شہزادے کا وژن 2030
14 اپریل 2018 2018-04-14

سعودی عرب کے نائب فرمانروا سعودی سماجی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لئے بڑے بے تاب ہیں۔ انہوں نے وژن 2030 متعارف کروادیا ہے۔ اس ضمن میں ’’نیشنل ٹرانسفرمیشن‘‘ پروگرام مرتب کیاگیا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلیمان روایتی سماج کی ’’فیبرکس‘‘ مکمل طور پر تبدیل کرنے کے لئے متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ اپنے مجوزہ پروگرام میں ’’ای گورننس‘‘ کے علاوہ ثقافتی ،تفریحی اور کھیل کے شعبہ جات کو خاص فوقیت دینے پر آمادہ ہیں۔ اس جذبہ کے پیچھے صنف نازک کی شرکت ان کا خاص ہدف ہے۔

اپنے خاص مقاصد کی تکمیل کے لئے وہ خطیر رقم بھی مختص کرچکے ہیں۔ آمدہ اطلاعات کے مطابق لائیو میوزیکل کنسرٹ، فیشن شواورامریکہ اور دبئی کی طرز پر ’’ سیکس تھیم پارک‘‘ پر مشتمل جدید وژن روایتی سعودی معاشرہ میں تبدیلی کے لئے بریک تھرو ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں مصر اور اردن کی سرحد کے قریب نئے شہر بسانے کی تیاری بھی مذکورہ وژن کاحصہ ہے جن پر سعودی قانون کااطلاق نہیں ہوگا۔ پچاس جزیروں پر مشتمل شہروں کی ایک نئی دنیا آباد ہوگی جس کا مقصد سیاحت کو فروغ دینا ہے۔ جبکہ ریاض میں سیکس تھیم پارک سعودی مقدس سرزمین پر خوبصورت اضافہ تصور کیاجائے گا۔

سعودی شہزادہ نے اپنے وژن کی تکمیل کے لئے سرکاری مشینری کو پوری طرح متحرک کردیا ہے اور اس کا آغازبھی ہوچکا ہے جس کی شہادتیں ائیر پورٹ سے لے کر مسجد نبوی ؐ تک دکھائی دیتی ہیں۔ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت اس کی شروعات ہیں جبکہ 35سالہ سینما سے پابندی اٹھانا دوسرا قدم ہے۔ روشن خیالی کی جانب سفر کاآغاز تو امریکن اور سعودی گلوکاروں کے مشترکہ میوزیکل کنسرٹ سے ہوچکا ہے۔ فیشن شو کے انعقاد سے عالمی برادری کو ’’سافٹ معاشرہ‘‘ کاپیغام بھی بھجوایاجاچکا ہے۔ البتہ اس میں کسی حد تک دقیانوسی یوں برقرار ہے کہ مردوں کو فیشن شو میں شرکت کرنے اور کسی کو کیمرہ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

کہا یہ جارہا ہے کہ تمام ’’جارہانہ ‘‘اقدامات کا مقصد گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینا اور تیل کی قیمتوں کے پیش نظر بیرونی سرمایہ کاری کی فضا پیداکرناہے۔

راوی ریاض میں مجوزہ سیکس تھیم پارک کے منصوبہ کا دفاع کرتے ہوئے فرماتاہے کہ اس کے پیچھے بھی جذبہ ’’قومی خدمت‘‘ کارفرما ہے اور اس سرمایہ کو بیرون ملک جانے سے روکنا جو شہزادے چھٹیاں گزارنے کے نام سے خرچ کرتے ہیں۔ انہیں مغربی معیار کی ’’مخصوص تفریح‘‘ گھر کی دہلیز پر مذکورہ پارک میں فراہم کرنا ہی اس کے قیام کا اولین مقصد ہے۔ تاکہ کھربوں ریال کی آمدورفت کو باہر منتقل ہونے سے روکا جا سکے اور قومی سرمایہ محفوظ ہاتھوں میں رہے۔ نیز غیر ملکی سیاحوں کو پاک سر زمین پر مدعو کرکے جزیرہ نما شہروں اور مذکورہ پارک میں ’’انجوائے‘‘ ہونے کا موقع سرکارکی سرپرستی میں فراہم کیا جائے۔اس وژن میں عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والوں کے لئے بھی بڑی خبر ہے۔ جس کے تحت زائرین کی تعداد کو نو بلین سے بڑھا کر تیس بلین تک لے جانا تا کہ زر مبادلہ کے ذریعہ قومی معیثت کو مضبو ط کیاجاسکے۔

امت مسلمہ میں سعودی عرب کو خاص مقام حاصل ہے اس سے عقیدت کی وابستگی کا بڑا سبب مقامات مقدسہ ہیں جن کا خیال آتے ہی آنکھیں احترام سے جھک جاتی ہیں۔ امت کا ہرفرد بلا امتیاز،رنگ ونسل اس سرزمین کی یاترا کو خوش نصیبی سمجھتا ہے۔ حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے بے چین نظر آتا ہے۔ اور منتظر ہوتا ہے کہ کب حجاز مقدس سے بلاوا آجائے۔

وژن 2030 خالصتاً سعودی عوام اور شہزادہ کا معاملہ ہے۔ شہزادہ جی کا تعلق شاہی خاندان سے ہے ۔ان کا مزاج ہی شاہوں کی طرح شاہانہ ہے ۔ پختہ روایت رہی ہے کہ بادشاہ وہی کچھ کر گزرتے ہیں جو انہیں پسند ہوتا ہے ۔ عمومی طور پر یہ کسی کی پرواہ نہیں کرتے نہ ہی ان کی نظر میں اخلاقیات، روایات اور اقدار کی کوئی قدروقیمت ہوتی ہے۔ اس وژن کے روح رواں شہزادے بھی ’’جذبہ بادشاہی‘‘ کے تحت حجاز مقدس پر اس پروگرام کو نافذ کرنے کے خواہاں ہیں جس کا مسلم کلچر سے سرے سے ہی کوئی واسطہ نہیں ہے۔

انہیں وژن 2030کو عملی شکل دیتے ہوئے یہ خیال تو کرنا چاہئے تھا جس سرزمین پہ وژن 2030ء کو نافذ کرنا چاہتے اس کی نسبت کن بڑی ہستیوں سے ہے۔ اپنے پروگرام میں مغربی کی نقالی اور افکار کو شامل کرکے انہوں نے امت مسلمہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اگر ان کا مقصد معاشی ترقی کے لئے مواقع پیداکرنے ہے تو اس کے کئی معقول طریقہ ہائے اس دنیا میں رائج عمل ہیں۔ ماڈل کے طور پر وہ ترکی کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں۔

نجانے کن قوتوں نے انہیں مغربی نقالی کا بھونڈا مشورہ دیا ہے۔ سعودی حکومت بدقسمتی سے پہلے ہی حج و عمرہ کے اخراجات میں ہو شربا اضافہ کر چکے ہیں جو خالصتاً مذہبی عبادت ہے ۔سعودی فرمانرواؤں نے اس عبادت کو بھی ٹورازم کادرجہ دے دیا ہے۔ جس کا ذکر خیر اسی وژن میں ملتا ہے ۔زیادہ بہتر ہوتا کہ وہ زائرین کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولیات کا اعلان فرماتے انہوں نے تو ناچ گانے والوں کے لئے ’’سہولت کار‘‘ کا فریضہ انجام دیاہے۔

ہم ان کے ہی خاندان سے ایک سعادت مند، مخلص ،امت کے خیرخواہ بادشاہ کا تذکرہ بطور مثل کرتے ہیں جن کی حکومت میں سعودی عرب نے مثالی ترقی کی تھی لیکن انہوں نے نہ تو اسلامی اقدار روایات سے انحراف کیا نہ ہی امت مسلمہ کو لسانی، نسلی اور فروعی طور پر تقسیم کرنے کی جسارت کی بلکہ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خاتمے اور فلسطین کے حق میں مدمل دلائل دے کر آواز بلند کی۔ جہاد فی سبیل اللہ کی دعوت دی وہ عوامی اجتماعات میں برملا قوم سے کہا کرتے تھے کہ القدس انہیں پکار رہاہے۔ وہ شہادت کی آرزو رکھتے تھے اور 1974ء ٹائم میگزین نے انہیں سال کی بہترین شخصیت قرار دیا۔ حالانکہ وہ 1973ء میں تیل بطور ہتھیار کا نعرہ عالمی سطح پر بلند کرچکے تھے انہوں نے علامی کے نظام کا خاتمہ کیا۔ زراعت ، صنعت، مواصلات کے شعبہ جات میں خطیر رقم خرچ کی ۔دنیا بھر سے مسلمانوں کو سعودی عرب میں ملازمت کی پیش کش کی ۔ سماجی اور تعلیمی شعبہ جات میں اصلاحات نافذ کیں۔

دنیاانہیں شاہ فیصل بن عبدالعزیز کے نام سے یادکرتی ہے۔ وہ آج بھی دلوں پے حکومت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔سعودی شہزادہ سلیمان کے وژن برائے ترقی سے ہمیں انکار نہیں لیکن سستی شہرت کے لئے مغربی ایجنڈا کی مقدس سرزمین پر تکمیل کسی مسلم حکمران کے شیان شان نہیں۔اور نہ ہی ان سے اس طرز کی توقع کی جاسکتی ہے۔بالخصوص ایسی سرزمین پہ مغربی ثقافت کا نفاذ قطعی قابل قبول نہیں جس سے امت کے ہرفرد کی قلبی اور جذباتی وابستگی ایمان کاحصہ ہو۔


ای پیپر