قوم پرست اور پیپلزپارٹی ایک صفحہ پر
13 ستمبر 2019 2019-09-13

سندھ میں آرٹیکل 149 کا نفاذ کے کوششوںاور وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کمیٹی نے سندھ بھر میں حرارت پیدا کردی ہے۔ جس پر میڈیا اور سیاسی ودیگر حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی قیادت میں کراچی کمیٹی بنائی ۔ جو خالصتاً لسانی بنیادوں پر تھی۔ اس کمیٹی میں ایم کیو ایم کے علاوہ تحریک انصا ف کے بھی چھ ممبران شامل تھے لیکن شومیٔ قسمت دیکھئے کہ سب کے سب اردو بولنے والے تھے۔ یہاں تک کہ لیاری سے بلاول بھٹو کو شکست دینے والے شکور شاد کو محض اس وجہ سے کمیٹی میں نہیں لیا گیا کہ وہ بلوچ تھے۔ کراچی میں بسنے والی سندھی، بلوچ، پختون اور پنجابی آبادی کو نظر انداز کیا گیا۔ یہ وہی فارمولا تھا جس پر ایم کیو ایم گزشتہ چاردہائیوں سے کام کر رہی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ایک مرتبہ پھر کراچی کو ایک لسانی گروہ کا شہر قراردیا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نہ ایم کیو ایم کو کو ئی ریلیف دے سکی اور نہ کراچی کو کوئی پیکیج۔ اگرچہ وزیراعظم عمران خان کم از کم تین مرتبہ پیکیج کا اعلان کرچکے ہیں لیکن ان میں سے کسی پر بھی پیش رفت نہیں ہوئی، وجہ صاف ظاہر تھی کہ نہ حکومت کے پاس پیسے تھے ، اور نہ ہی عملی طور پر کام کرنے کی خواہش۔ صورتحال یہ بن رہی تھی کہ ایم کیو ایم اور اس طرح کی سیاست کرنے والوں میںسخت فرسٹریشن محسوس کی جارہی تھی۔ کراچی کے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کے لئے کمیٹی کا شوشہ چھوڑا گیا۔ چند روز بعدایم کیو ایم کے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اس کے ساتھ ہی کراچی میں آرٹیکل 149 نافذ کرنے کا اعلان کیا۔

بغیر آئینی حیثیت کی اس کمیٹی کے قیام کے اعلان کے ساتھ ہی سندھ کے اہل فکر و نظر اور سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوگئی۔ جب گرما گرمی بڑھ گئی تو اس کمیٹی میں سندھی، بلوچ، پنجابی اور پختوں بولنے والے جی ڈی اے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا۔ یہ نام ان سے پوچھے بغیر دیئے گئے۔ نتیجتاً مسلم لیگ فنکشنل کی رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی نے کمیٹی سے لاتعلقی اور علیحدگی کا اعلان کیا۔ اب صورتحال یہ بنی ہے کہ وفاقی حکومت کے سندھ میں اتحادی جی ڈی اے کی جماعتیں اور رہنما اس حکومتی تحریک کی مخالفت کر رہے ہیں جی ڈی اے کے رکن سندھ اسمبلی شہریار مہر نے کمیٹی کے قیام کی مذمت کرتے ہوئے معاملہ سندھ اسمبلی میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ جی ڈی اے کی ممبر جماعت قومی عوامی تحریک نے احتجاج کی کال دے دی ہے۔ سندھ کی تمام قوم پرست جماعتیں احتجاج کرنے جارہی ہیں۔ ابھی سندھ کے قوم پرست اور پیپلزپارٹی ایک پیج پر آگئے ہیں۔لہٰذا ہوا یہ ہے کہ حکومت کے اس اقدام کا سیاسی طور پر پیپلزپارٹی کو فائدہ ہوا۔ سندھ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ کراچی کمیٹی بنا کر اور آرٹیکل 149 نافذ کر کے کراچی کو صوبائی تحویل سے نکال کر وفاق اپنی تحویل میں لینا چاہتا ہے۔

فروغ نسیم کی سربراہی میںکراچی کمیٹی کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ وفاقی حکومت اس میٹروپولیٹن شہر کے لئے فنڈ نہ سندھ حکومت کو دینا چاہ رہی تھی اور نہ کراچی کے ایم کیو ایم سے وابستہ میئر وسیم اختر کو۔ کراچی کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے ایک تجزیہ نگار کے بقول اگر ایسا ہوتا تو فروغ نسیم کو کیا ملتا؟

سندھی میڈیا نے اداریوں، مضامین اور تبصروں میںوفاقی حکومت کے اس اقدام کی بھرپورمذمت کی ہے۔ ’’نئی سندھ، نئے پاکستان کے بعد فخریہ پیشکش ‘‘کے عنوان سے روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ کراچی کے کنٹرول بغیر نئی سندھ بنانے کی وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے تجویز دے دی ہے۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے عوام کو درپیش مسائل میں وفاقی حکومت کی جانب سے مختصر، درمیانہ اور طویل مدت کے منصوبے بنانے کے لئے اسٹریٹجیک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ لیکن اس کمیٹی کے سربراہ اور مشرف کے وکیل فروغ نسیم کے ارادے ظاہر ہو گئے ہیں۔ یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ کراچی کو انتظامی طور پر سندھ سے علیحدہ کرنے کا ایجنڈا لیکر آیا ہے۔ کمیٹی نے کراچی کو انتظامی طور پر علیحدہ کرنے کی تجویز دے دی ہے جس کی تصدیق معاون خصوصی اطلاعات فردوس اعوان نے کردی ہے۔ فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 149 کے تحت کراچی کا کنٹرول اور مالی انتظام وفاقی حکومت اپنے ہاتھ میں لے گی۔ اس مقصد کے لئے کراچی کو وفاقی زیر انتظام علاقہ کا درجہ دیا جاسکتا ہے۔

اسلام آباد سے ’ وائسراء‘ مقرر کر کے سندھ کو مرضی اور خواہش کے مطابق چلانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔لیکن اس مرتبہ سندھ کے دارالحکومت کو وفاق کے حوالے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اگرچہ آئینی ماہر اس رائے کے ہیں کہ وفاقی حکومت آئینی طور ایسا اقدام نہیں لے سکتی، آئین کی شق 149 جس کا حوالہ دیا جارہا ہے، اس کے تحت وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو امن و امان اور معیشت کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے ہدایات دے سکتی ہے۔ درحقیقت ایم کیو ایم اور تحریک انصاف یہ تمام تیاری بلدیاتی انتخابات کے لئے کررہی ہیں۔ مخصوص سیاسی جماعت یا گروہ کو اس طرح سے سیاسی فائد ہ دیناکتنا نقصان دہ ثابت ہوگا؟ اس کا کوئی اندازہ نہیں کیا جارہا ہے۔ کسی صوبے کے تعلق کی تار اس ڈیزائن سے کمزور ہو چکی ہے، کسی صوبے کو تخریب کاری اور دہشتگردی نے ہلا کے رکھ دیا ہے۔کسی صوبے میں سیاسی انتشار ہے۔ باقی سندھ بچا تھا، جس کو بی انتشار اور افراتفری کا شکار بنایا جارہا ہے۔

یہ بات ذہن نشین ہونی چاہئے کہ کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے۔ سندھ میں منتخب حکومت موجود ہے۔ ممکن ہے کہ حکومت کل یو ٹرن لے کر اس بیان سے مکر جائے یا ہٹ جائے، لیکن یاد رہے گا کہ اس طرح کے بیانات یا اقدامات سے سندھ کے لوگوں کے ساتھ اچھائی کی امید کو زک پہنچی ہے، جس کا ازالہ کرنا ناممکن ہوگا۔


ای پیپر