آرٹیکل 62 ون ایف کو ختم کرنے کے حوالے سے غلطی ہوئی: مریم اورنگزیب
14 اپریل 2018 (14:57) 2018-04-14

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آرٹیکل 62ون ایف کو ختم کرنے کے حوالہ سے ( ن ) لیگ سے غلطی ہوئی ۔ نواز شریف کا وژن کلیئر ہے اور وہ بڑی وضاحت کے ساتھ بات کرتے ہیں کہ ان قوانین کو جو آمر کے دور میں بنے اس کو پارلیمنٹ سے باہر نکال کر پھینک دینا چاہیے ۔ جب پارلیمنٹرینز پر کوئی بھی کرپشن کا الزام نہ ملا ہو تو آمدنی سے زائد اثاثوں کا نظریہ ضرورت استعمال کر کے اس طرح منتخب وزراء اعظم کو گھر بھیجا جاتا ہے ۔ پاکستان کی پارلیمان میں ہی یہ ترمیم ہو گی اور اس کالے قانون کو باہر نکالا جائے گا۔ 2013 ء کے انتخابات کے بعد ہماری حکومت کا استقبال ہی ایک دھرنے سے کیا گیا ۔


نجی ٹی وی سے انٹرویو میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کو ختم کرنے کے حوالہ سے ( ن ) لیگ سے غلطی ہوئی ۔ اس طرح کے قوانین جو آمریت کے دور میں بنے تھے اور ایک آمر بہانا تھا اسی کو اسی طرح جس طرح ایک آمر آئین کو رد کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینکتا ہے یہ تمام قوانین اسی طرح پارلیمان سے باہر نکالنے چاہئیں تھے ۔ یہ نہیں سوچا جا سکتا اور یہ نہیں ہوسکتا کہ غلطی پر غلطی کو دہرانا چاہیے ۔ سیاسی جماعتیں ایک ارتقاء کے عمل سے گزرتی ہیں اور یہ نہیں ہوسکتا کہ ( ن ) لیگ جو 1980 ء کی دھائی میں تھی 1990 ء کی دھائی میں تھی وہی 2018 ء میں ہو گی ۔ ارتقاء کے عمل سے گزر کر سیاسی جماعتیں میچورٹی حاصل کرتی ہیں ۔ اگر اسی طرح جمہوری عمل پاکستان میں جدوجہد کرتا رہا اور مضبوطی ہوتی رہی تو سیاسی جماعتیں بھی میچورٹی حاصل کر لیں گی ۔


مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 2013 ء میں جب ہماری حکومت آئی تو ہم یہ کرنا چاہتے تھے اور یہ ہونا بھی چاہیے تھا لیکن ہماری حکومت کا استقبال ہی ایک دھرنے سے کیا گیا اور عمران خان بھی امپائر کی انگلی کے انتظار میں کھڑے رہے اور دھرنے کے پیچھے جو بیک اسٹیج تھا وہ اب پوری قوم کے سامنے ہے ۔ ہمیں ہر مرحلہ مفلوج کیا گیا اور روکا گیا ۔ آج ساڑھے چار پانچ سال گزرنے پر یہ دیکھا جائے کہ کتنے دھرنے ہوئے کتنے لاک ڈاؤن ہوئے اور کس طرح کبھی ڈی چوک کو بند کرنے کی بات ہوئی اور دھرنے دئیے گئے اور اس کے باوجود ہماری ساڑپے چار ، پانچ سال ہماری کارکردگی رہی ہے وہ گزشتہ 66 سال برس کے مقابلہ میں کسی بھی شعبہ میں دیکھ لیں ۔ توانائی کے شعبہ میں دیکھ لیں ۔ انفراسٹرکچر ، معیشت کے جو حالات 2013 ء میں تھے وہ دیکھ لیں ۔ صحت کے شعبہ کو دیکھ لیں ۔


ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے تسلسل کی وجہ سے ہی حکومتیں کارکردگی دکھاتی ہیں اور اسی طرح ارتقاء کے عمل سے گزر کر سیاسی جماعتیں سیکھتی بھی ہیں اور فیصلے بھی کرتی ہیں ۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اپنی اور وزارت عظمیٰ پر واپس آنے کے لیے نہیں ہے لیکن اس روایت کو ختم کرنے کے لیے جو 70 سال سے پاکستان کے منتخب وزراء اعظم کے ساتھ ہوتا آیا ہے ۔ اس میں پارلیمان ہی قانون سازی کرتی ہے اور یہ اسی کا آئینی حق ہوتا ہے اور آئین اس کو حق دیتا ہے صرف وہی ترمیم کر سکتی ہے اورپاکستان کی پارلیمان سے ہی یہ ترمیم ہو گی اور اس کالے قانون کو باہر نکالا جائے گا ۔


ای پیپر