تم مرو نہ ہم مار رہے ہیں
14 اپریل 2018 2018-04-14

دنیا گھومنے کے شوق میں دو دفعہ ملک شام جانے کا اتفاق ہوا۔ پہلی بار2002 ءمیں لیکن اس وقت ملک شام سے کچھ خاص آشنائی نہیں تھی اور کبھی ارادہ بھی نہیں تھا بس اتنا معلوم تھا کہ جب بھی کوئی الف لیلوی کہانی کا آغازہوتا تھا تو ہمیشہ انہی الفاظ میں ہوتا تھا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملک شام میں ایک شہزادہ ہوتا تھا یا پھر کوئی لکڑ ہارہوتا تھا یا کبھی جنات کے بسیرے والے شام کو ہم جانتے تھے۔ کیوں کہ ہم تھوڑی انگلش میڈیم ٹائپ کے تھے تو یہ بہت دیر سے معلوم ہوا کہ سیریا ہی ملک شام ہے۔ 2002ءمیں بھی لندن سے واپسی پر سستی ٹکٹ کے چکر میں سیرین ایئر لائن کی ٹکٹ لے کر پاکستان واپس آنے کا قصد کیا اور دو دن کے لیے دمشق گھومنے کا موقع ملا۔ جان کر حیرانگی ہوئی کہ یہ وہ شام نہیں ہے جس کا ذکر کہانیوں میںسنا تھا۔ خیر گھومنے کے دوران کئی چشم کشا انکشافات ہوئے کہ یہ ملک دورحاضر کی جدت کے امتزاج کے ساتھ تہذیب و تمدن اور رہن سہن میں ایک اعلیٰ معیار رکھتا ہے۔ تعلیم، صحت ہو یا مذہبی ہم آہنگی یہاں اعلیٰ معیار کی ہی نظر آئی۔ تازہ تازہ لندن سے آرہا تھا اس لیے موازنہ میں تنقید آرہی تھی محض دو دن میں شخصی آزادی یوں بھی دیکھنے میں آئی کہ خواتین کو چ±ست جینززیب تن بھی دیکھا اور عبایا پہننے والوں میں کوئی کمی نہیں تھی۔ باریش مرد ہوں یا کلین شیو نوجوان سب ہی تو بازاروں اور تعلیمی اداروں کی رونق نظر آئے ایسے میں کچھ غیر ملکی طلبا سے ملاقات بھی ہوئی جس سے جو معلومات ملی نہایت ہی مثبت تھی۔ سوچا پھر کبھی ضرور باقاعدہ ویزہ لے کر اس ملک کو دیکھنے کے لیے آو¿ں گا۔ دوسری بار اس خواہش کو یاد رکھتے ہوئے 2012ءمیںشام میں کئی شامیں گزارنے کا اتفاق ہوا مگر یہ شام اب پہلے والے شام سے قدرے مختلف تھا کیوں کہ دنیا کی سپر پاورز کے زیر سایہ عرب سپرنگ کاآغاز ہوچکا تھا۔
کئی مسلم ممالک کسی خاص ذہنیت کی اختراع لیے اپنے انجام کو پہنچ چکے تھے اور جن ممالک میں 'کام' کا آغاز ہورہا تھا ان میں بدقسمت شام بھی شامل تھا۔ کیمیائی ہتھیاروں کے باغیوں کے خلاف استعمال کا نعرہ بلند کرتے ہوئے امریکن ائیر فورس حملے میں بشار الاسد کے کئی فوجی اڈے تباہ کرچکی تھی۔یہ وہی وقت تھا جب اقوام متحدہ نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال اور ان کی موجودگی کو جانچنے کے لیے ایک ٹیم مرتب کرکے شام بھیجی تھی اور اس ٹیم کی رپورٹ بھی بعد میں دنیا کے سامنے آگئی کہ کسی قسم کا کوئی کیمیکل ہتھیار باغیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوا۔ کسی حد تک دنیا کو بھی باور ہوگیا کہ امریکی حملہ ان تمام مثالوں کی ایک کڑی تھا جن کی بنیاد پر عراق میں لاکھوں انسانوں کے خون سے امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اپنے چہرے اور آستینیں رنگین کی تھیں مگر اب دیر ہوچکی تھی۔ باغیوں کو بشار رجیم کے خلاف سپورٹ ملنا شروع ہوچکی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ پرامن ملک آگ،خون، تباہی، معصوم بچوں کی لاشوں، ماو¿ں کی چیختی تصویروں، ساحل پر اوندھے منہ لیٹے ایلان کردی جیسے بچوں، تباہ حال عمارتوں اور دنیا بھر میں تارک وطن ہونے والوں کی خبروں کی پہچان بن گیا۔
آج کا شام 2002 ءکے شام سے بہت مختلف ہے۔ اب ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ شام کے مشرقی علاقے غوطہ کے شہر دوما میں حکومتی فورسز نے بیرل نامی کیمیائی بم پھینکے ہیں جس سے بچوں اور عورتوں سمیت 100 سے زائد افراد جاں بحق اور 1000 سے زائد زخمی ہوگئے۔
امریکا، برطانیہ اور یورپ نے عراق کی طرز پر کم و بیش انہی الفاظ کے ساتھ مذمت کی ہے۔ اور مبینہ کیمیائی حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے صدر بشارالاسد اور ان کے اتحادیوں روس اور شام کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کی اسد کو بھاری قیمت ادا کرنی ہوگی۔ یعنی اب انسانی جانوں کے فیصلے ٹویٹر اکاو¿نٹ کے ذریعے کیے جائیں گے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو یہ الفاظ بھی صدام اور قذافی کو دی جانے والی دھمکی سے مماثلت رکھتے ہیں ۔
تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق، پیر کے روز امریکی دھمکی کے بعد حمس کے فوجی اڈے پر میزائل حملہ ہوچکا ہے، متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات بھی آرہی ہیں ۔ دوسری جانب، شام اور روس دونوں نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کرتے ہوئے اسے من گھڑت رپورٹ قرار دیا ہے۔
روس نے تو امریکی دھمکی کے جواب میں اپنی پالیسی سیدھے سیدھے بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کی جانب اڑنے والے ایک ایک میزائل تباہ کردینگے لیکن برطانیہ کا کیا کریں اس نے تو شام کی تباہی کے لیے بحری بیڑا بھی روانہ کردیا ہے۔
اس وقت شام میں جیش الاسلام، داعش، النصر سمیت متعدد جنگجوو¿ں کے گروہ حکومت کے خلاف برسر پیکار ہیں ۔ شام کے حالات بگاڑنے میں کوئی شک نہیں روس، ایران، اسرائیل اور امریکا کا ہاتھ ہے۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل داعش، النصر اور جیش الاسلام کے جنگجوو¿ں کی مدد کررہے ہیں ۔ جبکہ ایران اور روس شامی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ یوں کہیے کہ پرامن شام کو غیر ملکیوں، پیڈ دہشت گردوں اوراسلحہ ساز فیکٹریوں نے اپنے لیے تخت مشق بنایا ہوا ہے۔ سعودی ولی عہد نے تو امریکا اور اس کے اتحادیوں کو شام کو تباہ کرنے کے لیے مکمل سپورٹ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ مسلم ممالک کے فوجی اتحاد میں شام، ایران اور عراق کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ اب سب کی سمجھ میں آرہا ہوگا۔
مسلم دنیا کا آپس میں اختلاف انہیں ہی تباہی کی طرف لے جارہا ہے۔ سادھے الفاظ میں یوں معلوم پڑ رہا ہے تمام طاقت ور اپنی طاقت کا استعمال کرناچاہ رہے ہیں ۔ شامی عوام کو یہ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے تم مرنا نہیں ہم ماررہے ہیں ۔


ای پیپر