Photo Credit : Facebook

نئے صوبے بنانے کیلئے وزیرا عظم کی پیشکش
14 اپریل 2018 (18:33) 2018-04-14

لاہور :مسلم لیگ ن کو تو جیسے نظر ہی لگ گئی ،جی ہاں نواز شریف کیخلاف پانامہ کا فیصلہ آنے کے بعد پارٹی مشکلات کا شکار ہے ۔کبھی مسلم لیگ کی صدارت کیلئے چنا ﺅ کا فیصلہ اور کبھی تا حیات نا اہلی جیسے فیصلے ،ان تمام معاملات کے بعد جنوبی پنجاب میں بغاوت نے تو مسلم لیگ ن کیلئے ایک پہاڑ کھڑا دیا ۔نواز شریف نے ایسی صورتحال میں ٹاسک وزیر اعظم کو دیا جنہوں نے گزشتہ روز جاوید ہاشمی سے بھی ملاقات کی اور آج وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تمام پارٹیوں کو نئے صوبے بنانے کے حوالے سے پیشکش بھی کر دی ۔

بہاولپور میں نیشنل ہائی وے جلال پور اوچ شریف سیکشن کے افتتاح پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ واحد حکومت ہے جو نہ صرف حکومت شروع کرتی ہے بلکہ مکمل بھی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان بنا 20 ہزار میگاواٹ بجلی بنانے کے منصوبے لگے لیکن اس حکومت نے اپنے دور میں 10 ہزار چار سو میگاواٹ کے اضافی منصوبے مکمل کیے، اس کی ترسیل میں مشکلات ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی کام کیا جاتا ہے تو مشکلات آتی ہے، مشکل مشرف کو نہیں آئی، زرداری کو نہیں آئی اور عمران خان کو نہیں آئی کیونکہ انہوں نے کوئی کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں سب کے پاس ہیں، کوئی جماعت ایسی نہیں جس کے پاس حکومت نہ ہو، پنجاب میں شہباز شریف کا کام دیکھ لیں، فرق سب کو نظر آتا ہے، کے پی کے میں عمران خان اور سندھ میں زرداری کا کام دیکھ لیں۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آئین میں ترمیم کوئی ایک جماعت نہیں کرسکتی، یہ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ہوتی ہے جب کہ نیا صوبہ بنانے کے لیے کوئی ایک جماعت فیصلہ کرسکتی ہے اور نہ کرنا چاہیے، مسلم لیگ (ن) نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد پاس کرائی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نئے صوبے کے لیے تمام جماعتوں کو بات چیت کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبوں کے بارے میں سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے فیصلہ کریں گی۔


ای پیپر