اگر آپ پریشان نہیں تو بتائیں کہ ریس میں آپ کا گھوڑا کس نمبر پر دوڑ رہاہے؟اس شخص کا گھوڑا ریس میں سب سے پیچھے دوڑ رہاتھا،اس نے پنجابی میں جواب دیا۔۔۔میرا گھوڑا اووے جنے سارے گھوڑیاں نوں اگے لایا اے(میرا گھوڑا وہ ہے جس نے سارے گھوڑے آگے لگارکھے ہیں) ۔۔۔سپریم کورٹ نے جو تاحیات نااہلی کا فیصلہ میاں صاحب کے خلاف دے دیا اس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ فی الحال میاں صاحب کے گھوڑے نے ہی سارے گھوڑے آگے لگارکھے ہیں۔۔۔
ہومیو پیتھک اور پیپلز پارٹی میں ایک چیز مشترک ہے دونوں کا اگر فائدہ نہیں تو کوئی نقصان بھی نہیں۔۔۔آجکل ایک ریس لگی ہے کہ کون سب سے اچھا بچہ ہے، عمران خان اب تک بڑوں کا تمام کہا مانتے آئے ہیں، چودھری برادران تو ویسے بھی بڑوں کی آنکھ کا اشارہ سمجھتے ہیں، اب آصف زرداری جس تیزی سے اچھے بچے بن رہے ہیں، امید ہے کہ وہ سب کے ریکارڈ توڑ دیں گے اور سب کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ ۔ پیپلزپارٹی کے منشور میں شامل ایک مقبول نعرہ، روٹی،کپڑا اور مکان کا بھی ہے۔۔۔ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں کہ ، انہوں نے اپنے سیاسی منشور میں یہ بات شامل کردی ہے کہ اب روٹی کا نعرہ نہیں لگے گا کیوں کہ جب ’’ ملک‘‘ کو کھانے کی سہولت موجود ہے تو سستی روٹی جیسی سکیمیں شروع کر کے سستی شہرت حاصل کیوں کی جائے،جہاں تک کپڑے کی بات ہے تو لنڈے بازار بھرے پڑے ہیں کپڑوں سے ،اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ منشور میں ان کاذکر ہو،اب رہ گئی مکان کی بات تو اللہ کی زمین بہت وسع ہے جس کا جدھر منہ اوردل کرتا ہے اپنے سینگ سما لے، ورنہ چائنا کٹنگ کرلے۔۔۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔آج کل لوگ ان لوگوں کے پیچھے چلنا پسند کرتے ہیں جو چاند پر پہنچ گئے، حالانکہ کامیابی اس عظیم انسان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پیچھے چلنے میں ہے جس نے چاند کے دوٹکڑے کرڈالے۔۔۔


ای پیپر