بھارتی معاونت سے دہشت گرد وطن عزیز میں سرگرم
14 اپریل 2018

کچھ عرصہ قبل بلوچستان سے گرفتار بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹ کل بھوشن یادیو کو دہشت گردی کا نیٹ ورک پنجاب تک پھیلانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ ’’را‘‘ کی اعلیٰ کمانڈ پنجاب میں تخریب کاری شروع کرنا چاہتی تھی تاکہ خطے میں بھارت کے توسیعی عزائم میں کوئی رکاوٹ نہ ڈال سکے۔ یادیو نے بلوچستان میں درجنوں مقامی دہشت گردوں کی مدد سے نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا اسی طرح کراچی میں بھی دہشت گردانہ حملوں کے لئے 100سے زائد سلیپر یونٹس قائم کر رکھے تھے۔ یادیو کراچی واٹر بورڈ کے سلیپر سیلز کو فنڈز کے علاوہ تربیت کے لئے مدد کرتا تھا۔ کراچی اور بلوچستان میں نیٹ ورک چلانے کے ساتھ اس ایجنٹ کے پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے سرحدی علاقوں
میں کالعدم مذہبی تنظیموں اور جرائم پیشہ گینگ کے ارکان کے ساتھ رابطے تھے۔ اب یہ تعین کرنا ہے کہ اس ایجنٹ نے پنجاب میں تخریب کاری کے لئے کتنے منصوبے بنائے تھے۔ یادیو نیٹ ورک کے بدنام زمانہ ارکان جو آپریشن کے دوران گرفتار ہوئے تھے ان میں ندیم عرف انکل، خالد امان عرف داد، عبدالجبار عرف ظفر ٹینشن، محسن خاں عرف کاشف، ذیشان عرف حسن اور شفیق خاں عرف پپو شامل ہیں۔’’را‘‘ نے کراچی سے تعلق رکھنے والے اپنے ایجنٹوں کیلئے جنوبی افریقہ، ملائشیا، بنکاک اور دبئی میں بھی رہائش اور دیگر سہولیات کا انتظام کیا تھا۔ ان ایجنٹوں کو بسنت پور، دہرادھن، جودھپور، راجستھان، فرید پور، کولکتہ اور دیگر بھارتی علاقوں میں جدید اسلحہ کی تربیت دی تھی۔ تربیت دینے والوں میں ’’را‘‘ آفس کا میجر بھی شامل ہوتا تھا۔
یادیو نے بتایا کہ بلوچستان فرنٹس پر وہ بلوچ باغیوں کی تربیت اور فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے معاملات ہینڈل کرتا تھا تاکہ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کیلئے افغانستان کے علاقے قندھار کے ’’نوگو ایریاز‘‘ میں سکیورٹی چیف کمانڈر عبدالرزاق اچکزئی کی مدد سے تربیت دی جاتی تھی۔ یادیو کراچی میں عدم استحکام کیلئے کالعدم مذہبی تنظیموں بشمول ٹی ٹی پی اور بلوچ تنظیموں کے ارکان کو استعمال کر رہا تھا۔ یادیو نے مزید انکشاف کیا ’’را‘‘ کے اعلیٰ حکام نے کہا تھا کہ بلوچستان اور کراچی کو جلائے رکھنا ہے۔ پنجاب میں تخریب کاری کا ٹاسک دیا گیا۔ سی پیک اور پاکستانی بندرگاہوں کو مفلوج کرنے کا کہا گیا تھا۔
بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی بڑھتی ہوئی پاکستان مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردوں کی مالی معاونت نے حساس اداروں کو مزید چوکنا کر دیا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مدد کے ساتھ ساتھ کراچی میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ’’را‘ کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی پاکستانی اداروں نے حاصل کر لئے ہیں۔ ’’را‘‘ اورافغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس بلوچستان میں علیحدگی پسند جماعتوں بی ایل اے، بلوچ ریپبلکن آرمی اور بی ایل ایف کی نہ صرف مالی مدد کر رہی ہیں بلکہ کابل، نمروز اور قندھار میں قائم ٹریننگ کیمپوں سے دہشت گردوں کو خصوصی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ افغانستان میں موجود ’’را‘‘ کے حکام ان دہشت گردوں کو افغانستان سے بھارت، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک بھجوانے کے لئے جعلی دستاویزات بنوانے میں بھی پیش پیش ہیں۔ ’’را‘‘ کے ایک ونگ نے تمام عالمی فورمز پر بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی تحریک کو ہوا دینے کا بیڑہ بھی اٹھا رکھا ہے۔ بین الاقوامی این جی اوز کے ذریعے سے انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی حساس اداروں نے کراچی میں دہشت گردی میں ملوث افراد کی افغان سرحد پر بھارتی افسران سے ملاقاتوں کے شواہد بھی حاصل کئے ہیں اسی طرح سوات سے نکل کر افغانستان میں پناہ لینے والے مولانا فضل اللہ کی بھی ’’را‘‘ اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی سے ملاقاتوں کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کئے گئے ہیں۔ کراچی، بلوچستان اورپاکستان کے قبائلی
علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والوں کو کئی ملین ڈالرز کی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والی تحریک آزادی اور سی پیک پر تیزی سے جاری کام کو روکنے کیلئے را اور امریکی سی آئی اے نے مل کر بھارت میں پارلیمنٹ پر حملے یا ممبئی حملوں جیسا واقعہ دوبارہ کرانے کیلئے پلاننگ شروع کر دی ہے۔ تاکہ اس کی آڑ میں سرحدوں پر کشیدگی پیدا کر کے ضرب عضب میں مصروف پاکستانی فوج کی توجہ ہٹائی جا سکے۔ ممکنہ دہشت گردی کی انٹیلی جنس اطلاعات کے بعد قومی سلامتی کے ادارے چوکس ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں پلاننگ کے تحت را نے پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں عوامی تحریک کے ردعمل میں بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان میں دہشت گردی کی بڑی کارروائی کا منصوبہ بنا یا ہے۔ کراچی میں ایک بار پھر بدامنی کیلئے را نے کالعدم تنظیموں اور عسکری ونگز رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کے بچے کچھے نیٹ ورک کو متحریک کر دیا ہے۔ را نے نہ صرف ایک بار پھر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ تیز کرانے کا ٹاسک اپنے کارندوں کو دے دیا ہے بلکہ وہ پاکستان کے بڑے شہروں میں سکولوں، اہم عمارتوں اورعوامی مقامات پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے۔ بھارت کی جانب سے اسلام آباد کے سکولوں سے اپنے سفارتکاروں کے بچوں کو نکالنے کی ہدایت کا اقدام سکولوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے سے متعلق را کی منصوبہ بندی کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے اعلیٰ حکومتی ذمہ داران اور عسکری قائدین نے پہلی بار کھل کر دہشت گردی کے پس پردہ محرکات و عوامل کی صحیح نشاندہی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں ’’را‘‘ دہشت گردی کروا رہی ہے اور یہ کہ ’’را‘‘ کے کردار کو بے نقاب کئے بغیر امن ممکن نہیں ہے۔ بلوچستان کے سابق وزیرداخلہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’’را‘‘ افغانستان کے راستے بلوچستان میں تخریب کاری کروا رہی ہے۔ سیکرٹری دفاع پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی میں یہی بات دھرا چکے ہیں۔ ’’را‘‘ اس وقت پاکستان کے لئے دہشت گردی کا دوسرا نام بن چکی ہے۔ پاکستان میں ہونے والی ہر دہشت گردی کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔ ’’را‘‘ کی دہشت گردی کے ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ کراچی میں ہونے والی دہشت گردی کے دو ملزمان ’’را‘‘ سے تربیت لینے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
یہ خبریں بھی منظر عام پر آ چکی ہیں کہ پاک چین اقتصادی منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے ’’را‘‘ نے خصوصی ڈیسک قائم کر دیا ہے ،جس کے لئے 300ملین ڈالر مختص کر دیئے گئے ہیں۔ ہماری سول و عسکری قیادت کے ان بیانات وتحفظات پر بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے یہ کہہ کر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ ہم پاکستان میں دہشت گرد داخل کریں گے۔ بھارتی وزیر دفاع کا یہ بیان ڈھٹائی کی انتہا ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنا بھارت کی قومی پالیسی ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف ’’را‘‘ کی مدد سے اعلانیہ جنگ مسلط کررکھی ہے۔ پاک چین اقتصادی معاہدوں کے بعد اس جنگ میں تیزی اورشدت آچکی ،برہمن کا غیظ وغضب اور حسد چھپائے نہیں چھپ رہا۔ پاک چین اکنامک کارویڈور بھار ت اور امریکہ کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک اور سانپ بن کر لوٹ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان معاہدوں کے بعدایک طرف مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم میں ایک دم اضافہ ہو گیا ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کی لہر میں بھی شدت پیدا ہوچکی ہے۔ سانحہ صفورا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اسماعیلی کمیونٹی پر حملہ ایک فرقے پر نہیں، بلکہ پورے پاکستان پر حملہ ہے۔ بھارت پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑے ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ ’’را‘‘ پاکستان کو گرانا،جھکانا اور دنیا کے نقشے سے مٹانا چاہتی ہے۔ ان شاء اللہ ’’را‘‘ کے یہ مذموم مقاصد اسی طرح ناکام ہوں گے ،جس طرح 1947ء کے موقع پر دشمن کی سازشیں ناکام ہوئی تھیں۔
بھارت سے دوستی ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ بھارت نہ پہلے پاکستان کا خیر خواہ تھا اور نہ ہی اب ہے بلکہ اس کا ایجنڈہ پاکستان کو کمزور اور ایٹمی پر وگرام ختم کر نا ہے مگر ابھی تک اس کو کا میابی نہیں ہوئی۔پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں ہونیوالی دہشت گردی سمیت ملک بھر میں ہونیوالی دہشت گردی کے اکثر واقعات کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ دہشت گردی کے معاملے میں بھارت خود کفیل ہے جبکہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے وہ ڈرامہ رچا رہا ہے۔ بھارت پورے خطے کا تھانیدار بننا چاہتا ہے۔


ای پیپر