صبح خنداں قریب ہے شاید
14 اپریل 2018

سپہ سالارکے اس بیان کے بعد پورے ملک کے عوام میں خوشی و اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے کہ ان کے دن پھر جائیں گے۔ مگر ان لوگوں میں مایوسی پھیل گئی ہے جو ملک میں سیاسی بے چینی، افراتفری اور غیر یقینی کی فضا قائم کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی خواہش رکھتے تھے اور ہیں؟
میں مسلسل اپنی تحریروں میں یہ عرض کرتا چلا آ رہا ہوں کہ اب نہ وہ وقت ہے نہ ہی وہ گردش حیات کا روایتی پہیہ۔ سب کچھ بدل گیا ہے ۔ ضروریات، احتیاجات اور طرز عمل ایک نیا روپ اختیار کر چکے ہیں لہٰذا روایتی طریقہ ہائے حکمرانی و انتظامی بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔
دیکھ لیں ملکی تاریخ میں عدلیہ پہلی بار اتنی فعال اور مستعد نظر آتی ہے اور اس نے اپنا کردار ڈنکے کی چوٹ پر ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔ عندیہ ہی نہیں عمل کرنا بھی شروع کر دیا ہے ۔ کہ پانی سے لے کر ٹرانسپورٹ تک کے شعبوں کو اپنی نگاہ میں رکھ لیا ہے ۔ ان میں جہاں کوئی کوتاہی غلطی اور ہیرا پھیری اسے دکھائی دے رہی ہے وہ اس پر کارروائی کر رہی ہے ۔ اور اس کی اُسے قانون اجازت بھی دیتا ہے ۔ مگر سیاسی،سماجی اور انتظامی ہلچل دیکھنے والے رولا ڈال رہے ہیں کہ وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے یہ تو حکومتوں کا کام ہوتا ہے ۔ مگر وہ کیوں اسے کرنے میں نا کام رہی ہے ۔ کیوں اس نے عوام کو جیتے جی گور میں اتارنا چاہا ہے ۔ کیا ملک میں انتظامی و سیاسی دھانچہ شکست و ریخت سے دو چار نہیں ہے ۔ لوگ تڑپ نہیں رہے بلبلا نہیں رہے۔ وہ انصاف کے لیے سڑکوں پر احتجاج نہیں کر رہے۔
وہ یہ سب کر رہے ہیں مگر حکمرانوں کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ وہ اس افراتفری سے حظ اٹھا رہے ہیں۔ انہیں اس منظر سے آسودگی ملتی ہے لہٰذا اب جب عدلیہ نے عوام کو اس سے نجات دلانے کا بیڑا اٹھایا ہے تو وہ ’’ پریشان ‘‘ ہو گئے ہیں۔ وہ حیران بھی ہیں کہ یہ تو ممکن ہی نہیں تھا۔ ممکن تو ان کے نزدیک وزیرستان، سوات اور فاٹا کے اندر بھی امن کا قیام نہیں تھا مگر نوے فیصد ہو گیا۔ یہ پاک فوج کی بہادری دور اندیشی اور جرأت کی بنا پر ہوا ۔ کوئی تصور تک نہیں کر سکتا تھا کہ علاقہ غیر کہلوانے والے علاقے کنٹرول ہو سکیں گے۔ وہاں تو واقعتا اندھیر مچا ہوا تھا۔ خوف و ہراس ہر سمت دیکھنے کو ملتا تھا۔ دہشت کا راج تھا۔ اور امن پسندوں کے لیے زندگی ایک خار بن کر رہ گئی تھی مگر سر فروشانِ وطن نے فضاؤں کو معطر کر دیا۔ اور امن و آشتی کا علم بلند کر کے زندگی کو پر سکون بنا دیا۔ لہٰذا اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ یہی بات کچھ لوگوں کو تکلیف پہنچاتی ہے ۔ مگر اہل وطن سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک کی ترقی کی راہ پر اس کے قدم بہ قدم چلنا چاہتے ہیں چل رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ماضی میں چند جرنیلوں نے اقتدار پر شب خون مارا اور منتخب سیاسی حکومتوں کو چلتا کیا جس سے کچھ معاشی اور سماجی مسائل پیدا ہوئے جو آج تک حل ہونے میں نہیں آرہے مگر اب ایسا نہیں ہے ۔ زمانہ وہ نہیں حالات ویسے نہیں اور سوچ روایتی نہیں رہی۔ نیا دور ہے لہٰذا اس کے تقاضے بھی مختلف ہیں اب صرف اور صرف تعمیر و ترقی پر نگاہیں جمی ہوئی ہیں۔
کیونکہ ملکی خزانہ دباؤ میں ہے ۔ مشکلات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ لہٰذا ذمہ داران کو اقتدار سے کوئی غرض نہیں۔ اگر ہے تو معاشی و اقتصادی ترقی سے، جو انصاف کی فراہمی کے بغیر ممکن نہیں۔ لہٰذا عدالت عظمیٰ تاریخی فیصلے کر کے ملک کو ہر نوع کے بحرانوں سے چھٹکارا دلانے کے لیے متحرک ہو چکی ہے ۔ نظر آ رہا ہے کہ پاکستانیوں کا مستقبل روشن ہے اور یہ بات میں اپنے پچھلے کالموں میں کہہ چکا ہوں کیونکہ ستر اکہتر برس سے پستے چلے آنے والے لوگوں کو اب بھی مساوی حقوق نہیں دیے جاتے، انہیں تعلیم اور صحت کی سہولتیں مہیا نہیں کی جاتیں تو وہ مکمل طور پر مایوس ہو جائیں گے۔ اور یہ مایوسی کسی خوفناکی کا سبب بن سکتی ہے لہٰذا ذمہ داروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ آگے آئیں آئین و قانون کے مطابق اپنا فرض ادا کریں۔ کوئی کتنا بھی طاقتور ہو اور با اثر ہو انہیں اس کی پروا نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس وقت وطن عزیز مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے ۔ اس کے چاروں طرف خطرات منڈلا رہے ہیں۔ بھارت تو دن رات لائن آف کنٹرول پر گولے پھینک رہا ہے اور نہتے شہریوں کو خون میں نہلا رہا ہے ۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ پاکستان کی توجہ تقسیم کر کے اسے ترقی کے راستے سے ہٹایا جائے اور عوام میں مایوسی پھیلائی جائے۔ مگر وہ جان لے اس کے مذموم مقاصد کبھی بھی پورے نہیں ہوں گے۔ کیونکہ عوام کو بخوبی علم ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے ؟
بہر حال یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ ہمارے حکمران سبھی، عوام کی خدمت کرنے سے قاصر ہیں۔ انہیں یہ خیال ہی نہیں آیا کہ عوام کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ ان کے بھی جذبات اور خیالات ہوتے ہیں۔ یہ کہ ان کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں لہٰذا اب اگر ذمہ داران نے کوئی مثبت قدم اٹھایا ہے تو اذیت پسند سیاستدانوں، حکمرانوں اور دماغوں میں حیرانیاں رقصاں ہیں کہ یہ کیا ہو گیا۔۔۔؟ معذرت کے ساتھ بعض این جی اوز نے بھی سرگرمی دکھانا شروع کر دی ہے ۔ مبینہ طور سے ان کا تعلق مغربی ممالک سے بتایا جاتا ہے ۔ لہٰذا انہوں نے ایک نیا شور اور ہنگامہ برپا کرنے کا پروگرام بنایا ہے ۔ اس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔ کیونکہ ان کا ایجنڈا قابل غور ہر گز نہیں۔۔۔ وہ نا انصافی، بدعنوانی ۔۔۔ اور مہنگائی و ناجائز منافع خور مافیا کے خلاف آواز بلند کریں تو لوگ ان کی جانب دیکھیں گے۔۔۔ یہ جو بڑے بڑے پروگراموں میں خود کو الجھا کر ثابت یہ کرنا چاہتی ہے کہ وہ روشن مستقبل کے لیے سرگرداں ہیں تو کوئی بھی اس کو ماننے کو تیار نہیں ہو گا۔۔۔ لہٰذا وہ اپنے عمل و فکر میں تبدیلی لائیں۔۔۔ تاکہ مظلوموں اور محکوموں کو روشن راہ نظر آ سکے۔۔۔؟
بہرکیف ملکی سیاست ایک نیا موڑ مڑ چکی ہے کہ عدلیہ نے دو بڑی سیاسی جماعتوں کے بڑے سیاستدانوں کو تاحیات نا اہل قرار دے دیا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ آغاز ہے ابھی بہت سے مزید سیاستدان بھی نا اہل ہوں گے۔۔۔ کیونکہ یہ طے ہو چکا ہے کہ اب سیاست و انتخابات شفاف ہوں گے۔۔۔ ان میں لوٹ مار کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی، جو ماضی میں ہو گیا سو ہو گیا۔۔۔ حساب تو اس کا بھی دینا ہے جو پیسا ہتھیایا گیا واپس قومی خزانے میں لانا ہے کیونکہ ملک کو قرضوں پر تادیر نہیں چلایا جا سکتا۔۔۔ عوام کو اور نہیں رلایا جا سکتا۔۔۔ کہ اگر وہ ہی بدگماں و مضمحل ہو جاتے ہیں تو انتشار جنم لیتا ہے جو ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنتا ہے لہٰذا احتساب سب کا ہو گا۔۔۔ بے رحم ہو گا۔ انصاف کے لیے ترستی اس قوم کو بدظن اور مایوس نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ اب ریاست کی مضبوطی اور اس کی بقا کا سوال ہے لہٰذا عوام سپہ سالار کے بیان کو درست سمجھیں کہ اب اچھے دن آنے والے ہیں!
صبح خنداں قریب ہے شاید
دیکھ اک روشنی رہے ہیں ہم


ای پیپر