قرضوں میں اضافہ۔۔۔لمحہ فکریہ!
13 ستمبر 2019 2019-09-13

بھارت کی مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد وادی میں کرفیو کا مسلسل نفاذ اور قابض بھارتی افواج کی طرف سے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور جبر و استبداد میں اضافہ کے بارے میں خبریں اور تازہ حالات و واقعات کا تذکرہ ایسا دل خراش اور المناک موضوع ہے جس کو ہمارے پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا پر خبروں، تبصروں اور تجزیوں میں زیر بحث لانا یقینا وقت کی ضرورت ہے۔ تاہم اس کے ساتھ کچھ اور ملکی معاملات بھی ایسے ہیں جو بلاشبہ ہمارے لیے تشویش اور پریشانی کا باعث ہیں۔ ان میں تحریک انصاف کی حکومت کے ایک سال کے دوران ملکی قرضوں میں دس ہزار ارب روپے کا ہوشربا اضافہ یقینا ہمارے لیے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ سٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ مارچ 2019 تک پاکستان کے مجموعی قرضہ جات اور واجبات میں زبردست اضافہ ہو ا ہے اور یہ 40ہزار 214ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔ گزشتہ مالی سال یعنی جون 2018تک یہ قرضہ جات اور واجبات 29ہزار 879ارب روپے تھے ۔ اب مارچ 2019تک ان میں 10ہزار ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے ۔ اس کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں ہر پاکستانی پر قرضوں کا بوجھ 46ہزار روپے بڑھ چکا ہے ۔ جون 2018 تک ملک پر واجب الادا 29ہزار 879ارب روپے کے مجموعی قرضہ جات کی صورت میں ہر پاکستانی شہری ایک لاکھ 36ہزار روپے کا مقروض تھا جبکہ مارچ 2019میں ملک پر واجب الادا 40ہزار 214ارب روپے کے مجموعی قرضہ جات کی صورت میں ہر پاکستانی شہری ایک لاکھ 81ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ جی ڈی پی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو قرضہ جات اور واجبات 104.3 فیصد ہو چکے ہیں ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت جو سابقہ حکومتوں پر زیادہ قرضے لینے کی وجہ سے شیدید تنقید کرتی رہی ہے اب خود ان کے مقابلے میں زیادہ قرضے لے رہی ہے۔ اس کی قرضے لینے کی یہی رفتار اگر برقرار رہتی ہے تو 2023ء میں اس حکومت کی معیاد کے اختتام تک پاکستان پر قرضوں اور واجبات کے بوجھ میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہوگا اور یہ 70ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے ہونگے۔

اگر برا نہ منایا جائے تو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت ملک کی اقتصادی صورت حال کو بہتر بنانے اور معیشت کو سنبھالا دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ حکومتوں پر قرضوں کے حجم میں اضافہ ہوتا ہی رہتا ہے لیکن اس رفتا ر کے ساتھ نہیں جس کے ساتھ پچھلے سال (تحریک انصاف کے دور حکومت میں ) اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کا یہ کہنا ہے کہ پچھلے ادوار حکومت کے دوران لیے گئے قرض ادا کرنے کے لیے اسے اتنے قرضے لینے پڑے ۔ اس بات میں کچھ وزن ہوسکتا ہے لیکن یہ صورت حال تو کب سے ملک کو درپیش ہے۔کون نہیں جانتا کہ کتنے سالوں سے ملک کے سالانہ میزانیئے میں اخراجات کی سب سے بڑی مد قرضوں پر ادا کیے جانے والا سود اور دفاعی اخراجات ہیں۔کل وفاقی بجٹ کا تقریباً 70فیصد قرضوں پر سود ، دفاعی اخراجات اور مرکز کی طرف سے صوبوں کو ادا کی جانے والی رقوم کی صورت میں خرچ ہو جاتا ہے خیر بجٹ کی تفصیلات میں جانے کا موقع نہیں ۔ اصل موضوع قرضوں کی حجم میں اضافے کی طرف آتے ہیں۔

جیسے اوپر کہا گیا ہے تحریک انصاف کے قائدین مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے پچھلے دس سال کے ادوار حکومت میں قرضوں کے غیر معمولی اضافے کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اور اب بھی وہ اپنی اس روش کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں اس سے کوئی نہیں روکتا۔ ان کا یہ کہنا درست ہو سکتا ہے کہ 2008میں پیپلز پارٹی کے برسرِ اقتدار آنے کے وقت ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 6ہزار ارب روپے تھاجو 2013 کے اوائل میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے اختتام پر 14ہزار ارب روپے کی حدود کو چھونے لگا۔ گویا پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں پاکستان کے قیام سے 2008تک 61 برسوں کے عرصے میںلیے جانے والے قرضوں کے مقابلے میں 2000ارب روپے زیادہ (کل 8ہزار ارب روپے) قرضے لیے گئے۔اسی طرح مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دور حکومت میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے مقابلے میں قرضوں کے حجم میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا اور بقول تحریک انصاف یہ 30 ہزار ارب روپے تک جا پہنچے۔یقینا یہ سب کچھ درست ہے کہ سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار ان کی تصدیق کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کے قائدین جن کے ایک سالہ دور حکومت میں 10ہزار ارب روپے کے قرضے لیے گئے ہیں یا دوسرے لفظوں میں27 ارب 40 کروڑروزانہ کے حساب سے قرضے لیے گئے ہیں وہ اپنی پیش رو حکومتوں کو اس بنا پر شیدید تنقید کا نشانہ کس طرح بنا سکتے ہیں۔ جن کے ادوار میں قرضے لینے کی یہ رفتا ر بہر کیف نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں قرضوں کا حجم اگر 6 ہزار ارب روپے سے 14 ہزار ارب روپے تک پہنچا تو اس کا مطلب ہے کہ اس دوران تقریباً 8 ہزار ارب روپے کے قرضوں کا اضافہ ہوا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس دوران 1600 ارب روپے سالانہ یا 4 ارب 40 کروڑ روپے روزانہ کے حساب سے قرضوں میں اضافہ ہوا۔ مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں قرضوں کے حجم میں تقریباً 16 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا اس کا مطلب ہے کہ اس دوران 3200 ارب سالانہ یا تقریباً 8 ارب 36 کروڑروپے روزانہ کے حساب سے قرضے بڑھے ۔ مسلم لیگ ن کے روزانہ 8ارب 36 کروڑ روپے سے کچھ کم اور تحریک انصاف کے 27ارب 40کروڑ روزانہ کے حساب سے قرضے لینے کے حساب کتاب کو مزید سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے ایک سالہ دور حکومت میں مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت کے مقابلے میں ہر روز کم و بیش تین گنا یا 300فیصد زیادہ قرضے لیے گئے ہیں۔

قرضے لینے کی رفتار اپنی جگہ لیکن دیکھنا ہوگا کہ کیا قرضے مناسب اور ضروری منصوبوں پر خرچ ہوئے ہیں یا نہیں۔ وزیر اعظم جناب عمران خان نے چند ماہ قبل اپنی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ادوارِ حکومت میں لیئے جانے والے بھاری قرضوں کے بارے میں تحقیق و تفتیش کرے گا کیا یہ قرضے صحیح جگہوں پر استعمال ہوئے ہیں یاحکمرانوں کی لوٹ مار کا نشانہ بنے ہیں۔اس کمیشن نے کتنا کام کیا ہے اس بارے میں تفصیلات سامنے نہیں تاہم اس کمیشن کی سربراہی نیب کے ڈپٹی چیر مین جناب حسین اصغر کو سونپ دی گئی۔ جناب حسین اصغرجو ایک محنتی اور نیک نام افسر ہیں انہوں نے قرضوں کے صحیح مصارف کا جائزہ لینے کے لیے کتنی پیش رفت کی ہے اس کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم کچھ عرصہ قبل یہ خبر ضرور سامنے آئی تھی کہ اس کمیشن میں ایسے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جن کو مالیات کے شعبے میں ذرا بھی شد بد نہیں ۔ یہ صورت حال یقینا خوش کن نہیں اور اس سے کمیشن کی کارکردگی پر سوالات کا اُٹھنا لازمی بات ہے۔تحریک انصاف کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کمیشن کے ذریعے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور میں لیے جانے والے قرضوں کی شفافیت اور ان کے صحیح مصرف کا جائزہ لینے کے ساتھ اپنے ایک سالہ دور حکومت میں لیے جانے والے 10ہزار ارب روپے کے بھاری قرضوں کی تفصیل اور مصارف بھی سامنے لے کر آئے۔اس سے ان قرضوں کے بارے میں بعض حلقوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ ہوگا۔


ای پیپر