محکمہ پولیس میں اصلاحات لازمی لیکن!
13 ستمبر 2019 2019-09-13

گزشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے اور وہ ہے پولیس کی کارکردگی اور محکمے میں تشدد کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں کے حوالے سے ، یہ بحث رحیم یار خان پولیس کے ہاتھوں تشدد سے ہلاک ہونے والے صلاح الدین کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی اور تشدد کی وہ تمام ویڈیوز متعلقہ تھانے سے ہی لیک ہوئیں اور پھر جنگل میں آگ کی مانند پوری دنیا میں پھیل گئی ۔ ایسے ہی تھانہ شمالی چھائونی میں عامر مسیح کی ہلاکت کی سی۔سی۔ٹی۔وی فوٹیج اور تشدد کی وجہ سے ہونے والی موت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے سامنے آنے پر پھر سے بجھی ہوئی چنگاری نے سلگنا شروع کر دیا اور جس کے نتیجے میں ہر دوسرا ٹوئیٹ اور فیس بک پر ہر پوسٹ پولیس تشدد کے خلاف آنا شروع ہو گئی ۔ پولیس کے کئی ملازمین نے عوامی غم وغصہ کے آگے اپنا غصہ دکھانا شروع کر دیا اور یوں معاملہ بجائے ٹھنڈا ہونے کے گرم ہوتا رہا اور معا ملات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ لوگ اب سرعام یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمارے ٹیکسوں پر تنخواہ وصول کرنے والے ادارے ہی اس قدر منہ زور ہو جائیں گے تو پھر ہمیں اس کا کیا فائدہ؟۔

یہ حقیقت ہے کہ اگر موازنہ کیا جائے تو سب سے زیادہ عوام کو محکمہ پولیس کے ساتھ پالا رہتا ہے ۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام اور پولیس کے مابین نفرتوں کے رشتوں کو ختم کرنے اور ان میں حائل لمبی چوڑی دیواروں کو گرانے کے لئے میں پچھلے آٹھ سالوں سے عوام کے سامنے ، پولیس کا مثبت امیج پیش کر نے کے لئے کام کر رہا ہوں جس کے لئے اب تک بیسیو ں کالم بھی لکھ چکا ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی محکمہ پولیس کے کسی ملازم کی جانب سے تشدد یا اس سے متعلقہ کوئی واقعہ رونما ہو تا ہے تو دوست مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ تو بڑی تعریفیں کرتے ہیں کہ پولیس نظام میں تبدیلی آگئی ہے تو کیا یہ ہے تبدیلی؟ مجھے بڑے افسوس کے ساتھ یہ جواب دینا پڑتا ہے کہ جس دن ہم خود تبدیل ہوگئے اُس دن محکمہ پولیس میں بھی تبدیلی آجائے گی ۔ ہم زندگی تو فرعون والی چاہتے ہیں جبکہ عاقبت موسیٰ والی پسند کرتے ہیں ۔ ہم اپنی ذات کے فرعون ہیں ۔ جب ہمارے ساتھ کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو ہم پھر دوسرے کو نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ کراچی میں معصوم بچے کو چند ہزار کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتارنے والی پولیس نہیں تھی ہم میں سے ہی کوئی تھا۔ بیوائوں ، یتیموں اور بے سہاروں کی زمینوں اور جائیدادوں پر قبضہ کر نے والے ہم میں سے ہی کوئی ہے ۔ ذخیرہ اندورزی اور مصنوعی مہنگائی کر کے اپنے ہی لوگوں پر زندگی تنگ کر نے والے ہم میں سے ہی کوئی ہے ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر باپ کو موت کے گھات اتارنے والے ، جائیداد کی خاطر ماں کا گلا کاٹنے والے ، بھائی کو فائر مار کے ہلاک کر نے والے ، جائیداد میں بہن کی وراثت نہ رکھنے والے اور پھر اسے غیرت کے نام پر قتل کر نے والے ہم میں سے ہی کوئی ہے ۔ جب ہمارے ہاں چوری یا ڈکیتی کی واردات ہوتی ہے تو ہم کسی کی تگڑی سفارش ڈھونڈ کر انہی پولیس والوں پر پریشر دیتے ہیں کہ تھرڈ ڈگری کا استعمال کر کے میری ریکوری کروانی ہے اور جب کسی دوسرے کی باری آتی ہے تو ہم پھر سارے معزز و محترم بن جاتے ہیں ۔

قارئین کرام !یہ یاد رہے پولیس والے بھی ہمارے اپنے ہیں، یہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جس میں ہم رہ رہے ہیں ۔ یہ ہمارے بھائی، والد، چچا، تایا، خالو یا کوئی عزیز ہے ۔یہ آسمان سے اتری ہوئی فرشتہ صفت مخلوق نہیں ہے ۔ جس دن ہم ٹھیک ہوگئے یقین جانیں پولیس والے بھی خود بخود ٹھیک ہوجائیں گے ۔ اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہے کہ گذشتہ کچھ سالوں میں بالخصوص پنجاب میں پولیس اصلاحات لانے کے لئے کافی سنجیدہ کاوشیں کی گئیں ہیں ۔ پنجاب کے آئی۔جی کیپٹن (ر) عارف نواز ایک درد دل رکھنے والے لاتعداد صلاحیتوں کے مالک پولیس افسر ہیں ۔ پولیس کے نظام میں جزا و سزا کو موثر بنایا گیا ہے ۔ احتساب کے عمل کو مزید سخت بنایا جا رہا ہے ۔یہی وہ وجہ ہے کہ محکمہ پولیس واحد ایک ایسا ادارہ ہے جس میں سب سے زیادہ سزائیں دی جاتی ہیں ۔ جبکہ اگر آپکو اس بات کا احساس ہوجائے کہ محکمے کا بجٹ کیا ہے اور پولیس ملازمین کس ماحول اور حالات میں اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں تو آپ ان کے منہ چومنا شروع کردیں۔ 12گھنٹے ڈیوٹی لیکن حالات کی سنگینوں کے باعث ڈیوٹی کا دورانیہ20گھنٹے تک جا پہنچتا ہے ، نہ واش روم، نہ صاف ستھرا کھانا پینا، نہ بیٹھے کی جگہ ، گرد سے اٹے ٹیبل جس کی کی ایک ٹانگ ٹوٹی ہوتی ہے اور پرانی فائلیں پھر جس کی چوتھی ٹانگ کے طور پر کام کر رہی ہوتی ہیں۔ عوام کی گالیاں ، افسروں کی جانب سے معطلی کا خوف اور پھر سیاستدانوں کی بدتمیزیاں جس کی تازہ مثال ڈی۔پی۔او ننکانہ فیصل شہزاد ہیں کہ صرف روٹ تبدیل کرنے پر وفاقی وزیر داخلہ نے ایسے قابل اور بہترین تجربہ رکھنے والے افسر کی دل آزاری کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بلاشبہ پولیس اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے اور جس کے لئے ضرورت ہے کے آئی جی پنجاب مزید سنجیدہ ہو کر اس بارے کوئی لائحہ عمل تشکیل دیں اور جہاں جہا ں کوئی کمی ہے اسے پورا کریں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب تک ہم بطور عوام اپنا قبلہ درست نہیں کریں گے توچاہے آپ یورپ سے پولیس بلا لیں ، معاملات جوں کے توں ہی رہیں گے۔ ضرورت اس مر کی ہے کہ جس کی جتنی غلطی ہو ، اس پر اتنا بوجھ ڈالیں ، ہم ایسی ناشکری قوم بن چکے ہیں کہ کسی کی ایک غلطی کی وجہ سے اس کی تمام اچھائیوں پر پانی پھیر دیتے ہیں ۔


ای پیپر