مضر صحت اشیاء خورونوش پر مستقل پابندی لگائی جائے
14 اپریل 2018



سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے چینی نمک اجنیوموتو کی فروخت پر پابندی عائد کردی ہے کہ یہ نمک طبی تحقیق کے مطابق دمہ، سانس کے امراض کے علاوہ قوت مدافعت کو ختم کرنے کا باعث ہے۔ پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ نمک چینی کھانوں کے لازمی جزوکے طورپر گھروں اور ہوٹلوں میں فیشن کے طورپر استعمال کیا جارہا تھا اور اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس عرصہ کے دوران کتنے ہزار ٹن یہ مضر صحت نمک پاکستانی قوم کو کھلایا جاچکا ہوگا۔ قابل شرم بات یہ ہے کہ پاکستان میں دنیا کا سب سے قیمتی اور نایاب نمک کثیر مقدار میں موجود ہے۔ یہاں اس نمک کے پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے۔ اس قیمتی سالٹ رینج میں موجود بیسیوں کانوں سے یہ قیمتی نمک جو پہاڑی نمک ۔ پتھر کا نمک اور لاہوری نمک کہلاتا ہے نکال کر پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں سپلائی کیا جاتا ہے اور سمندری نمک استعمال کرنے والے ممالک ہمارے اس لاہوری نمک کو سوغات سمجھ کر استعمال کرتے ہیں جبکہ بہت سی دیسی اور ولایتی ادویات کی تیاری میں بھی یہ ایک اہم جزو کے طورپر استعمال ہوتا ہے۔
چیف جسٹس کا شکریہ! لیکن آپ ذرا آج غور کریں ہم روزانہ اجنیوموتو جیسا زہریلا کیمیائی مادہ غذا کے نام پر اپنے جسموں میں انڈیل رہے ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف ملک میں صحت کا معیار گر رہا ہے، ادویات اور علاج معالجے پر ہر فرداور قوم کا بے حساب سرمایہ خرچ ہورہا ہے بلکہ انسانی زندگی کا معیار اور عمر کی معیاد بھی گھٹتی جارہی ہے لیکن ہم میں سے بیشتر کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ وہ ذائقے اور ضرورت کے نام پر کس کس طرح کا زہر پھانک رہے ہیں جبکہ ادارے مفادات کے اسیر ہونے کی وجہ سے اس قبیح جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ ہمارے ہاں دودھ کی فروخت اس کی پیداوار سے کہیں زیادہ ہے۔ زائد دودھ کیمیائی طورپر تیار کرکے قوم کو پلایا جارہا ہے اس سنتھیٹک یا لیمیائی دودھ کے اثرات پیٹ کی بیماریوں کی شکل میں ہمارے سامنے آرہے ہیں، بناسپتی گھی کو بنانے کے لیے جو کیمیائی گیس استعمال ہوتی ہے ڈاکٹر اس کے خلاف سالہاسال سے چیچ رہے ہیں لیکن یہ کیمیائی گھی لاکھوں ٹنوں کے حساب سے قوم کو کھلایا جارہا ہے۔ سفید چینی جو کبھی ولایتی چینی کہلاتی تھی وہ کیمیائی اجزا کے شامل کرنے سے موجودہ شکل اختیار کرتی ہے۔ اس کے خلاف جتنی آگاہی مہم چلی اتنی ہی اس کی فروخت میں اضافہ ہوتا گیا۔ بازار میں فروخت ہونے والی شکر یا گڑ کو اس کا متبادل قرار دیا گیا لیکن بدقسمتی ملاحظہ فرمائیں کہ گڑ شکر بنانے والوں نے ایک چوتھائی گنے کے رس میں تین چوتھائی اسی سفید چینی کا شیرا ملا کر گڑ اور شکر بنانا شروع کر دیا ہے۔ مرغی کی فیڈ میں جو کیمیائی اجزاء شامل کیے جاتے ہیں وہ چند دن میں مرغی کے گوشت کی شکل میں ہماری روزمرہ کی خوراک کا حصہ بن رہے ہیں۔ کیمیائی کھادوں کا بے تحاشا استعمال ہماری فصلوں اور اجناس میں داخل ہوکر ہماری روزمرہ کی خوراک کا حصہ بن چکا ہے۔ صنعتی کارخانوں کے کیمیائی اجزاء سے آلودہ پانی خصوصاً چمڑے کے کارخانوں سے خارج ہونے والا خطرناک کیمیائی پانی قریبی کھیتوں میں پہنچ کر وہاں اگنے والی سبزیوں میں کسی رکاوٹ کے بغیر شامل ہورہا ہے۔ اور یہ کیمیازدہ سبزیاں ہرروز ہمارے جسم اور خون کا حصہ بن رہی ہیں۔ بند ڈبوں میں فروخت کیا جانے والا وہ دودھ جس کے بارے میں سپریم کورٹ حکم دے چکی ہے اس پر لکھا جائے کہ یہ دودھ نہیں ہے اب بھی مارکیٹ میں فروخت ہورہا ہے۔ یہ وائٹنر ایسے کیمیائی اجزاء سے تیار ہوتا ہے جو انسانوں خصوصاً چھوٹے بچوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ حکومت نے کاربونیٹڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنک کے تعلیمی اداروں میں فروخت پر پابندی لگادی ہے۔ یہ نقصان دہ کیمیائی اجزا ء کا مجموعہ ہے لیکن یہ ڈرنکس تعلیمی اداروں کے باہر کھلے عام فروخت ہورہے ہیں۔ کیا یہ طلباء وطالبات کے علاوہ باقی انسانوں کے لیے فائدہ مند ہیں؟ ان کی فروخت پورے ملک میں ممنوع قرار دی جانی چاہیے۔ ذرا غورکیجئے کہ گائے ، بھینس، بکری، اونٹنی کا تازہ دودھ ابالنے کے بعد بھی زیادہ سے زیادہ چوبیس گھنٹے تک قابل استعمال رہتا ہے لیکن ہماری بیکریاں گروسی سٹورز اور کریانہ کی دکانیں بندڈبوں میں محفوظ ایسے دودھ سے بھری پڑی ہیں جن پر میعاد استعمال (ایکسپائرڈیٹ) 6ماہ درج ہے دودھ کو 6ماہ تک محفوظ رکھنے والے کیمیائی اجزاء انسانی جسم میں داخل ہوکر کیا کیا خرابیاں پیدا کرتے ہوں گے یہ صرف ماہرین ہی جانتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیار کھانوں فروزن پراٹھوں، دودھ اور دوسری کھانے پینے کی اشیاء کو جن کیمیکلز کے ذریعے کئی کئی ماہ محفوظ کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ وہ شاید ان اشیاء کو تو محفوظ کر لیتے ہوں مگر انسانی صحت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ کہ انسانوں کے رب نے انسانی جسم کو سادھا اور خالص خوراک کے لیے بنایا ہے۔ کیمیائی
اجزاء یا محفوظ کرنے والی اشیاء کے لیے نہیں۔ ہمارے کولڈ سٹوریج میں مچھلی پر خاص قسم کے کیمیائی اجزاء لگاکر اسے مہینوں کے لیے محفوظ کیا جارہا ہے۔ اسی قسم کی ویت نام سے آنے والی مچھلی کو پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مضر صحت قرار دے کر حال ہی میں اس کے استعمال پر پابندی لگائی ہے۔ ادرک کے بڑے بیوپاری ادرک کو ایک خاص قسم کے تیزاب میں کئی گھنٹے ڈبو کر نہ صرف اس کی رنگت بہتر کرتے ہیں بلکہ اس کے وزن میں بڑھالیتے ہیں لیکن ادرک میں داخل ہوجانے والا یہ تیزاب انسانوں کے ساتھ کیا کررہا ہے اس کا کسی کو احساس نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سپریم کورٹ ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن تشکیل دے جو کھانے پینے کی تمام اشیاء خصوصاً طویل عرصہ تک محفوظ کی جانے والی اشیاء خورونوش کا لیبارٹری تجزیہ کرائے اور مضر صحت اشیاء پر نہ صرف ہمیشہ کے لیے پابندی لگادے بلکہ اس کاروبار میں شریک لوگوں کو سخت سزائیں بھی دے جو انسانی صحت سے کھیل کر انتہائی قبیح جرم کا ارتکاب کررہے ہیں۔


ای پیپر