امریکہ اور اتحادی افواج نے شام پر حملہ کر دیا
14 اپریل 2018 (11:58)


دمشق: امریکہ ، برطانیہ اور فرانس نے شام پر حملہ کر دیا ، حملوں میں امریکی بحریہ اور جنگی طیاروں نے حملوں میں حصہ لیا ۔ بحیرہ روم سے شام کی کیمیائی تنصیبات پر کروز میزائل داغے گئے۔ شام میں تین اہداف کو نشانہ بنایا گیا،پہلا ہدف کیمیائی سائنسی لیب تھا کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیروں کو تباہ کر دیا گیا ، دمشق میں متعدد دھماکے سنے گئے ہیں، کئی مقامات سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا ،حملوں سے متعلق روس کو کوئی پیشگی اطلاع نہیں کی گئی۔شامی فضائیہ نے دشمن کے ایک درجن سے زائد میزائلز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔


تفصیلات کے مطابق امریکہ ، برطانیہ اور فرانس نے شام پر حملہ کر دیا ، حملوں میں امریکی بحریہ اور جنگی طیاروں نے حملوں میں حصہ لیا ۔ بحیرہ روم سے شام کی کیمیائی تنصیبات پر کروز میزائل داغے گئے۔ امریکی میڈیا اور دفاعی حکام کے مطابق حملے میں ٹوماہاک کروز میزائل، بی ون بمبرز، بحری جہاز اور امریکی جنگی طیاروں کا استعمال کیا گیا۔ امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ شام میں تین اہداف کو نشانہ بنایا گیا جس میں دمشق کا سائنسی تحقیق ادارہ ، حمص کے مغرب میں واقع کیمیائی ہتھیار رکھنے کا مرکز اور حمص کے نزدیک ہی کیمیائی ہتھیاروں کے ساز و سامان رکھنے کی جگہ اور اہم کمانڈ پوسٹ شامل ہیں ۔


امریکی وزیر دفاع جمیز میٹس کے مطابق فضائی حملہ شام کے صدر بشارالاسد کو پیغام پہچانے کے لیے ون ٹائم شوٹ تھا۔امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ شام پر حملوں میں کیمیائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے ، کیمیائی تنصیبات جہاں بھی ہوں گی نشانہ بنائیں گے ، شام پر مزید حملوں کی پلاننگ نہیں ، مستقبل میں حملوں کا تعلق صدر بشارالاسد کے رویے پر ہوگا۔پینٹا گون کا کہنا تھا دمشق میں پہلا ہدف کیمیائی سائنسی لیب تھا ، کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیروں کو تباہ کر دیا گیا ہے ، کیمیائی تنصیبات کی تباہی بشارالاسد حکومت کے لیے دھچکا ہوگی۔ جنرل ڈنفورڈ نے کہا اہداف کو نشانے کے بعد شام پر حملے روک دیئے ہیں ، حملوں سے متعلق روس کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شام پر حملہ روس کی ناکامی کا نتیجہ ہے ، حملہ گذشتہ ہفتے کئے گئے کیمیائی حملوں کا جواب تھا ، شام پر حملوں کا تسلسل برقرار رہے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روس کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ مہذب دنیا کا ساتھ دینا ہے یا تاریک راستے کا۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا، برطانیہ اور فرانس کا مشترکہ آپریشن کیا جارہا ہے، ہم یہ کارروائی اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک شامی حکومت ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں روکتی۔ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کا کہنا تھا شام پر طاقت کے استعمال کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ، اپنی فوج کو حملے کی اجازت دی ہے ، پوری کوشش ہوگی حملے میں عام شہریوں کا نقصان نہ ہو، حملوں کا مقصد شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔فرانس کے صد ر امانویل میکرون نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا حملے کی منظوری اس لیے دی کیونکہ درجنوں مرد، عورتوں اور بچوں کا کیمیائی ہتھیاروں سے قتل عام کیا گیا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ریڈ لائن کراس کی گئی ہے۔


یاد رہے کہ گذشتہ برس اپریل میں بھی امریکا نے 59 کروز میزائلوں سے حمص کے قریب واقع شامی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا تھا ۔ یہ کارروائی حلب میں شہریوں پر کیمیائی مادے سے مبینہ حملے کا ردعمل تھی۔ شامی حکومت نے گزشتہ ہفتے شام کے علاقے دوما پر کیمیائی حملہ کیا تھا جس میںشام میں 7سال میں 50بار کیمیائی حملے ہوئے، شام کے سرکاری ٹی وی پر جاری کردہ بیان کے مطابق شامی فضائیہ نے دشمن کے ایک درجن سے زائد میزائل کو تباہ کردیا ہے۔ شامی صدر بشارالاسد نے کہا کہ امریکہ نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہے،30میزائل آئے ، ایک درجن سے زائد میزائل تباہ کر دیئے ۔


ای پیپر