میں اور چودھری شجاعت حسین !
14 اپریل 2018 2018-04-14

”سچ تو یہ ہے “ میں نے چودھری شجاعت حسین کی کتاب ابھی تک نہیں پڑھی لہٰذا میں اِس پر زیادہ بہتر لکھ سکتا ہوں، مگر میں چونکہ اس پر زیادہ بہتر نہیں لکھنا چاہتا اس لیے میں یہ کتاب پڑھ کر اُس پر لکھوں گا۔ یہ کتاب چارروز پہلے اُنہوں نے مجھے بھجوائی تھی، کتاب دیکھ کر مجھے اپنا مرحوم دوست دلدار پرویز بھٹی یاد آگیا۔ اُس نے مجھے اپنی پہلی کتاب ”آمنا سامنا“ بھجوائی تو اُس کے اندر سے ایک ”چٹ“ نکلی جس پر لکھا تھا ” بٹ صاحب ایسی کتاب نوں پڑھ کے ویچنا“ .... میں نے اُنہیں فون کیا اور عرض کیا ”بھائی جان پہلی بات تو یہ ہے کسی بٹ سے آپ یہ توقع کیسے کرسکتے ہیں وہ کوئی کتاب وغیرہ پڑھے گا؟ جب میں آپ کی کتاب پڑھوں گا ہی نہیں تو آپ کے اِس حکم کہ ”اِسے پڑھ کر بیچنا“ کی تعمیل کیسے کروں گا ؟ ویسے بھی وہ کتاب زیادہ سے زیادہ کتنے کی بِک سکتی ہے جو ایک بٹ کو پڑھنے کے لیے دی جائے اور وہ اِسے آسانی سے پڑھ اور سمجھ بھی لے؟.... چودھری شجاعت حسین کی کتاب کا ٹائیٹل بڑا خوبصورت ہے۔ اِس سے بھی ایک واقعہ مجھے یاد آگیا۔ احمد ندیم قاسمی مرحوم اور ڈاکٹر وزیر آغا مرحوم کی بہت لگتی تھی۔ دونوں یہ سمجھتے تھے وہ ایک دوسرے سے زیادہ بڑے ادیب ہیں۔ اِسی سے اندازہ لگالیں وہ کتنے بڑے ادیب تھے؟۔ڈاکٹر وزیر آغا کی کتاب شائع ہوئی، اُنہوں نے یہ کتاب قاسمی صاحب کو بھجوائی، چند روز بعد فون پر اُن سے پوچھا ”آپ کو میری کتاب کیسی لگی ؟“....قاسمی صاحب بڑی بیزاری سے بولے ” ہاں اِس کا ٹائیٹل اچھا ہے “ ....کچھ دنوں بعد قاسمی صاحب کی کتاب شائع ہوگئی، اُنہوں نے بھی اپنی کتاب ڈاکٹر وزیرآغا کو بھجوائی۔ چند روز بعد اُنہوں نے بھی فون پر اُن سے پوچھا ” آپ کو میری کتاب کیسی لگی ؟“۔ وہ بولے ” آپ کی کتاب کا تو ٹائیٹل بھی اچھا نہیں تھا“۔ ....ادیبوں کے درمیان ایسی نوک جھوک چلتی رہتی تھی۔ اب ایسی ”نوک جھوک “ ذاتی دشمنی میں بدل جاتی ہے، برداشت ختم ہوتی جارہی ہے۔ ایک سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ مجھ سے صرف اِس لیے شدید ناراض ہیں میں نے ایک بار ایسے ہی ازرہ مذاق اُن کے بارے میں لکھ دیا تھا ”ذوالفقار چیمہ بہت اچھے انسان ہیں“، یہ بات اُنہوں نے مجھے خود بتائی ہے .... اِس کے برعکس کچھ اعلیٰ ظرف لوگ بھی ہوتے ہیں۔ ایک بار شاید دلدار بھٹی نے لالے عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کے بارے میں لکھا ”اُن کی آواز میں اتنا درد ہے میں جب بھی اُن کا گانا سنتا ہوں میرے سر میں درد شروع ہوجاتا ہے“ ۔ اِس جملے پر لالے نے فون پر اُنہیں خوب داد دی، کیونکہ فون پر صرف داد ہی دی جاسکتی ہے ، .... بہرحال میں نے کچھ دنوں بعد آئرلینڈ جانا ہے، میں نے سوچا تھا چودھری شجاعت صاحب کی یہ کتاب دوران سفر پڑھوں گا۔ ہماری بدقسمتی اور محرومی ہے کتابیں پڑھنے کا ہمارے پاس اب وقت ہی نہیں بچتا ۔ اِسی لیے ہمارے پاس کچھ نہیں بچا ۔ سوائے ہوس، حرص اور طمع کے، جو دِن بدن بڑھتی جارہی ہے، اور اِس وجہ سے ہماری ”مصروفیات “ بھی اتنی بڑھتی جارہی ہیں کسی اچھے کام کے لیے چاہے وہ پڑھنے لکھنے کا ہی کیوں نہ ہو، ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ ایک زمانے میں لوگوں کے پاس گھڑیاں نہیں ہوتی تھیں وقت ہوتا تھا ۔ اب لوگوں کے پاس گھڑیاں بہت ہیں وقت نہیں ہوتا۔ اِس حوالے سے اگلے روز وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایک واقعہ سنایا،سابق وزیراعظم نواز شریف سے اُن کے ایک رُکن قومی اسمبلی نے گِلہ کیا ”سر آپ ہمیں عزت نہیں دیتے “ .... سابق وزیراعظم بولے ” ہمارے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا “ ۔....اب اللہ نے ”فارغ“ رہنے کے لیے اُنہیں بہت وقت دے دیا ہے۔ ایک زمانے میں کالم وغیرہ لکھنے کے لیے بڑا مطالعہ کرنا پڑتا تھا۔ اس کے بغیر اچھا کالم لکھنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اب کالم وغیرہ لکھنے کے لیے بھی پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ خصوصاً ”صاحب مطالعہ“ ہونے کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہ گئی۔ اب میرے جیسے کم علم، اور بے صلاحیتے بھی کالم وغیرہ لکھ لیتے ہیں، اور لوگ ہم جیسوں کے کالم پسند بھی کرلیتے ہیں، پہلے کالم لکھنے کا معیار ہوتا تھا تو کالم پڑھنے کا بھی ہوتا تھا۔ اب جیسے کالم لکھے جارہے ہیں ویسے ہی پسند بھی کئے جارہے ہیں،
اکثر اوقات میرے سب سے ”ماٹھے کالم“ کو بھی لوگ” لائیک“ کررہے ہوتے ہیں اور اُس پر ایسے ایسے کمنٹس کررہے ہوتے ہیں جیسے یہ میرا بہترین کالم ہو۔ ....ایسے کالموں پر ہمارے کچھ کالم نویس بھائیوں کو سرکاری ایوارڈ وغیرہ بھی مِل جاتے ہیں۔ میں نے تو خیر اِس کے لیے کبھی کوشش نہیں کی۔ مگر مجھے یقین ہے تھوڑی سی کوشش سے ایک آدھا ” پرائیڈ آف پرفارمنس “ تو میں بھی لے ہی سکتا ہوں۔ موجودہ حکمرانوں سے تو میری نہیں بنی۔ اگلے حکمران میری پسند کے آگئے ، میں پوری کوشش کروں گا کالم نگاری پر نہ سہی میرے کسی ایسے گانے پر ہی مجھے کوئی ایوارڈ وغیرہ دے دیا جائے جو اپنی طرف سے میں محمد رفیع یا مہدی حسن سے زیادہ بہتر گاکر اکثر ”فیس بک“ پر میں لگاتارہتا ہوں، .... ویسے تو زندگی میں کئی کالم بھی میں نے بہت بُرے لکھے ہیں، اُن پر بھی ایوارڈ دیا جاسکتا ہے۔ مگر ہمارے قلم کاروں میں حسد وغیرہ بڑا ہوتا ہے۔ لہٰذا ممکن ہے کالم نگاری پر مجھے ایوارڈ ملنے پر قلم کار ”قلم چھوڑ ہڑتال “ کردیں، جس کے بعد مجبوراً سرکار کو ایوارڈ واپس لینا پڑ جائے۔ فنکاروں اور گلوکاروں میں چونکہ ایسی ” جیلسی“ نہیں ہوتی۔ نہ اُن بے چاروں کی اتنی اہمیت ہوتی ہے کہ اُن کی ہڑتال کو حکمران کوئی اہمیت دیں، لہٰذا میری خواہش اور کوشش یہی ہوگی مجھے گانے پر ایوارڈملے۔ ویسے بھی میرا گانا میرے کالموں سے زیادہ بُرا ہے ، جس پر گانے پر ایوارڈ کا میں زیادہ مستحق ہوں۔ بس اللہ کرے اگلی حکومت کہیں عمران خان کی نہ آجائے ، کیونکہ اُس کا جنون اور جذبہ یہ ہے حکومت میں آنے کے بعد وہ ہر کام میرٹ پر کرے گا۔ اِن حالات میں ، میں اس سے یہ توقع کرسکتا وہ میرے لیے کسی کو یہ ہدایت دے کہ مجھے ایوارڈ وغیرہ دیا جائے ۔ یا مجھے کسی ملک کا سفیر وغیرہ لگادیا جائے۔ جس کی اپنے دِل میں ، میں خواہش پال کر بیٹھا ہوا ہوں۔ کیونکہ میرا کام تو کام خراب ہی کرنا ہے۔ وہ چاہے میں کالم لکھ کر کرلوں یا سفیر وغیرہ بن کر، کرلوں، ایک ہی بات ہے، .... ویسے عمران خان اقتدار میں آگیا سفیر وغیرہ لگنے کے لیے مجھے چاپلوسی کی اُس حدتک نہیں جانا پڑے گا جو میرا پہلے سے مرا ہواضمیر مزید مار دے، کیونکہ عمران خان کو زیادہ چاپلوسی پسند نہیں۔ ویسے بھی بددیانت حکمرانوںکی چاپلوسی کرنے سے دیانتدار حکمران کی چاپلوسی کرنا زیادہ بے شرمی اور بے عزتی کا باعث نہیں بنتی۔ جہاں تک چودھری شجاعت حسین کی کتاب اور اُس کی یادگار تقریب رونمائی کا تعلق ہے۔ اس پر پھر سہی !


ای پیپر