پروڈکشن آرڈر کیلئے عدالت جائیں گے : خواجہ آصف
13 ستمبر 2019 (18:16) 2019-09-13

اسلام آباد:مسلم لیگ (ن)کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ2002میں جاوید ہاشمی کے پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے،پارلیمنٹ کے دروازے اپوزیشن کیلئے بن نہ کئے جائیں ،بطور پارلیمنٹرین سپریم کورٹ جاتے ہوئے توہین محسوس کرونگا کیونکہ میرے ادارے نے ان معاملات کو حل نہیں کیا، ایک سال میں معیشت ترقی پذیر کی بجائے زوال پذیر ہو گئی۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر تے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ ماضی میں جاوید ہاشمی کے پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے۔ پارلیمان کا فورم سے اگر ہمیں ریلیف نہ ملا تو ہم پروڈکشن آرڈر کے معاملے پر عدالت جائیں گے ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمان کا فورم سب سے اہم ملکی فورم ہے مگر اس کے دروازے ہمارے لئے بند کئے جائیں گے تو اپوزیشن کے پاس آخری راستہ پھر سپریم کورٹ ہی بچے گا۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا میں چل رہا ہے کہ حکومت چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کوئی ریفرنس تیار کر رہی ہے اس حوالے سے صدر کے پاس آئین کے تحت کوئی اختیار نہیں ہے،ایوان صدر سے آئین کی خلاف ورزیاں بہت دفعہ ہو چکی ہیں آئین کے تحت پارلیمنٹ سب سے سپریم ادارہ ہے اور سپیکر اس کا محافظ ہوتا ہے ایسے معاملات کو دیکھنے کی ضرورت ہے اگر ہمیں ان دونوں معاملات پر ریلیف نہ ملا تو ہم ساتھ والی عمارت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔میری سپیکر صاحب سے درخواست ہے کہ ہمارے لئے دروازے بند نہ کریں میں بطور پارلیمنٹرین سپریم کورٹ جاتے ہوئے توہین محسوس کرونگا کیونکہ میرے ادارے نے ان معاملات کو حل نہیں کیا۔اس معاملے پر ایوان میں بحث بھی کروائی جائے اور آپ بھی اپنے آفس میں اس پر غور کریں۔


ای پیپر