امریکہ طالبان مذاکرات میں تعطل امن کی کوششوں کو دھچکا
13 ستمبر 2019 2019-09-13

گزشتہ ایک سال سے قطر میں جاری امریکہ ، طالبان مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو گئے تھے اور زلمے خلیل زاد نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ فریقین کے درمیان سمجھوتے کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کابل میں ہونے والے دھماکے جس میں ایک امریکی سمیت 12 افراد ہلاک ہوے کو بنیاد بنا کر طالبان سے مذاکرات ختم کر دئے۔ امریکہ کے معروف تھنک ٹینک " ولسن سینٹر" سے وابستہ تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے، صدر ٹرمپ کی ٹوئٹ کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ ان مذاکرات سے نکلنے کا بہانہ ڈھونڈ رہے تھے۔ مائیکل کوگل مین کے بقول صدر ٹرمپ کو یہ بہانہ مل گیا ہے اور وہ طالبان کی پوزیشن کمزور کرنا چاہتے ہیں تا کہ مستقبل میں جب دوبارہ مذاکرات شروع ہوں تو امریکی نمائندوں کو بہتر سودے بازی کا موقع مل سکے۔ طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے طالبان نے دنیا کو یہ ثابت کر دیا کہ جنگ اجنبی ملک کی طرف سے ہم پر مسلط کی گئی اگر جنگ کی جگہ افہام و تفہیم کے طریقے کو اپنایا جائے تو ہم آخر تک اس کے لئے پابند رہیں گے۔ ہم نے 20 برس قبل بھی افہام و تفہیم کی صدا بلند کی تھی آج بھی وہی مٔوقف ہے اور ہمیں یقین ہے کہ امریکی فریق دوبارہ یہی مٔوقف اپنائے گا۔ حالیہ مذاکرات کے حوالے سے بہت سے شکوک شبہات کا اظہار کیا جا رہا تھا جیسے کہ افغانستان امریکیوں کے جانے کے بعد افغانستان میں طالبان کیا حکمتِ عملی اپنائیں گے، ازبک، تاجک، ہزارہ، ترکمان اور نان طالبان پشتون عناصر کے ساتھ طالبان کس طرح کا رویہ اختیار کریں گے، کہیں افغانستان امریکیوں کے جانے کے بعد ایک بار پھر 1992-96 کی طرز کی خانہ جنگی کا شکار تو نہیں ہو جائے گا ۔ طالبان مخالف نقطہ نظر رکھنے والے مایوسی کا اظہار کھلے عام کر رہے تھے کہ طالبان واپس آ کر پہلے کی طرح کا سخت اور بے لچک رویہ اپنائیں گے۔ لیکن چونکہ موجودہ حالات میںامریکہ نے افغانستان سے جانے کا فیصلہ کر رکھا ہے ، ان کے پاس اب کوئی دوسری آپشن موجود نہیں اس لئے انہوں نے کسی ارد گرد کی بات پر کان نہیں دھرا۔امریکی بڑے بلند و بانگ دعوؤں سے افغانستان آئے تھے، ان کا خیال تھا کہ وہ روسیوں کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔ لیکن گزشتہ 20 برسوں نے ان کی یہ خام خیالی رفع کر دی۔ امریکہ نہ چاہتے ہوئے بھی وہی غلطیاں کرنے پر مجبور ہو گئے جو روسیوں نے کی تھیں۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ خطے کی اہم قوتیں امریکیوں کو افغانستان میں پھنسا کر اسے کمزور کرانا چاہتی تھیں، اس مقصد میں وہ کامیاب ہوئیں۔ افغانستان میں امریکی اب تک محتاط اندازے کے مطابق 2500 ارب ڈالر ضائع کر چکے ہیں۔ اب خراب معیشت اور ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے پیشِ نظر وہ زیادہ عرصہ یہاں نہیں گزار سکتے۔

مغرب کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اگر اس پورے خطے میں امن اور خوشحالی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانا اور مذہبی انتہا پسندی کو روکنا ہے تو اس کا واحد حل مذاکرات ہی کے ذریعے ممکن ہے ۔ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے، مغربی رائے عامہ بھی اس جنگ سے اب تنگ آ چکی ہے۔ مسلسل اقتصادی بحران، ڈیپریشن اور رسیشن کی وجہ سے یہ جنگ ناقابلِ برداشت بنتی جا رہی ہے۔ صرف یہی ایک امریکی فوجی نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت سے اتحادی فوجیوں کی اموات واقع ہو چکی ہیں ان حالات میں اس میں مزید اضافہ ہی ہو گا اور جنگ محدود ہونے کی بجائے مزید پھیلے گی۔ جنگ طول پکڑنے کی صورت میں سارا بوجھ امریکہ پر پڑے گا۔ امریکی قیادت کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ افغانستان سے نکلنا چاہتی ہے لیکن وہ نیٹو اورا مریکی افواج کی واپسی کے لئے جو حکمتِ عملی وضع کرنا چاہتی ہے کہ اس میں ایک ایسا مذاکراتی تصفیہ شامل ہو جس کے بعد امریکہ کو یہ موقع مل جائے کہ وہ افغانستان میں فتح کا اعلان کر کے وہاں سے نکل آئے ، اس کے لئے امریکہ یہ چاہتا ہے کہ طالبان سے مذاکرات اور مفاہمت کی جائے لیکن وہ دباؤ میں نظر آئیں جس سے اس کی برتری نظر آئے۔ یہی سوچ طالبان کی ہے انہوں نے اس جنگ میں بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں وہ ایک طرح سے اپنے آپ کو فاتح تصور کرتے ہیں اور اس تاثر کو قائم رکھنے کے لئے وہ مذاکرات بھی کر رہے تھے اور ساتھ میں دھماکے بھی کئے جا رہے تھے تا کہ دنیا یہ تاثر نہ لے کے طالبان کسی دباؤ میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ وہ سارا وزن امریکہ پر ڈال کر رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکہ شائد یہ نہیں سمجھ رہا ہے کہ طالبان اگر مذاکرات کو جاری رکھیں گے تو صرف اپنی شرائط پر، کسی دباؤ دھونس کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ اگر امریکہ باعزت افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے تو ایک تو اسے مذاکرات کے عمل کو بحال کر دینا چاہیے، دوسرا مذاکرات کے عمل کو کامیاب کرنے کے لئے افغانستان میں تعمیرِ نو کی سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرتا چلا جائے تا کہ وہاں روزگار کے مواقعوں میں اضافہ ہو اور پرجوش افغان نوجوان عسکریت پسندی کے بجائے پر امن طریقے سے کسی معاش کے قابل ہو سکیں۔ امریکہ کو یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ اگر وہ گزشتہ دو دہائیوں کی بھرپور فوجی کاروائیوں کے باوجود طالبان پر فتح حاصل نہیں کر سکے تو آئندہ بھی کامیابی سے ہمکنار ہونے سے محروم ہی رہیں گے۔ اگر اس کا خیال ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی کے خطرے کو بالکل نابود کر دے گا تو یہ اس کی بھول ہے کیونکہ وہ پوری کوشش کے باوجود صومالیہ سے اس خطرے کو ختم نہیں کر پایا لہٰذا اس سمت میں امریکہ کو ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑے گا۔


ای پیپر