سپریم کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹائون مقدمات 2 ہفتے میں نمٹانے کا حکم دیدیا
14 اپریل 2018 (12:37)

لاہور: سپریم کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹائون سے متعلق زیر التواء مقدمات 2 ہفتے میں نمٹانے کا حکم دیدیا ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے ہیں کہ ججز کی عزت نہ کرنے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں ۔ ماورائے قانون کوئی اقدام نہیں کریں گے ‘ کیا نواز شریف سمیت کسی بھی سیاستدان کی طلبی سے متعلق حکم موجود ہے ؟ سپریم کورٹ نے اے ٹی سی جج اعجاز اعوان کی چھٹیاں منسوخ کرت ہوئے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرنے کا حکم دیدیا ۔


سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سانحہ ماڈل ٹائون از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے سانحہ ماڈل ٹائون سے متعلق زیر التواء مقدمات 2 ہفتے میں نمٹانے کا حکم دیدیا ۔ عدالت نے جسٹس باقر نجفی رپورٹ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کا بھی حکم دیدیا ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے ہیں کہ ماورائے قانون کوئی اقدام نہیں کریں گے۔ میرے ججز کی عزت نہ کرنے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں ہے۔ عدالت نے اے ٹی سی جج اعجاز اعوان کی چھٹی منسوخ کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا حکم دیدیا ۔


چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف سمیت کسی بھی سیاستدان کی طلبی سے متعلق حکم موجود ہے۔ پراسیکیورٹر ج نرل نے سانحہ کے دونوں مقدمات اور استغاثہ کا ریکارڈ عدالت میں پیش کر دیا۔ چیف جسٹس نے درمیان میں بولنے پر اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ عدالت نہیں جہاں لوگو ں کی بے عزتی کریں۔ ایک منٹ میں لائسنس معطل کر دوں گا۔


ای پیپر