پہلی چوری تے پہلا پھاہ
13 ستمبر 2020 (14:58) 2020-09-13

جس پولیس آفیسر کو اس کے کرپٹ اور سی گریڈ کی کارکردگی کا حامل ہونے کی تمام سرکاری رپورٹوں کے باوجود لاہور پولیس کا سربراہ متعین کیا گیا… آئی جی پنجاب سے رسمی مشاورت تک نہ کی گئی… اس پولیس آفیسر کے طنطنے کا یہ عالم تھا اس نے عہدہ سنبھالتے ہی ماتحت افسروں کو ہدایت جاری کی اس کی مرضی کے بغیر آئی جی کے کسی حکم پر بھی عمل نہ کیا جائے… ڈاکٹر شعیب دستگیر جنہیں چند ماہ قبل اپنے دو سالہ عہد کے پانچویں آئی جی پنجاب مقرر کرتے وقت وزیراعظم عمران خان نے ان کی مثالی پیشہ ورانہ اہلیت اور کردار کے بارے میں تعریفوں کے پل باندھ دیئے تھے… وہ اپنے ماتحت افسر کے اس رویے کے بارے میں شاکی ہوئے اسے MIS CONDUCT قرار دیا… وزیراعظم اور وزیراعلیٰ تک اپنے تحفظات کا اظہار کیا… کہا ان کے لئے اس قدر خودسر ماتحت افسر کے ساتھ کام کرنا مشکل ہو گا… اس کی پاداش میں آئی جی صاحب کو رخصت ہونا پڑا… اور پنجاب پولیس کی تاریخ کا عجیب واقعہ رقم ہوا کہ ایک ماتحت نے اپنے سب سے سینئر اور عہدے کے لحاظ سے بالادست افسر کو گھر کی راہ دکھا دی… مگر اس شخص یعنی ’سی سی پی او‘ لاہور عمر شیخ کو اپنے پہلے امتحان میں منہ کی وہ کھانی پڑی ہے کہ چند حکومتی وزراء سمیت پوری کی پوری اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں… عمر شیخ کواپنی زبان پر کنٹرول ہے نہ کارکردگی کا کوئی جوہر دکھا سکا ہے اُلٹا پوری حکومت سمیت سارے ملک کو پریشانی اور ہیجانی کیفیت میں مبتلا کر دیا… لیکن اپنے کہے پر ندامت ہے نہ اپنی ناقص کارکردگی پر اسے کسی قسم کی پریشانی ہے… لاہور کے قریب گجرپورہ کے علاقے میں آدھی رات کو اپنے تین بچوں سمیت گاڑی پر سفر کرتی ہوئی جوان عمر خاتون کو ابھی تک نامعلوم افراد نے جس درندگی کا نشانہ بنایا… بچوں کے سامنے اس کی عصمت دری کی گئی… ڈاکو زیورات اور نقدی وغیرہ سب کچھ چھین کر بھاگ گئے… موٹروے سنسان پڑی تھی… کسی قسم کی نگہبان پولیس موجود نہ تھی… ٹیلیفون پر رابطہ کرنے پر بے اعتنائی کے عالم میں جواب دیا گیا یہ ہمارے تھانے کی حدود کا علاقہ نہیں ہے… اس بیچاری خاتون اور اس کے بچوں کی حالت زار پر تبصرہ کرتے ہوئے ’سی سی پی او‘ عمر شیخ نے کہا اکیلی کیوں سفر کر رہی تھی… موٹروے کے ذریعے لاہور سے گوجرانوالہ جانے کے لئے جی ٹی روڈ کا راستہ کیوں نہیں اختیار کیا… گویا سارا قصور اس مظلوم عورت کا تھا جو اپنی عفت، زیورات اور نقدی سب کچھ لٹوا بیٹھی… ڈاکوئوں یا صحیح تر الفاظ میں انسان نما درندوں کا نہیں تھا… اور پولیس تو معصوم ہے ہی جس کا کوئی دستہ چھ ماہ قبل ٹریفک کے لئے کھول دی جانے والی لاہور تا سیالکوٹ موٹروے پر متعین نہ تھا وہ کیسے مدد کو آ سکتی تھی… جبکہ قریب کے تھانے کی پولیس نے یہ کہہ کر کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ جائے وقوعہ ہمارے لئے متعین کردہ علاقے سے باہر ہے… نئے نویلے سی سی پی او لاہور کا کلّہ چونکہ بہت مضبوط ہے… اس نے آتے ہی اپنے آئی جی کو نگل لیا ہے… مرضی کا آفیسر اپنے اوپر لے آیا ہے… وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے اس چہیتے کی بازپرس کرنے والا کوئی نہیں ماسوائے اس کے کہ ملک بھر سے بیانات مذمت آ رہے ہیں… میڈیا پر چیخ و پکار ہو رہی ہے… لیکن اس کی کسی کو پروا نہیں… قصور تو سارا اس خاتون کا ہے جس کی آبرو لٹ گئی… زیورات اور نقدی چھین لی گئی جس کے معصوم بچے ساری زندگی اس ڈرائونے خواب سے 

خوفزدہ رہیں گے… ذرا اس دلخراش واقعے کے جس نے سارے ملک کو ہلا کر اور خوفزدہ کر کے رکھ دیا ہے پورے تناظر کا جائزہ لیجئے…

(1) لاہور سیالکوٹ موٹروے چھ ماہ قبل یعنی مارچ 2020 میں تقریباً مکمل ہو گئی… ٹریفک کے لئے کھول دی گئی… لیکن اس کی نگہبانی کے لئے ٹریفک پولیس متعین نہ کی گئی… آخر کیوں؟ اس حد تک مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار کون ہے… وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور ان کے حکومتی رفقاء، ان کے تحت چلنے والا پولیس کا نظام یا کوئی اور… پاکستان میں موٹرویز کا اجراء نوازشریف کے مختلف ادوار میں ہوا… لاہور راولپنڈی اور بعد میں پشاور تک کی موٹروے پر ٹریفک رواں کرنے سے قبل اس کے لئے خاص طور پر تربیت یافتہ ٹریفک پولیس متعین کی گئی… جس نے بڑی مستعدی اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری کی پوری موٹروے پر دن یا رات کے کسی بھی حصے میں آرام دہ اور محفوظ سفر کو یقینی بنایا… ٹریفک پولیس کا نظام لمحہ بہ لمحہ نگرانی کرتا ہے سپیڈ کو کنٹرول میں رکھا جاتا ہے پٹرول پمپ میں مسافروں کے چائے پانی کے لئے نئے ریسٹورنٹ کھولے گئے…مگر اب اس میں بھی سقم آنا شروع ہو گئے ہیں… پہلے سب سے کم حادثات ہوتے تھے اب اس کا بھی کوئی والی وارث نہیں رہا… ڈاکو بلاخوف حملہ آور ہوتے ہیں…سوال یہ ہے موجودہ اور اٹھتے بیٹھتے تبدیلی کے نعرے لگانے والی عمران حکومت نے اس دستورالعمل کو کیوںنہیں اپنایا… لاہور سیالکوٹ موٹروے کو بے یارومددگار چھوڑ دیا… کسمپرسی کے اسی عالم میں لاہور تا ملتان اور سکھر موٹروے چھوڑ دی گئی ہے… اس کے بعد ایسے حادثات نے تو ہونا ہی تھا…

(2) گجرپورہ لاہور کے نواح میں واقع ہے… زیادہ دور نہیں… نصف شب کو تقریباً پورا شہر جاگ رہا ہوتا ہے… سوال یہ ہے اگر اس راستے پر اپنے تین بچوں سمیت سفر کرنے والی خاتون نے انتہادرجے کی وحشیانہ اور درندگی کی حرکت کا شکار ہو کر پولیس سے رابطہ کیا… یہ علاقہ قریب کے تھانے کی حدود میں نہیں بھی آتا تھا… اور موٹروے کے آئی جی کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگی تو کیا ہمارا پورا پولیس اور حکومتی نظام اس حد تک بے حسی کا شکار ہو چکا ہے کہ ایک بے گناہ عورت پکار پکار کر قانون کے محافظوں سے مدد طلب کر رہی ہے وہ پروا نہیں کرتے… اُلٹا اگلے دن لاہور پولیس کا سربراہ سوال کرتا ہے تم نے سفر کے لئے یہ راستہ کیوں اختیار کیا… جی ٹی روڈ سے کیوں نہ گئی… کیا ایسے پولیس افسر کو جس پر پہلے ہی محکمانہ رپورٹ کے اندر کرپٹ اور سی کیٹگری کا ہونے کا اہلکار ہونے کی مہر ثبت ہو چکی ہے… ایک دن کے لئے بھی عہدے پر برقرار رکھا جا سکتا ہے…

لیکن جیسا کہ شواہد بتاتے ہیں عمر شیخ کو قانون کے نفاذ اور اس کی جزئیات کے مؤثر اطلاق کے لئے لاہور کی پولیس کا سربراہ نہیں بنایا گیا… نہ ایک کرپٹ اور سی کیٹگری کے افسر سے جس کے بارے میں مستند سرکاری رپورٹ یہ ہے صبح رشوت وصول کرتا ہے اور شام کو جوا کھیلتا ہے اس کی توقع کی جا سکتی ہے… ایسے شخص کو اتنے اہم عہدے پر مقرر کرنا بجائے خود عمران خان کے دعووں اور ملک کو ہر طرح کی کرپشن سے پاک رکھنے کے نعروں کی تردید اور تکذیب ہے جن کا وہ ڈھنڈورا پیٹتے پیٹتے برسراقتدار آئے ہیں… عمر شیخ کے سپرد لاہور کا امن و امان کرنے کا اصل مقصد اپوزیشن کا چیلنج ہے جس سے اس حکومت کو واسطہ ہے… گزشتہ ماہ نیب کے دفتر لاہور میں بلاوے پر مریم نواز جس عوامی سیلاب پر تیرتی ہوئی وہاں گئیں اس نے نیب ہی نہیں پوری حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا… آئی جی شعیب دستگیر سے تقاضا تھا وہ مریم کے ساتھیوں پر دہشت گردی کے ارتکاب کے مقدمات درج کریں جو ایک ایماندار افسر کے لئے سخت مشکل تھا… اس لئے ایک ایسے شخص کو لاہور پولیس کے اختیارات دینے کا قدم اٹھا کر اپوزیشن کے آئندہ چیلنج کا پولیس کی طاقت کے بے محابا اور کسی قانون و ضابطے کی پروا کئے بغیر استعمال کی ٹھان لی گئی ہے… 20 ستمبر کو اے پی سی ہونے والی ہے… اس میں جیسا کہ مولانا فضل الرحمن کا اصرار ہو گا کہ لازماً سڑکوں پر نکلا جائے… لندن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق نوازشریف برادر خورد شہباز شریف کی نیمے دروں نیمے بروں پالیسی کے برعکس مولانا فضل الرحمن کو یقین دلا چکے ہیں کہ ان کی جماعت پورا ساتھ دے گی… دوسری جانب مولانا نے بھی گزشتہ 7 ستمبر کو یوم ختم نبوت پر پشاور میں متاثر کن بلکہ آنکھوں کوخیرہ کر دینے والا جلسہ عام کر کے ثابت کر دیا ہے کہ سٹریٹ پاور ان کے ہاتھوں میں ہے وہ لاہور اور کراچی میں بھی ایسے جلسے کریں گے… یعنی حکومت کو ہلا کر رکھ دیں گے… ایسی تحریک کو کچلنے کی خاطر عمر شیخ جیسا سی سی پی او ہی درکار تھا جو اپنے آئی جی کے احکام کو بھی خاطر میں نہ لائے لیکن اب جو پنجابی محاورے ’ پہلی چوری تے پہلا پھاہ‘ کے مصداق عمر شیخ پہلے امتحان میں ہی ناکام اور مزید بدنام ہو کر رہ گیا ہے تو حکومت کو بالآخر اسے برطرف کرنا ہی پڑے گا… اپوزیشن کی عوامی طاقت توڑنے کے لئے نیا عمر شیخ ڈھونڈ کر لانا پڑے گا…


ای پیپر