ایک اور جنگ کی طرف بڑھتی دنیا
13 ستمبر 2019 2019-09-13

نائن الیون کا دن نہ بھولنے والا، 18 برس پرانی کہانی ہے مگر یہ سانحہ امریکیوں کو نہیں بھولتا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو بڑے کام کئے افغانستان سے نکلنے کے لیے باراک اوباما نے جو کوششیں کیں اس کو آگے بڑھایا۔ بے چین طبعیت کے مالک جو پل میں ماشہ اور پل میں تولہ والا معاملہ ہے۔ انہوں نے امریکہ کو افغانستان سے نکالنے کا جو مشکل کام کیا تھا۔ وہ سخت مشقت کے بعد یوں ختم ہو گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ سمجھ نہیں آرہا تھا سارا کچھ کیسے ہوگیا۔ ان مذاکرات کے انجام سے کوئی پریشان نہیں ہوا۔ جب وعدے کے مطابق ایک قابل عمل راستے سے نکلنے کا موقع ملا تو ساری بساط ہی الٹ دی۔ یہ کام انہوں نے اپنے ٹائم فریم کے عین مطابق کیا ۔ٹرمپ نے اپنے ارادوں کو ظاہر کرنے کے لیے ایک ایسا دن چنا ، کیا اس ساری لمبی چوڑی پریکٹس کا مطلب طالبان کو ٹریپ کرنا نہیں تھا ؟۔ گیارہ ستمبر 2001کو ا مریکہ کی شان وشوکت کی نشانی ورلڈ ٹریڈ سنٹر یکے بعد دیگرے دو جہازوں کے حملے سے زمین بوس ہوا تھا۔ ان حملوں میں نیویارک، ورجینیا اور پنسلوانیا میں تقریباً 3000 افراد مارے گئے تھے۔ اس روز ٹرمپ نے خاتون اول کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی ۔ دوسری تقریب نیویارک کے 'گراؤنڈ زیرو' پر ہوئی جس میں ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے رشتے داروں اور زندہ بچ جانے والوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا وہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ اب تو امن مذاکرات ختم ہو چکے ۔ نائن الیون کے دن سے جڑی ایک تقریب پینٹاگون میں بھی ہوئی جہاں تیسرا مسافر طیارہ ٹکرا کر تباہ کیا گیا تھا۔اس میں بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرکت کی ۔ جس میں امریکی صدر نے اپنی تقریر میں بتایا، انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں طالبان کے ساتھ طے شدہ ملاقات اس لیے منسوخ کر دی کیونکہ انہوں نے چند روز قبل کابل میں خودکش حملہ کیا تھا جنگ اور گوریلا جنگ جس کا منظر نامہ ہم سال سے دیکھ رہے ہیں کبھی طالبان اور کبھی نیٹو فورسیز پراکسی وار کر رہے ہیں جس میں انسانوں کا خون گر رہا ہے ۔ مگر حیران کرنے والی بات تو یہ ہے کہ یہ جنگ امریکہ جیت نہیں سکا ہے ۔ اس جنگ میں امریکہ اور ان کے اتحادی ہی نہیں بلکہ پاکستان کو بھی یہ جنگ کافی مہنگی پڑی ہے۔ دو دہائیوں میں امریکہ سمیت دنیا نے اس جنگ کی کافی بڑی قیمت ادا کی ہے۔ ایک طرف پاکستان اور بھارت ہیں کشمیر کے سوال پر پاکستان نے مودی سرکار کو خبر دار کیا ہے کہ کشمیر کی آزادی پاکستان آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑے گا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نے الیکشن میں کامیابی کے بعد اردن کو ہڑپ کرنے کا ارادہ کر دیا ہے یہ تو امن کی بات نہیں ہے ۔ایران پر بھی ٹرمپ کی نظریں ہیں اور تو اور روس اور امریکہ بھی ایک دوسرے کے حریف ہیں سب سے اہم چین اور امریکہ کی معاشی جنگ ہانگ کانگ کے ہنگاموں کے ساتھ اآگے بڑھ رہی ہے۔ ٹرمپ کے اقدامات سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ خطرناک جنگ ایک قدم بڑھا چکی ہے یہ لمحہ تو رک کر سوچنے کا ہے ، دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جنگوں میں جیتا کوئی نہیں ہارتے ہیں تو عوام ۔ وائس آف امریکہ کی تازہ رپورٹ میں چونکا دینے والے حقائق بتائے گئے ہیں ۔ اسٹاک ہوم میں قائم بین الاقوامی امن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق صرف 2018 میں دنیا بھر میں ایک کھرب 80 ارب ڈالر فوجی اخراجات کی مد میں خرچ کیے گئے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کے عہدیدار پیٹر ویزمین کا کہنا ہے اس قدر خطیر فوجی اخراجات دنیا کو لازمی طور پر کسی عالمی جنگ کی طرف لے جائیں گے عالمی فوجی اخراجات میں امریکہ کا حصہ ایک تہائی سے بھی زیادہ ہے۔ امریکہ کے پاس اس وقت 11 طیارہ بردار جہاز، طاقتور ایٹمی اسلحہ خانہ، نہایت جدید لڑاکا طیارے اور تقریباً 21 لاکھ فوجی ہیں۔چین امریکہ کے بعد فوجی اخراجات میں دوسرے نمبر پر ہے۔ 1990 میں عالمی سطح پر فوجی بجٹ میں چین کا حصہ صرف 2 فیصد تھا جو اب بڑھ کر 14 فیصد ہو چکا ہے۔بھارت نے گزشتہ تین برس کے دوران اپنے فوجی اخراجات میں 11 ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ کیا ہے اور اب عالمی سطح پر فوجی اخراجات میں بھارت چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔نیٹو کے 29 ملکوں نے مجموعی طور پر فوجی اخراجات کی مد میں 963 ارب ڈالر خرچ کیے جو 2018 میں عالمی فوجی اخراجات کا 53 فیصد رہا۔ اسی انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ2001ء سے افغانستان، پاکستان، عراق اور شام میں ہونے والی جنگوں پر امریکا کی 5.9 ٹریلین ڈالر لاگت آئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ تیسرے امریکی صدر ہیں جو افغانستان میں شدت پسندوں سے نبرد آزما ہیں اور یہ سب ہوتا دیکھ رہے۔ 1989ء میں جب سوویت یونین نے اپنی فوجیں افغانستان سے نکالیں تو کابل میں ماسکو کی حمایت یافتہ حکومت صرف تین سال ہی چل سکی۔ طالبان نے 1996ء میں کابل پر حکومت قائم کی اور تقریباً افغانستان کے ہر حصے پر ان کا مکمل کنٹرول تھا۔ خاص طور پر جب نواز شریف دوسری بار وزیر اعظم تھے ۔ نواز شریف سے اسامہ بن لادن کے کیمپوں پر حملے کی رسائی مانگی تھی ۔رسائی نہ دینے کے باوجود امریکہ نے اسامہ بن لادن کو ٹھکانے لگانے کے لیے جو میزائل پھینکے تھے وہ ان کے نشانے پر نہیں آئے تھے۔ طالبان 2001ء تک حکومت کرتے رہے۔ ان کی حکومت کو تین اسلامی ممالک نے تسلیم کر رکھا تھا۔ پاکستان کے فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی طالبان کے تعلق مثالی رہے تھے۔ معاہدہ جنیوا کے وقت طالبان نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھے ۔ یہ امریکہ کے مجا ہد تھے ۔ ضیا الحق اور محمد خان جونیجو کے زمانے میں تین اہم واقعات ہوئے ان میں اوجڑی کیمپ میں دھماکے سے اسلحہ ڈپو کا تبا ہ ہونا تھا ۔اس تباہی نے محمد خان جونیجو اور ضیا الحق کے درمیان ایسے فاصلے بڑھے کہ دونوں کے درمیان ایک دوسرے کو برداشت کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ محمد خان جونیجو نے اوجھڑی کیمپ کے سانحے کی انکوائری کرائی جنرل عمران نے اس پر جو ر پورٹ تیار کی تھی ۔اس کو ضیا الحق کو بھی پیش کیا گیا۔ جونیجو اس رپورٹ کی بنیاد پر جو کارروائی چاہتے تھے ۔ ضیا الحق اس سانحے کو بھول جانا چاہتے تھے۔اس سے پہلے محمد خان جونیجو سے ایک غلطی یہ ہوئی تھی کہ انہوں نے ایوان صدر کے پچھواڑے میں افغانستان کے مسئلہ کے حل کے لیے جو آل پارٹیز کانفرنس کی تھی اس میں ضیا الحق کی مخالف جماعتوں کے لیڈروں نے بھی شرکت کی تھی ۔ جس میں بے نظیر بھٹو، غوث بخش بزنجو،ملک قاسم اور غلام مصطفی جتوئی سمیت ایم آر ڈی کے لیڈروں نے مسئلہ افغانستان کی آڑ میں ضیا الحق کے خلاف جو تقریریں کی تھیں وہ بھی ضیا الحق کو پسند نہیں تھا۔ ضیاالحق کی موت کے بعد روس معا ہدہ جنیوا کے مطا بق افغانستان سے تو نکل گیا۔ روس کے نکلتے ہی افغانستان سے امر یکہ بھی پتلی گلی سے نکل گیا۔ اب افغانستان میں مجاہدین کے درمیان کابل پر قبضے کی جنگ شروع ہو گئی ۔ 1992 میں روس نواز حکومت کے گرتے ہی کابل میں ایک خونی خانہ جنگی کا آغاز ہوا جس میں بہت سارے افغان گروہوں کو خطے کی مختلف طاقتوں کی مدد حاصل تھی۔ نواز شریف نے ان کے درمیان ایک نہیں دو معاہدے کرائے ایک معاہدہ اسلام آباد اور دوسرا معاہدہ مکہ تھا ۔اس کے باوجود کشت خون کا بازار بند نہ ہوا اور لوگوں نے جہاد پاکستان کا حشر بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا۔اب ٹرمپ کا زمانہ ہے ۔ مذاکرات کا معاملہ مس ہینڈل ہو چکا ہے ۔ یہ بات امریکی صدر ٹرمپ کو معلوم تھی کہ جن لوگوں سے وہ مذاکرات کرنے جا رہے ہیں وہ کون ہیں ۔ طالبان اور ٹرمپ کے درمیان اب واضح لکیر کھینچی جا چکی ہے۔ امن کو دو دہائیوں کے بعد جو موقع مل رہا تھا ساری امیدیں دم توڑ گئی ہیں ۔ اب امریکی صدر دوسری مدت کے انتخاب جیتنے کے لیے کیا قدم اٹھاتے ہیں وہ سرپرائز دینے والا ہو گا ۔


ای پیپر