خود احتسابی کی ضرورت
13 ستمبر 2020 (14:57) 2020-09-13

کورونا نے عالمی سطح پر جو امتحان لاکھڑا کیا، وہ ہماری زندگی کے 6 قیمتی ماہ پر محیط رہا۔ مسلمان ہونے کے نا طے کیا توکل اور سائنسی حقائق کے مابین توازن قائم رکھا گیا؟ ہمہ گیر ملکی اور عالمی سطح کے تجربے سے گزرکر اب جبکہ تمام اعداد وشمار، طبی معلومات، تجزیے، حالات و واقعات ہمارے سامنے ہیں، ضرورت ہے بے لاگ پرکھنے، جائزہ لینے کی۔ خود احتسابی کی، انفرادی، اجتماعی، قومی ملی سطح پر اپنے ردعمل جانچنے کی۔ صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم، کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب…… انسانوں کی دنیا میں ہم غلطی کرکے سیکھتے ہیں۔ حاسبوا قبل ان تحاسبوا، احتساب کیے جانے سے پہلے خود کرلینا اصل دانائی ہے۔ موجودہ حکومت نے ’ریاست مدینہ‘ کا مسلسل حوالہ دیا اپنے عزائم اورکارکردگی کیلئے۔ تاہم عملاًپشت بمنزل ہی رہی اس مقدس نام سے۔کورونا نے آ کرساری قلعی کھول دی۔ کورونا کا پہلا حملہ مساجد اورنماز باجماعت پر ہوا۔ فوری تالا بندی کی گئی۔ گویا کورونا کا ہیڈکوارٹر مساجد ہیں! ایک بنیادی فہم کی خرابی یہ بھی تھی کہ سمجھا یہ گیا کہ کورونا سائنسی چیز (Entity) ہے اس کا دین یا (نعوذ باللہ) اللہ سے کیا تعلق۔ یہ بھی سیکولر سٹ اور ہیومنسٹ کی طرح اسلام دشمن، مولوی دشمن، مسجد اور نمازی دشمن ہو گا۔ وائرس کو اللہ کی تخلیق جانا ہوتا تو رجوع خالق کی طرف ہوتا! یہ عالمی ایجنڈہ تھا۔ نائن الیون سے شعائر اللہ کے خلاف اٹھائی مہمات کا تسلسل۔ ابھی سعودی عرب محفوظ تھا کورونا سے، لیکن اسے مساجد (مع حرمین شریفین) کی بندش سے عالمِ اسلام کے لئے لائقِ تقلید نمونۂ عمل بنایا گیا۔ ہماری حکومت نے فوری اطاعت پیش کر دی۔ ریاستِ مدینہ کے نام بیوائوں سے تحفظ کے قلعوں پر تالے ڈال دیئے۔ اس کی ذمہ داری سبھی پر عائد ہوتی ہے کہ سجدہ گاہ، مومن کی سب سے بڑی پناہ گاہ، رحمت کے فرشتوں کی آمد کا مقام، گناہوں کی بخشش اور حلِ مشکلات و مصائب اور عافیت کا ٹھکانہ ہے، اسی کو سب سے پہلے مقفل کر دیا؟ آیا صوفیہ گرجے کی کہانی ابھی تازہ ہی ہے۔ سلطان محمد فاتح کے حملے کے وقت عیسائیوں نے گرجے میں اس عقیدے کے تحت پناہ لی کہ یہ محفوظ ترین مقام ہے جہاں انہیں نقصان نہیں پہنچے گا۔ اللہ نے ان کے گمان کو (باوجود بت پرستی اور شرک کے) پورا کیا۔ سلطان فاتح نے حسنِ سلوک کیا۔ جان و مال کی امان دی۔ 

کورونا کے اہداف تو ابتداء ہی سے واضح تھے۔ تمام تر سائنسی اصول ضابطے دھرے کے دھرے بھونچکے منہ تکتے رہ گئے۔ کورونا کی ترجیحات ہی کچھ اور تھیں۔ امریکہ، یورپ کو چاٹ گیا۔ اجتماعی قبروں تک نوبت آ گئی۔ کیا وہ باجماعت صف بند نمازیں پڑھ رہے تھے؟ ہم نے نائن الیون کے بعد یہ جو عذابِ الٰہی والا باب ہی بند کردیا۔ سائنس کو خدا بنا کر نافع ہونے اور ضرر رسانی کا منبع سائنس کو ٹھہرا دیا۔ 2005ء کا زلزلہ آیا تو کالی سکرینوں نے ساری محنت یہ باور کروانے پر توڑی کہ زمین کی پلیٹیں خودبخود سرکیں تو زلزلہ آیا۔ اس میں اوپر دیکھنے یا عذاب کہنے کی اجازت نہیں۔ مساجد کے حوالے سے تو ایمانیات کے تقاضوں کے علاوہ بھی سادہ عقل یہ بتاتی ہے کہ کچرے بھری آبادیوں (بالخصوص کراچی!) میں رہتے اگر کورونا نہیں چمٹ رہا تو مسجد تو یوں بھی پاکیزدگی اور صفائی ستھرائی والا اجلا مقام ہے۔ باوضو پاکیزہ لوگوں کا اکٹھ، جوتے باہر اتار کے جاتے ہیں۔ نماز کی تو شرائط ہی میں جسم، لباس، جگہ کی پاکیزگی اور نظافت شرط ہے۔بازاروں، گلیوں، سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر ہوا کرتے ہیں! وہاں جانے سے ڈرنا، بچنا تو کوئی معنی رکھتا ہے مگر کشادہ، ہوادار مساجد پر سارا ہنگامہ؟ دال میں کالا ہی کالا ہے! عقل سلیم یہ بہانہ بازیاں قبول نہیں کرتی جو حکومت نے گھڑیں۔ مساجد میں آفرین ہے انتظامیہ کے خدمت گزاروں پر کہ قالین ہٹا دیئے۔ بار بار جراثیم کش پونچھے لگائے۔ ہر خدمت جو مانگی پیش کر دی مگر وہی ایک مرغے کی ٹانگ! مساجد، نماز باجماعت، تراویح اوربالآخر شانہ بشانہ صف بندی تک توڑی گئی۔ نماز… آخری کڑی توڑنے میں 

(آمدِ دجال سے پہلے) کوئی کسر نہ رہے۔ ایک پہلو یہ بھی کھل کر سامنے آیا، اسلام آباد کے پوش سیکٹروں میں، کہ مسجد کمیٹیاں بابوئوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ حکم ان کا چلتا ہے۔ دین کے ناکافی علم اور سائنسی ہیضے نے مہنگے سینی ٹائزر واک تھرو گیٹ، صف بندی توڑنے، نمازی بکھیرنے میں اپنا اختیار مسلط کیا اماموں اور نمازیوں پر ۔یہ سینی ٹائزر نہ صرف غیرضروری بلکہ حددرجے نقصان دہ محلولوں پر مشتمل (جس کی تصدیق طبی ذرائع نے کی) جلد، سانس دونوں کیلئے خطرے کا سامان تھے۔ تجارتی مقاصد 

کے تحت بھی اس کا واویلا مچا کر نمازیوں کو روکا ستایا گیا۔ ہر طرح نماز کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ نماز جمعہ، تراویخ پر شور مچانے والے بازاروں، منڈیوں کے ہجوم اور احساس پروگرام پر ٹوٹتے ہجوموں پر کیوں دم سادھے رہے؟ طبقۂ امراء تو یوں بھی نمازوں میں کندھے ملانے میں کسمساتا ہے۔ اِدھر چوکیدار اُدھر مزدور طبیعت پر بار بنتا ہے۔ (صفیں کج دل پریشاں سجدہ بے ذوق کا شکوہ تو اقبال نے پچھلی صدی میں کیا تھا۔) اب جو صف بندی ٹوٹی ہے تو کورونا تقریباً ختم ہو جانے پر، سکول کھل جانے اور معمولات بحال ہونے پر بھی اس کی بحالی پر دم سادھے رہنے کی وجہ؟ خدارا عقل کے پھر سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ کورونا میں عقل پرستی نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا! عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدئہ تصورات! اقبال نے اسی دن کیلئے عقل پرستی کے لتے لئے ہیں۔ اب تو سبھی کچھ ثابت ہو چکا۔ سائنسی زائچوںنے منہ کی کھائی۔ بڑی عمر کے لوگ (جسے 50 سال کہا گیا تھا، کورونا کے بعد ریٹائرمنٹ کی عمر پھر 50 مقرر ہو؟) ذیابیطس کے مریض مسجد نہ جائیں۔ نوجوانوں کو سوشل میڈیا نے اس کام پر لگا دیا کہ باپوں کو باندھ کر گھر بٹھا دو، ورنہ پورا گھر گرفتارِ بلا ہو گا۔ نوجوانوں نے یہ ’فریضہ‘ خوب نبھایا اور مساجد کو ویران کرنے میں حصہ دار بنے گھر گھر! ان دیکھے کورونا پر ایمان اور اطاعت کی یہ انتہا اور بن دیکھے رب اور خالق سے بے نیازی؟) عملاً کیا ہوا؟ اعدادوشمار گواہ ہیں کہ ملک بھر میں اکادکا واقعات کے سوا مساجد اور نمازی محفوظ رہے۔ پکڑے جانے والے 30 اور 40 سال کی عمر کے تھے زیادہ تر۔ گزشتہ ہفتے برطانیہ کی رپورٹ تھی 20 تا 29 سال والوں کے گرفتارِ کورونا ہوئے جانے کی۔ تجربے میں یہ بھی رہا کہ ایک مسجد جس میں توکل اور اسباب کے درمیان توازن ایسا تھا کہ مسجدِ متوکلین کہا جائے تو بالکل درست! بوڑھے، کھانستے چھینکتے، ماسک کی پابندی گزارہ لائق۔ بدترین سختی کے دور میں بھی پوری استقامت اور جذبۂ ایمانی کے ساتھ کھلی رہی۔ حاضری بھی عام مساجد سے بہت بہتر۔ سائنس سے پوچھا جاتا تو امام صاحب سمیت سبھی پر کورونا چڑھ دوڑتا۔۔ مگر ایک بھی کیس نہ ہوا۔ معانقے مصافحے نے بھی نقصان نہ دیا۔ سبب کچھ اور ہے تو جس کو خود سمجھتا ہے، کورونا بندئہ مومن کومسجدوں سے نہیں! ہم احتیاط دشمن نہیں۔ شرعاً بھی یہ عین مطلوب ہے۔ لیکن اس کی آڑ میںنظامِ صلوٰۃ میں ناقابلِ تلافی رخنہ کیونکر گوارا کیا جا سکتا ہے۔ اب تو گورا بھی حیران ہو ہو کر پوچھ رہا ہے پاکستان، کمزور طبی سہولیات، گنجان غربت کی ماری بستیوں کی بڑی آبادی والا ملک، ایک وقتی لہر (جون میں) اٹھی اور پھر سب سنبھل گیا! 22 کروڑ کی آبادی میں 6 ہزار اموات کورونا سے ہوئیں جبکہ امریکہ میں 2 لاکھ اموات اور برطانیہ تقریباً ساڑھے چھ کروڑ آبادی میں 42 ہزار اموات! بھارت کے سماجی حالات پاکستان سے مختلف نہیں مگر وہاں فی ملین اموات نسبتاً زیادہ رہیں۔ یہ اللہ کے فیصلے ہیں۔ (اللہ نے ہماری کوتاہیوں کے باوجود ہم سے صرفِ نظر فرمایا ہے!) فلسطینی شیر کے بچے، فلسطینی مائوں کے پالے جوان، بیت المقدس میں اسرائیلی ظلم کے سامنے سینہ سپر مسجد اقصیٰ میں سربسجود رہے۔ ہمارے چوزے کورونا کے خوف سے ڈربوں میں بند! اسرائیلی فوج جیسے جابروں کے مقابلے کی تو بات ہی کیا۔ اِدھر اسرائیل امارات اور دیگر مسلم ممالک سے تعلقات پر بغلیں بجا رہا تھا ادھر ایک ہی دن میں اسرائیل میں یکا یک 3,392 کیس 24 گھنٹے میں رپورٹ ہوئے۔ جبکہ غزہ میں عافیت ہی ہے! فرانس نے دھڑلے سے گستاخیٔ رسولؐ کی ازسرِ نو جسارت کی، کورونا دوبارہ اگلے ہی دن چڑھ دوڑا۔ فتنۂ دجال کی شدت آنے سے پہلے اللہ نے اس تجربے سے گزارا ہے۔ یہ سراسر عذابِ الٰہی ہے کافر کیلئے۔ کافر باب الفتن کی احادیث پڑھ کر پلان کر رہا ہے۔ ہمی سو رہے ہیں! علماء کو پیش قدمی، پیش بندی کرنے اور کھل کر قوم کی رہنمائی کا فریضہ ان معاملات میں بھی ادا کرنے کی ضرورت ہے جیسے ختمِ نبوتؐ پر اٹھے ہیں۔ ورنہ سوشل میڈیا، ہیومنزم سے لیس نصاب کے ہاتھوں نوجوان نسل خدانخواستہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔ حکومت نے تعلیم کے نام پر بھی جو آن لائن افراتفری مچائی، لائقِ توجہ ہے۔ غریب ملک کے 90 فیصد بچے آن لائن کیلئے مطلوب لیپ ٹاپ، وائی فائی، سر پر ڈیوٹی دینے والے خواندہ والدین کہاں سے لائیں؟ تعلیم صرف نجی اداروں اور جامعات ہی کا نام ہے کیا؟ قوم کو افراتفریوں کی نذر رکھو اور اپنے ایجنڈے پورے کرو۔ یہی مرضی میرے صیّاد کی ہے!


ای پیپر