ہم شیخ عمر کے عہد میں زندہ ہیں
13 ستمبر 2020 2020-09-13

اس بات پرجتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ ہم شیخ عمر کے دور میں زندہ ہیں، یہ عین ممکن ہے کہ بہت ساروں کو ان کی شخصی کرامات کا پوری طرح علم نہ ہو مگر یہ بھی تو ایک کرامت ہے کہ ان کی دانش اور فضائل کے پرت کھلتے مہینے او ربرس نہیں بلکہ محض دن اور گھنٹے لگ رہے ہیں۔شیخ عمر کو خود ان کے بقول قدرت نے پاکستان کے بہترین پولیس آفیسر کے درجے پرفائز کر رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ محض ایک شہر کے سی سی پی او ہوتے ہوئے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے آئی جی پر بھاری پڑے ہیں۔ قدرت نے انہیں عزت، کامیابی اور عہدے سے یوں نوازا کہ آئی بی سے سنٹرل سلیکشن بورڈ تک کی تمام نیگیٹو رپورٹس دھری کی دھری رہ گئیں اور ریاست مدینہ جدید کے بانیوں نے انہیں ڈیکلئیرڈ سی کلا س آفیسر ہونے کے باوجود ملک کے دوسرے بڑے شہر کی پولیس کی سربراہی کے لئے چن لیا ۔مجھے تو حیرت ہے کہ ان کے آنے اور آئی جی کے جانے پر یہ ٹوئیٹ کیوں نہیں ہوئی کہ حق آیا اور باطل چلا گیا۔

بات صرف پولیس افسری کی نہیں ہے بلکہ شیخ عمر اپنی بے مثال اور بے نظیر دانش کے ساتھ نظریہ احتیاط کے اگرچہ بانی نہیں مگر داعی ضرور ہیں جن سے ان کا اپنی قوم باالخصوص خواتین کے لیے درد دل جھلکتا ہے۔ وہ جب یہ کہتے ہیں کہ خواتین کو رات کے وقت گھرسے نہیں نکلنا چاہئے، اگر نکلیں تو کوئی رشتے دار مرد ساتھ ہونا چاہئے، موٹر ویز جیسی سنسان جگہوں پر جانے کے بجائے جی ٹی روڈ جیسی آباد سڑکوں پر سفر کرنا چاہئے اور گھر سے نکلتے ہوئے گاڑی کا پٹرول وغیرہ ضرور چیک کر لینا چاہئے مگر کچھ غیر محتاط اور عاقبت نااندیش ان کی باتوںسے علم، فکر اور نتیجہ کشید ہی نہیں کرپا رہے حالانکہ اس نظرئیے والے کئی سو برس پہلے کہہ گئے کہ ’ مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو، ناحق خون پروانے کا ہو گا‘، کچھ دوستوں کے مطابق یہ شعر میر تقی میر کا ہے اور جناب شیخ صدیوں پرانے آزمودہ نسخے کو نئے پاکستان میں بھی کارگر جان رہے ہیں۔ اس نظرئیے کی افادیت چیک کیجئے کہ اگرگاڑی خریدی ہی نہ جائے توچوری بھی نہیں ہوگی، اگر مکان بنایا ہی نہ جائے تو وہ گرے گا بھی نہیں ہوگی وغیرہ وغیرہ۔

جناب شیخ احتیاط کے جس نظرئیے کے حامی ہیں وہ ہزاروں برس پرانا ہے جب جزیرہ نمائے عرب میں بچیوں کو پیدا ہوتے ہی گاڑ دیا جاتا تھا کہ اس قسم کی صورتحال کا سامنا ہی نہ کرنا پڑے جیسی موٹر وے پر پیش آئی۔ میں یقینی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ نظریہ احتیاط کے تحت اگر ”ث“ نامی اس خاتون کا پیدا ہوتے ہی گلا گھونٹ دیا جاتا یا زندہ گاڑ دیا جاتا تو یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اس کے تین بچے ہوتے، وہ ان بچوں کے ساتھ موٹر وے پر سفر کرتی اور وہاں کچھ درندہ نما مردان بچوں کے سامنے اس کے ساتھ زنا بالجبر کرتے۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ اگر کسی گلی میںکتے ہوں تو وہاں کتوں کو باندھنااور بند کرنا ضروری نہیں ، ہاں، یہ ضروری ہے کہ اس گلی سے ہی نہ گزرا جائے، بہرحال، خواتین نے جناب شیخ کے اس بیان کی حکمت کو سمجھے بغیر ہی اس پر شدید احتجاج کیا ہے اور میں بھی یہ سمجھتا ہوں کہ جناب شیخ کے موٹر وے والے کیس میں بیان کئے گئے عالی شان نظرئیے کو ، جس پر وہ ابھی تک معذرت کرنے کے لئے تیار نہیں بلکہ اس کی توجیہات اور تشریحات پیش کرر ہے ہیں، سب سے پہلی اور بڑی چوٹ اس وقت لگی جس وقت رب العالمین نے رحمت اللعالمین کو اسی جزیرہ نمائے عرب میں مبعوث فرمایا اور حکم دیا گیا کہ بچیوں کوزندہ دفن نہیں کیا جائے گا بلکہ بیٹیوں کی پیدائش کو رحمت سمجھا جائے گا۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کی دوانگلیاں جوڑ کے فرمایا کہ جو شخص اپنی دو بیٹیوں کی بہترین تعلیم و تربیت اور پرورش کرے گا وہ قیامت کے دن اس طرح میرے ساتھ ہو گا ۔ جناب شیخ کا احتیاط کا نظریہ اس وقت بھی شکست کھا گیا جب میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کاروباری خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا سے شادی کی اور مومنین کی ماںمقام عطا فرما دیا کہ کاروبار میں بھی خواتین کے لئے بہت سارے خطرات موجود ہیں۔

جناب شیخ اگر قائداعظم محمد علی جناح کے دورمیں ہوتے تو وہ سمجھاتے کہ اپنی بہن فاطمہ جناح کوبے رحم سیاست میں مت لائیں۔ وہ خود قائداعظم کو مشورہ دیتے کہ جب آپ زیارت سے واپس کراچی آ رہے ہیں اور آپ کی ایمبولینس میں تیل ختم پرگھنٹوں انتظار سے طبیعت ایسی ناساز ہوئی کہ انتقال فرما گئے تو آپ بھی ایمبولینس میں پٹرول چیک کر لیتے۔ خواتین کے حوالے سے اگر جناب شیخ کا مشورہ مان لیا جاتا تو محترمہ فاطمہ جناح کبھی ایوب خان کے مقابلے میں الیکشن نہ لڑتیں، جب نہ لڑتیں تو نہ ہی ہارتیں اور پھر نہ مشکوک انداز میں انتقال کرتیں۔ جناب شیخ بھٹو کے دور میں موجود ہوتے تو انہیں بتاتے کہ احتیاط کریں، اپنی بیٹی بے نظیر بھٹو کو گھر میں رکھیں کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ جب بھٹو صاحب ان کازمینی حقائق کے عین مطابق دیا گیا مشورہ مان لیتے تو نہ بے نظیر بھٹو کو سیاست کی مشکلات برداشت کرنا پڑتیں اور نہ ہی وہ لیاقت باغ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوتیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر شیخ عمر کو نواز شریف کو مشورہ دینے کا موقع ملے تو وہ یہی کہیں گے کہ آپ مریم نواز کو سیاست سے دور رکھیں کہ آپ کو حالات کا علم ہے کہ کتنے خراب ہیں۔ اگر وہ باہر نکلیں گی توخدانخواستہ کسی وقت بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوسکتا ہے ۔لہٰذا محفوظ رہنے کا یہی طریقہ ہے کہ ٹویٹر اکاو¿نٹ معطل رہے اور مریم نواز انسٹا گرام پر اپنی تصویریں اپ لوڈ کرتی رہیں۔ جناب شیخ خواتین کے اتنے ہی ہمدرد ہیں جتنے وہ طالبان تھے جو بچیوں کے تعلیمی اداروں کو بموں سے اڑا رہے تھے کہ نہ وہ تعلیم حاصل کریں گی اور نہ ہی انہیں اس مشکلات سے بھری دنیا میں باہر نکل کر جدوجہد کرنا پڑے گی۔ احتیاط کا یہ فلسفہ پرندوں کو آزاد چھوڑنے کے بجائے انہیں پنجروں میںبند اورمحفوظ رکھنے کی حمایت کرتا ہے۔

یقین کیجئے شیخ عمر جیسے لوگ نعمت ہوتے ہیں، عافیت ہوتے ہیں اور اگر ان کے مشوروں پر عمل کیا جائے تو کبھی کسی پر تنقید نہ ہو، کبھی کسی کو نقصان نہ ہو کیونکہ تنقید اور نقصان تو اس وقت ہو ں گے جب آپ کچھ کریں گے اور جب آپ کچھ کریں گے ہی نہیں تو کون کہے گاکہ تم نے غلط کام ہے جیسے وہ موٹروے پر بربریت کا شکار ہونے والی خاتون گھر سے ہی نہ نکلتیں تو درندے ان کا ریپ کیسے کرتے۔ہمارے بعض دوست کہتے ہیں کہ سی سی پی او صاحب کا موقف وکٹم بلیمنگ میں آتا ہے کہ جس کو نقصان ہوا،جو متاثر ہوا اسی کو ذمے دار قرار دے دو تو مان لیجئے یہ نئے پاکستان میں محفوظ رہنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے۔اس موقعے پر سانحہ ساہیوال کے متاثرین کے ساتھ ساتھ کوئٹہ کے اس سب انسپکٹر کو بھی یاد کیا جا رہا ہے جس کو کچلنے کے بعد ویڈیو ہونے کے باوجود بااثر سابق رکن اسمبلی ثبوت نہ ہونے کی بنا پر باعزت بری ہوگیا۔ شیخ عمر کی تھیوری کے مطابق اگر وہ چوک میں ڈیوٹی ہی نہ دے رہاہوتو ہرگز کچلا نہ جاتا۔سو اے پیاری خواتین! تمہیں فوری طور پر اپنے اپنے گھر میں شکرانے کے نوافل ادا کرنے چاہئیں کہ تمہیں ایک ایسا عظیم اور خیال رکھنے والا سی سی پی او ملا ہے اور تم اپنے لئے فکر، دانش اور ہمدردی بھرے اس شخص کے عہد میں زندہ ہو۔


ای پیپر