تصویر: فیس بک

چیف جسٹس نے خواجہ سعد رفیق کو’ لوہے کے چنے ‘کیساتھ طلب کر لیا
14 اپریل 2018 (16:39)

لاہور:سپریم کورٹ نے ریلوے میں 60 ارب روپے کے خسارے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پاکستان ریلویز کا مکمل آڈٹ کرانے جبکہ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور سیکرٹری ریلوے کو آئندہ ہفتے تک ریلوے خسارہ کے حوالے سے تحریری جواب اخل کرانے کا حکم دیدیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار اور وزیر ریلوے کے درمیان مکالمہ بھی ہوا۔ ہفتہ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے ریلوے میں 60 ارب روپے کے خسارے سے متعلق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت کی ۔

سماعت میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے خواجہ سعد رفیق سے کہاکہ خواجہ سعد رفیق روسٹرم پر آئیں اور لوہے کے چنے بھی ساتھ لے کر آئیں جس پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ یہ بیان آپ کے لیے نہیں بلکہ سیاسی مخالفین کے لیے تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بتائیں ریلوے میں کتنا خسارہ ہوا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آپ نے مجھے یاد کیا تھا۔ جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ہم نے یاد نہیں کیا تھا سمن جاری کیا تھا۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ آپ ہمارے بھی چیف جسٹس ہیں، کیا میں بیٹھ جاو¿ں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ نہیں جب تک ہم نہیں کہیں گے آپ کھڑے رہیں گے۔

عدالت میں آ کر بھی آپ جارحانہ انداز اپنا رہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے جواب دیا کہ میں جارحانہ انداز نہیں اپنا رہا موقف دینے کی کوشش کر رہا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جس نیت سے آئے ہیں ہم جانتے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے چیف جسٹس سے کہا کہ مجھے بولنے کی اجازت دی جائے۔ اگر مجھے نہیں سننا تو میں پھر چلا جاتا ہوں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک عدالت نہیں کہے گی آپ چپ رہیں گے ، وہ وقت چلا گیا جب عدالتوں کی بے احترامی کی جاتی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جہاں آپ دو تین روز پہلے گئے تھے وہاں آپ کو نہیں جانا چاہیے تھا۔ آپ کو دوبارہ جیل بھی ہو سکتی ہے۔ اگر آپ اداروں کی عزت نہیں کریں گے تو کوئی آپ کی بھی عزت نہیں کرے گا۔ آپ نے دیکھا آج عدالت کے سامنے آپ کی باڈ ی لینگوئج کیا تھی؟ جب تک عدالت اجازت نہیں دے گی آپ چپ رہیں گے میں جہاد کر رہا ہوں مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا۔ عدالت نے پاکستان ریلویز کا مکمل آڈٹ کرانے اور خواجہ سعد رفیق اور سیکرٹریز ریلوے کو آئندہ ہفتے تک ریلوے خسارہ کے حوالے سے تحریری جواب داخل کرانے کا حکم دیدیا۔


ای پیپر