نیت ، عمل اور اتحاد
14 اپریل 2018

کسی کام کی ابتدا کے لئے سب سے پہلے اس کے متعلق نیت کی جاتی ہے ۔انسان اپنے دماغ میں اس کے بارے میں سوچتا ہے اور اس کا منصوبہ بناتا ہے کہ یہ کام کس طرح مکمل ہو گا۔ اس کی راہ میں آنے والی مشکلات پر غور و فکر کرتا ہے۔ان مشکلات سے نمٹنے کے لئے تما م تر کوششیں بروئے کار لاتا ہے۔اس کے بعدعملی طور پر اس منصوبے پر کام کرنا شروع کر دیتا ہے اور ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس کو دوسرے لوگوں کی ضرورت ہو تی ہے ۔وہ مختلف قسم کے لوگوں کو اکٹھا کرتا ہے اور اپنے منصوبے کے بارے میں ان کو آگاہ کر تا ہے۔ان میں سے کچھ لوگ اس کے ساتھ مل جاتے ہیں اور کچھ لوگ اس کے ساتھ ملاپ نہیں کرتے ۔جو لوگ ساتھ مل جاتے ہیں ان کو اکٹھا کرکے اتحاد بنا لیتا ہے اور یہ اتحاد اس کے بنائے گئے منصوبے کو منزل پر پہنچانے کے لئے اہم کردار ادا کرتا ہے۔مسلسل جدوجہد کے بعد یہ اتحاد اپنا مطلوبہ ہدف حاصل کر سکتاہے۔
سعودی عرب نے مسلم ممالک کو اکٹھا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اسلامی ملکوں کا اتحاد بنانا چاہیے تا کہ مل کر کسی قسم کی ناگہانی صورت حال کاسامنا کر سکیں۔سعودی عرب کی کوششوں کے باعث اسلامی ملکوں کا اتحاد وجود میں آیا۔ اس اتحاد کا سب سے اہم مقصد اسلامی ممالک اور دنیا سے دہشت گردی ختم کرنا اور اس کا مقابلہ کرنا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال میں دہشت گردی سب سے اہم مسئلہ ہے ۔یہ پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ دہشت گردی پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔یہ کس طرح پھیلی ۔ اس کی کیا وجوہات ہیں ۔یہ سوالات پوری دنیامیں رہنے والے ہر فرد کے ذہن میں ہیں۔صدام حسین عراق کا صدر تھا اور ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب امریکہ اس کا حمایتی تھا۔اس حمایت کے پیش نظر صدام حسین نے کویت پر حملہ کر دیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔یہی وہ موقع تھا جس کا امریکہ کافی عرصے سے انتظار کررہا تھاکیونکہ وہ عرب ملکوں میں داخل ہو نا چاہتا تھا۔سعودی عرب کے کہنے پر امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کی فوجیں سعودی عرب میں داخل ہو گئیں اور عراق کو خبر دار کیا کہ اگر اس نے اپنی فوجیں کویت سے واپس نہیں بلائیں تو امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک اس پر حملہ کر دیں گے۔
اس وقت صدام حسین نے ایک نہ سنی اور اپنے مؤقف پر ڈٹا رہا۔ جس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں نے عراق پر حملہ کر دیا اور کچھ عرصے کے بعد اس پر قبضہ کر لیا۔عراق اس حد تک غیر مستحکم ہو گیا کہ اس کے پورے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع ہو گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ معمول بن گئیں جو کہ آج تک جاری ہیں۔
پھر نائن الیون کا واقعہ سرزد ہوا جس میں امریکہ کا ورلڈ ٹریڈ سنٹر تباہ ہو گیا۔ اس دہشت گردی کا سارا ملبہ القاعدہ پر ڈال دیا گیا۔ اس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے افغانستان پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔اس قبضہ کے بعد افغانستان میں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کا آغاز ہو گیا۔جس کے بعدافغانستان بھی غیر مستحکم ہو گیا۔
امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کا عراق اور افغانستان پر حملہ کرکے ان ملکوں پر قبضہ کرنا ہی دہشت گردی کا باعث بنا ۔ دہشت گردی عراق سے ہوتی ہوئی عرب ممالک میں اور اس کے بعد افغانستان سے ہوتی ہوئی پاکستان میں پہنچ گئی ۔پاکستان ، افغانستان اور دوسرے عرب ممالک اس کا نشانہ بن گئے۔دہشت گردی دن بدن بڑھتی گئی اور پوری دنیا میں پھیل گئی ۔امریکہ اوریورپی ممالک میں بھی دہشت گردی کے واقعات وقوع پذیر ہونے لگے۔اب یہ پوری دنیا کے لئے مصیبت بن گئی ہے ۔اب دیکھا جائے تو یہ بات عیاں ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں نے دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے بہت کوششیں کی ہیں لیکن یہ ختم نہ ہو سکی۔
کبھی کسی نے غو ر کیا ہے کہ دہشت گرد کہاں سے آتے ہیں ۔کس طرح تیار ہوتے ہیں اور اس کے پیچھے کیا حقائق ہیں۔کہتے ہیں کہ شاخیں کاٹنے سے درخت ختم نہیں ہوتا بلکہ جڑ سے اکھاڑنے سے ختم ہوتا ہے۔اسی طرح دہشت گردی کو بھی جڑ سے اکھاڑنا پڑے گا۔ہمیں ان برائیوں کو ختم کرنا پڑے گاجن سے دہشت گردی پید ا ہوتی ہے۔بڑے ملکوں کا تیل ، گیس اور دوسرے ذخائر حاصل کرنے کے لئے چھوٹے ملکوں پر قبضہ کرنا، ان کے بنیادی حقو ق کی خلا ف ورزی کرنا، ان کو فرقوں میں بانٹ کر غیر مستحکم کرنا ، ان پر ظلم کرنا اور اس ظلم کی وجہ سے پھیلنے والی نفرت، یہ وہ بنیادی حقائق ہیں جو دہشت گردی کو پیدا کرتے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ بڑے ملکوں کو چھوٹے ملکوں کے حقوق کا خیال کرنا پڑے گااور اپنے اندر موجود خامیوں کو دور کرنا پڑے گا۔بڑے ممالک اپنے اند ر موجود خامیوں کو دور کرکے دنیا کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔
مسلم ممالک نے دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے جو اتحاد بنایا ہے اس اتحاد میں دنیا کے تمام ممالک کو شامل ہونا چاہیے کیونکہ دہشت گردی صرف اسلامی ملکوں کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ تمام ممالک کو چاہیے کہ سب سے پہلے نیت کریں اس کے بعد عمل کریں اور عملی طور پر اس اتحاد کو مثالی بنائیں ۔یہ اتحاد دنیامیں دہشت گردی ختم کرکے امن وامان پید ا کر سکتا ہے۔


ای پیپر