ہمارا سب سے بڑا المیہ… کس سے فریاد کریں؟
13 ستمبر 2019 2019-09-13

زندگی مسائل سے عبارت ہے اور ان ہی مسائل کو خندہ پیشانی سے حل کرنا اور آگے بڑھتے جانا ہی زندہ دلی کی علامت ہے۔ لیکن ناجانے کیوں وہ پریشانیاں جو پہلے ہم منٹوں میں حل کرلیتے تھے اب وہ ہمیں ایک پہاڑ کی طرح لگتی ہیں شاید ہم تھک گئے ہیں یا پھر ہم آسائشوں کے عادی ہوگئے ہیں؟ گھر کے معاملات ہوں، کاروبار ہو،ملازمت ہو، خریداری ہو، سفر ہو، بیماری ہو یا پھر بچوں کی تعلیم کا معاملہ ہر چیز الجھی الجھی نظر آتی ہے۔ کئی بار تو میں یہ سوچ فیصلہ ہی نہیں کر پاتی کہ آخر ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے کیا؟

گھروں میں بے سکونی ہے برکت نہیں، اولاد کی تربیت ٹھیک نہیں ہو رہی، رشتہ داریوں میں مفادات پرستی کا عنصر غالب آگیا ہے، گھر سے باہر نکلو تو آس پڑوس کی کوئی خبر نہیں ہر کوئی اپنے اپنے حال میں مست ہے۔ نوکریوں کا کوئی حال نہیں سرکاری ملازم ہوں تو وہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں معمولی سے کام کے لیے بھی رشوت دئیے بغیر آپ کا کام نہیں چل سکتا۔ ایک معمولی سا کلرک بھی آپ کو ناکوں چنے چبوا دیتا ہے۔

آپ کوعدالتوں کا سامنا کرنا پڑے توپتہ لگ جاتا ہے کہ زندگی کس بلا کا نام ہے پیسہ پانی کی طرح بہہ جاتا ہے مگر سال ہا سال کیسوں کے فیصلے نہیں ہوتے فیسوں پر فیسیں دئیے جائو پوچھنے والا کون کوئی نہیں؟

آپ کو کوئی مسئلہ ہو اور اسپیشلسٹ ڈاکٹر پر جانا پڑ جائے تو وہ آپ سے پہلے پانچ ہزار فیس لے گا پھرمہنگی سے مہنگی دوا لکھ کردے گا،ساتھ ٹیسٹ اور پھر اگر وہ رپورٹس چیک کروانے جائو تو پھر سے آدھی سے زیادہ فیس دینی پڑتی ہے۔ اگر سرکاری ہسپتالوں میں جائو تو کوئی گارنٹی نہیں آپ کے ساتھ کیا ہو؟

پوچھنے والا کوئی نہیں؟

اللہ نہ کرے کسی غریب کو پولیس والوں کا سامنا کرنا پڑے۔ کیونکہ اثر ورسوخ،پیسے کے بغیر یہ آپ کو زمین پر بٹھا دیں گے مگر آپ کا مسئلہ حل نہیں کریں گے؟ بڑے سے بڑا واقعہ ہوجائے معصوم شہریوں پر تشدد کر کے جان سے بھی مار دیں تو پوسٹ مارٹم رپورٹ ان کے حسن سلوک کی مظہر ہوتی ہے۔

اب ذرا تعلیمی اداروں کی طرف آتے ہیں ہر سال باقاعدگی سے فیسوں میں اضافہ ہوجاتا ہے مگر بچوں کے لیے نہ تو قابل اساتذہ تعینات کیے جاتے ہیں نہ ان کی تعلیم و تربیت پر کوئی توجہ دی جاتی ہے۔ سکول میں سال ہا سال باقاعدگی سے جانے کے باوجود سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ آپ کا بچہ بغیر اکیڈمی کے نویں دسویں کا امتحان پاس کر لے۔ پھر یہاں سے والدین کے نئے امتحانات کا آغاز ہو جاتا ہے وہ صبح شام کے لیے دوہری فیسیں بھرتے ہیں اور پھر بھی ہزاروں طلبا ہیں جو میرٹ کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور پھر کوئی کیرئیر گائیڈ لائن نہیں بس پرائیویٹ کالجز میں پڑھ کر ایک عجیب سی نسل تیار ہورہی ہے۔ لاکھوں روپے فیسیں خرچنے کے بعد جو بچہ تیار ہوتا ہے جب وہ مارکیٹ میں اپنا سی وی لے کر جاتا ہے تو اس کی قیمت دس سے پندرہ ہزار لگائی جاتی ہے جس سے اس کا پٹرول بھی پورا نہیں ہوتا۔

اس نسل کو دین کی الف بے کا نہیں پتہ، تربیت تو بہت دور کی بات ہے ان میں خودداری،فرماں برداری، توکل غیرت اور برداشت جیسے کوئی عوامل نہیں پائے جاتے۔

یہ تو ہمارے اندرونی مسائل ہیں اور بحیثیت قوم ہم کہاں کھڑے ہیں کچھ پتہ نہیں۔

ستر سال سے کشمیر ہمارا ہے کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگانے والے اب ایک ماہ سے کشمیر میں بھارتی کرفیو کے باوجود صرف کاغذ کے کھلاڑی بنے ہوئے ہیں۔ سڑک پر نکلو تو حلقے کی ایم این اے ایم پی اے، اور اہم سیاسی رہ نمائوں کی طرف سے بڑے دھواں دھار پوسٹر لگائے گئے تھے

کشمیر بنے گا پاکستان،مٹ جائے گا ہندوستان

مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ کیا صرف ان پوسٹروں سے کشمیر پاکستان بن جائے گا؟

حد ہوتی ہے!

اب تو غصہ بھی نہیں آتا بلکہ ہنسی آتی ہے۔ کہ ہم کس معاشرے کا حصہ ہیں۔

آخر ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے کیا؟

معاشرتی بے راہ روی، کسی سمت کا تعین کیے بغیر اندھا دھند تقلید،ہوس،لالچ،خود غرضی ،اداروں کا اپنے اختیارسے تجاوز کرنا،غیرت خودداری سے پاک معاشرہ ،مہنگائی، بے اصولی،بے ضمیری ،استاد جی سے سوال کیا کہ سمجھ نہیں آتی عجیب الجھن ہے کہ آخر ہمارے ساتھ ہوکیا رہا ہے؟ ان سب مسائل کی جڑ کیا ہے اور آخر ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے کیا کچھ رہنمائی کریں!

استاد جی نے گہری سانس لی اور بہت گھبیر لہجے میں بولے

بچہ جی المیہ تو ہے اور بہت بڑا ہے!

ہماری سب سے بڑی مجبوری رب سے دوری ہے!

ہم اپنے رب سے بہت دور ہو گئے ہیں پھر اس نے بھی ہمیں خود سے دور کردیا ہے

وہ رب جو کہتا ہے کہ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا تم شکر کرو میں اور زیادہ دوں گا

تو ہم میں سے کتنے ہیں جو اس کی طرف رجوع کرتے ہیں؟

دن میں وہ پانچ بار اپنی طرف بلاتا ہے

آئو کامیابی کی طرف آئو نمازکی طرف تو ہم میں سے کتنے ہیں جو اس آواز پر کان دھرتے ہیں؟

جب بھی کہیں بھی نوکری کرتے ہیں تو ہم میں سے ہر کوئی کوشش کرتا ہے کہ اپنے باس کو خوش رکھنے کی کوشش کرے اس کو راضی رکھے اس کو جو کام پسند ہیں وہ کرے حالانکہ وہ ہمارا دنیاوی حکمران ہے جب کہ روزی کا ذمہ دار اللہ ہے۔ ہمارا حقیقی حاکم بھی وہی ہے ہم ایک ایک سانس کے لیے اپنے رب کے محتاج ہیں۔ تو ہم جب ایک نوکری کے لیے اس باس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں تو جو ہمارا رب ہے پالنے والا ہے اس کی باتیں کیوں نہیں مانتے؟

جب ہم اللہ کی بجائے دنیا کے بتوں سے ڈرنا شروع کردیں تو یہ شرک ہی ہوتا ہے۔ پہلے زمانے میں پتھر کے بت تھے اور اب خواہشات کے بت ہوتے ہیں ان بتوں کو خوش کرنے میں ہم نے اپنے رب کو ناراض کر لیا ہے۔ ہم تو یہ کہتے ہیں نہ کہ میں نے نماز نہیں پڑھی تو یہ غلط ہے دراصل تیرے رب نے تجھے اس کی توفیق نہیں دی۔ ہمارا دنیاوی باس جب ناراض ہوتا ہے تو نوکری سے نکال دیتا ہے لیکن یاد رکھنا جب اللہ ناراض ہوتا ہے تو روٹی نہیں چھینتا بلکہ سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے بس ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔ اگر ہم آج بھی اپنی خواہشات کے بتوں کو پاش پاش کردیں اور اس رب کے آگے سجدہ ریز ہوجائیں اور اپنے گناہوں کی توبہ کریں تو وہ مایوس نہیں لوٹائے گا اور آہستہ آہستہ اس معاشرے سے اندھیرا مٹ جائے گا۔


ای پیپر