سوال گندم جواب چنا
13 ستمبر 2020 (14:55) 2020-09-13

پچھلے سال 27 نومبر کو جب آئی جی پنجاب عارف نواز خان کو ہٹانے کی خبر میڈیا کی زینت بنی، اس وقت میں لاہور کے ایک ڈی آئی جی کے پاس بیٹھا تھا۔ انھوں نے مجھے چائے پر مدعو کر رکھا تھا۔ پولیس اصلاحات پر بات چل رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے خیال میں تحریک انصاف پنجاب میں پولیس کا نظام کیوں بہتر نہیں کر پائی۔ ابھی وہ اس سوال کا جواب تلاش کر ہی رہے تھے کہ آئی جی پنجاب کی تبدیلی کی خبر پہنچ گئی۔ وہ مسکرائے، لمبا سانس لیا اور بائیں ٹانگ کو دائیں ٹانگ پر رکھ کر کہا کہ آپ کے سوال کا جواب آ گیا ہے۔ میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔ انھوں نے کافی کا ایک گھونٹ لیا اور جواب دیا کہ ایک مرتبہ پھر آئی جی پنجاب تبدیل ہو گئے ہیں۔ ایک سال میں یہ چوتھا آئی جی تبدیل ہوا ہے۔ اب جس محکمے کا کوئی مستقل سربراہ ہی نہ ہو وہاں پالیسیاں کب بنیں گی، کب لاگو ہوں گی اور کب اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔ نیچے والا عملہ سوچتا ہے کہ آئی جی کی بات ماننے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ تو چند دن کا مہمان ہے۔ آئی جی تو دور کی بات ہے۔ آجکل حالت یہ ہو گئی ہے کہ میں جب آفس سے نکلتا ہوں تو یہ سوچ کر نکلتا ہوں کہ کل میں یہاں واپس نہیں آؤں گا۔ رات و رات ہی میرا تبادلہ بھی ہو جائے گا اور مجھے پتہ بھی نہیں چلے گا۔ آپ ہی بتائیں میں یا کوئی اور آفیسر اس ماحول میں ادارے کی بہتری کے لیے کیا کر پائیں گے۔ ہمیں اپنی نوکریاں بچانے سے فرصت ملے گی تو ادارے کا بھی سوچیں گے۔ زیادہ تر آفیسر وقت گزار رہے ہیں۔ کام کرنے کا ماحول ہی پیدا نہیں ہوا ہے۔ میرے پاس ان سے اتفاق کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

بروز منگل 8 ستمبر کو ڈی آئی جی صاحب کی بات دوبارہ یاد آگئی۔ پاکستان کے ایک معروف اینکر اور کالم نگار نے چائے پر بلا رکھا تھا۔ ٹی وی پر عثمان بزدار کا بیان چل رہا تھا کہ پنجاب میں سی سی پی او اور آئی جی کے اختلافات کے معاملے کو آج احسن انداز میں حل کر لیا جائے گا اور چند منٹ بعد آئی جی کی تبدیلی کی خبر آگئی۔ میرے ذہن میں ڈی 

آئی جی صاحب کے الفاظ گھوم رہے تھے کہ’’نیچے والا عملہ سوچتا ہے کہ آئی جی کی بات ماننے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ تو چند دن کا مہمان ہے‘‘۔ سی سی پی او عمر شیخ نے اس کا عملی مظاہرہ کر کے دکھایا جو ٹی وی چینلز کی بھی زینت بنا۔ شیخ صاحب نے ایک تقریب میں آئی جی پنجاب سے متعلق نامناسب الفاظ استعمال کیے۔ آئی جی نے انھیں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ حکومت نے الٹا آئی جی کو ہی ہٹا دیا۔ اس واقعے نے آئی جی کے عہدے کو بے معنی کر دیا ہے۔ اب آنے والا آئی جی کس طرح سوچ سکتا ہے کہ اس کے فیصلوں پر عمل درآمد ہو گا۔ جب عہدے کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے تو افسران میں ملک کی بہتری کے لیے دلیرانہ فیصلے کرنے کی ہمت کیسے آئے گی۔ میں یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ اینکر صاحب نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب آئی جی کے خلاف ایک سی سی پی او سرعام گفتگو کرے اور وہ گفتگو میڈیا پر بھی آ جائے تو آئی جی کے پلے کیا رہ جاتا ہے۔ ایک تو اس سے پوچھے بغیر سی سی پی او کو تعینات کرلیا اور اب اسے گالیاں بھی پڑوا دیں۔ وہ ڈپارٹمنٹ میں اپنی رٹ کیسے قائم رکھ سکتا ہے۔ آئی جی کا تین دن سے دفتر نہ آنے اور سی سی پی او کو ہٹانے کا مطالبہ کا درست ہے۔ میں نے کہا کہ اس فیصلے سے آئی جی کا قد کاٹھ بڑھ گیا ہے۔ اس نے اصولی موقف اختیار کیا ہے۔ مورخ جب تاریخ لکھے گا تو آئی جی کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ عمران خان کو آئی جی ہٹانے سے پہلے اپنے ماضی پر بھی ایک نظر ڈال لینی چاہیے تھی۔ جب عمران خان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے تو ان کی مرضی کے خلاف ٹیم میں تبدیلیاں کر دی گئیں۔ خان نے استعفی دے دیا اور مطالبہ کیا کہ جب تک کھلاڑیوں کی سلیکشن کپتان کی مرضی سے نہیں ہو گی میں ٹیم کی قیادت نہیں کر سکتا۔ سلیکشن کمیٹی کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور عمران خان نے اپنی مرضی کی ٹیم بنا ئی۔ جس نے پاکستان کے لیے ورلڈ کپ جیتا۔ اگر حکومت اس وقت وہ فیصلہ کرتی جو آج عمران خان کی حکومت نے شعیب دستگیر کے معاملے پر کیا ہے تو اْس وقت کی کرکٹ ٹیم کا بھی وہی حال ہوتا جو آج پاکستانی پولیس کا ہے۔ 

کہتے ہیں ریاست ماں جیسی ہوتی ہے لیکن سرکار کی نالائقی کے باعث پولیس آفیسر کے بیان سے ماں کی کوئی جھلک نظر آتی ہے۔ یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ بیان کسی سڑک چھاپ ان پڑھ گوار شخص کا نہیں بلکہ پولیس کے طاقتور آفیسرکا ہے۔انھیں اس بات کا بھی ادراک نہیں ہے کہ کون سی بات کب کرنی ہے۔ آپ مظلوم سے پوچھ رہے ہیں کہ وہ گھر سے اکیلی کیوں نکلی۔ اگر کسی محرم کے ساتھ نکلتی تو زیادتی سے بچ جاتی۔ جناب کو کوئی جا کر بتائے کہ لاہور میں دو لڑکوں نے اپنے دوست کی بیوی کو دن دیہاڑے اس کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنا دیا تھا اور اس کا شوہر کچھ نہیں کر پایا تھا۔ اسی شہر میں مردہ عورتوں کو قبروں سے نکال کر ریپ کیا جاتا رہا ہے۔ اب بتائیں قبروں میں بھی عورتوں کے ساتھ ان کے محرموں کو دفن کر دیا جائے یا کوئی اور حل ہے آپ کے پاس۔

پولیس سربراہ کی پے در پے تبدیلیوں نے سیلیکشن کی حالت یہ کر دی ہے کہ تین ماہ میں لاہور شہر میں قانون کی بالادستی قائم کرنے کے دعوی دیدار آتے ہی قانون شکنی کے مرتکب ٹھہرے۔ قانون توڑنے کے جرم میں گاڑی کا چالان کروا بیٹھے۔ اس پر کوئی شرم ہی نہیں۔ مظلوم عورت کوظالم قرار دینے کے بیان پر ابھی تک قائم ہیں۔ان کے طیور یہ بتا رہے ہیں کہ جتنے دن یہ اس عہدے پر رہیں گے حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کرتے رہیں گے۔ حکومت وزراکے پیدا کیے گئے مسائل سے نمٹ نہیں پارہی تھی کہ اب سی سی پی او صاحب کے بیانات کا دفاع کرنا بھی روز مرہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہو جائے گا۔ اس کا عملی مظاہرہ عوام نے دو دن پہلے ٹی وی پر دیکھا ہے۔ ایک نجی چینل کے اینکر عثمان بزدار کا انٹرویو کر رہے تھے۔جہاں وہ حکومتی نااہلی کے جوابات دینے کی کوشش کر رہے تھے وہاں تین مرتبہ سی سی پی او کے بیان کی وضاحت بھی بزدار صاحب سے مانگی گئی۔ وہ تو بیچارے اپنی ذات سے متعلق سوالات کے صحیح جواب نہیں دے پاتے سی سی پی او کا کیس کیا خاک لڑنا تھا۔ پھر وہی ہوا سوال گندم، جواب چنا اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔


ای پیپر