IMF کی اُنگلی پر ناچتا نیا پاکستان
13 ستمبر 2019 2019-09-13

ظلمتِ شب ہے ستارہ کوئی نہیں‘ بے چاروں کا چارہ کوئی نہیں اور رہبر ہی بنے بیٹھے ہیں رہزن سہارا کوئی نہیں۔ خیر و خوشی اور ہریالی و خوشحالی والا سورج کب نکلے گا۔ یہاں کئی پتھریلے راستوں کے مسافر آس اُمیدوں کے آسرے ہی زندگی گزار کر قبر میں اُتر جاتے ہیں۔ ہمارے ایسے اہل درد اور صاحبِ فکر فقیروں کی سوچیں بلند ہمالہ مگر ’’پلے ککھ‘‘ نہیں ہوتا۔ جنھیں بھوک بخار بیماری میں بھیک مانگنے کا ہُنر نہیں آتا ایسے سفید پوشوں‘ خود داروں اور غم کے ماروں کی حالت کبھی کبھی خیرات زکوٰۃ لینے والوں سے بھی بدتر ہوتی ہے اور جو ’’اڈیاں چُک چُک‘‘ دیکھ رہے ہیں کہ کب ختم ہو ں گی تاریکیاں اور ایک نئی سحر کا طلوع ہو گا۔؟ میں ایسی ہی سوچوں میں گم اور احساس و مایوسی کے عالم میں تھکا ہارا جب دفتر سے گھر پہنچا تو آتے ساتھ ہی اہلیہ نے مہنگی بجلی کا رونا روتے روتے بجلی کا نیا بل میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ بجلی کے بل پر گزشتہ ماہ و سال کی تفصیل دیکھ کر اندازہ ہوا کہ واقعی ان ’’ڈبل شاہوں ‘‘ نے سب کچھ ڈبل کر دیا ہے۔ دس ماہ قبل جو بل 5000 ہوتا تھا آج وہ 10000 سے بھی زیادہ آتا ہے۔ میں تو نہیں مانتا تھا لیکن شاید ن لیگی لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ ہر چیز کی قیمتوں میں دُگنا اضافہ ہو گیا ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمارے حکمران IMF کی انگلی کے اشاروں پر ناچنے والے ہیں ’’بھاویں‘‘ بریک ڈانس کروائیں یا تگنی کا ناچ نچائیں ۔یار لوگ اپنے جلسوں اور دھرنوں کے دوران بڑے ترنگ کے ساتھ ترانے بجاتے ناچتے جھومتے گاتے تھے کہ ’’نچن نوں جی کردا‘‘ جبکہ آج عوام فریادی ہیں کہ غربت مہنگائی وچ ’’رون تے پٹن نوں جی کردا‘‘ ۔

پاکستان بیورو آف شماریات کے افراطِ زر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں ملک میں مہنگائی کی شرح گزشتہ برس کے مقابلے میں 11.63 فیصد بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ برس اگست میں مہنگائی کی شرح 5.83فیصد تھی۔ اس طرح گزشتہ برس اگست کے مقابلے میں مہنگائی کی شرح میں 5.83 فیصد اضافے کے ساتھ مہنگائی دُگنی ہو گئی ہے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں جو اشیاء مہنگی ہوئی ہیں ان میں گیس 114.64 فیصد‘ مرغ 75.27 فیصد ‘ پیاز 61.11 فیصد‘ دال مونگ 46.32 فیصد‘ چینی 33.8 فیصد‘ دال ماش 29.52 فیصد‘ آلو 24.27 فیصد‘ خوردنی تیل 19.79 فیصد‘ تعمیرات 18.18 فیصد ‘ ادویات 17.2 فیصد ‘ ڈاکٹروں کی فیس 14.98 فیصد‘ گھی 17.13 فیصد‘ دال مسور 13.53 فیصد‘ گوشت12.5 فیصد‘ چنے 11.42 فیصد اور دودھ پائوڈر کی قیمت میں 10.91 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کے ارسطو جناب اسد عمر کا ’’کچومر نکالنے‘‘ والا فرمان ِ ذیشان صد فیصد صحیح ثابت ہورہا ہے۔ بلا شبہ مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔ مورخ تاریخ لکھتے ہوئے یہ سنہری حروف میں لکھے گا کہ عمرانی عہد کے پہلے سال میں ہی ان کے بیانات‘ اخلاقیات الغرض عمرانیات نے معاشیات کا بیڑہ غرق کر دیا تھا۔ لوگ غربت بھوک بے روزگاری میں مارے مارے سر گرداں بلکہ سر گریباں میں ڈالے پھرتے تھے اور رو رو کر دہائی دیتے تھے کہ:

ہم بھی کیا عجیب ہیں کڑی دھوپ کے تلے

صحرا خرید لائے ہیں برسات بیچ کر

کپتان کا یہ بار بار بولا ہوا بول 110 فی صد درست ثابت ہوا ہے اور حقیقی معنوں میں سونامی آگیا ہے لیکن یہ مہنگائی کا سونامی طوفا ن ہے۔ آج میری سوھنی دھرتی دیس پاکستان میں بھیک اور بھوک بال کھولے ننگی ناچ رہی ہیں۔ ملک IMF کی گہری دلدل میں پھنسا ہے۔ معیشت و معاشرت کا برا حال ہے جبکہ ہمارے بدست حکمران اپنی ایک سالہ کارکردگی پر نازاں ہیں۔ سبحان اللہ۔ تبدیلی کی تال ہے‘ چور چور کی تان ہے اور نئے پاکستان کی گردان ہے۔ آپ سماج کا سروے کر لیں تو غریب عوام سچ شہادت دیں گے کہ ہم کس حال میں ہیں۔ لوگوں کی تن بیتیاں سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ درحقیقت مہنگائی سے عام آدمی کی زندگی ہی اجیرن ہو گئی ہے۔ سرکاری سکولوں میں تعلیم ہے نہ ہسپتالوں میں علاج۔ بوڑھے بیمار اور بچے بے روزگار ہیں۔ روزمرہ استعمال کی چیزیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ بڑے بڑے محلات بنگلوں میں امیروں کے گھوڑے اور کتے بھی سونے کے نوالے لیتے ہیں اور ایک عام انسان دو وقت کی روٹی کو ترستا ہے۔

بھوک پھرتی ہے میرے دیس میں ننگے پائوں

رزق ظالم کی تجوری میں چھُپا بیٹھا ہے

وزیر بیانات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور دیگر حکومتی ترجمان بار بار ایک ہی بیان دہرائے جا رہے ہیں کہ پچھلی حکومتوں نے قرضے بہت ہی زیادہ لے لیے ہیں اس لئے ہم مشکلات شکنجوں میں کَسے ہوئے ہیں۔ اگر اس استدلال کو درست مان لیا جائے اور سارا ملبہ پچھلی حکومتوں پر ہی ڈال دیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج ان معاشی معاملات اور حالات کو سنبھالنا اور پھر ان کو سدھارنا اور سنوارانا ذمہ داری کس کی ہے۔؟ کپتان کی خدمت میں عرض ہے کہ خاتونِ اول محترمہ بشریٰ عمران آپ کو ٹھیک کہتی ہیں کہ اب آپ وزیرِ اعظم بن چکے ہیں۔ خُدارا اپنے بڑے بڑے بلند و بانگ دعوے‘ وعدے اور عہد پورے کر کے دکھائیں آپ لاکھوں کروڑوں اُمیدوں اُمنگوں کا مرکز ہیں۔ خدارا خان صاحب! چند اشعار کی صورت میں عرض ہے کہ:

اپنی مٹی پہ چلنے کا ہُنر سیکھو

سنگِ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جائو گے

تیز چلو مگر تصادم سے بچو

بھیڑ میں سُست چلو گے تو کچل جائو گے


ای پیپر