پی ٹی آئی حکومت نیا مالیاتی ایوارڈ دے پائے گی؟
13 ستمبر 2018 2018-09-13

صوبوں اور وفاق کے مابین مالی وسائل کی تقسیم صرف معاشی یا مالی مسئلہ نہیں یہ کسی صوبے کی ترقی اور اختیارات سے منسلک ہونے کی وجہ سے سیاسی مسئلہ بھی ہے۔ اس سوال کو صحیح طور پر حل نہ کرنے کی وجہ سے صوبوں کے درمیان یا بعض صوبوں کی مرکز سے کشیدگی یا ناراضگی ملکی سیاست کی اہم حرکیات رہی ہیں۔بنگال بھی یہی شکوہ کرتا رہا۔ بلوچستان کو بھی اس پر ناراضگی ہے۔ سندھ بھی اس نقطے پر صوبائی خود مختاری کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ لہٰذا مالی وسائل کی تقسیم کو صرف اقتصادیات یا بجٹ کے دو اور چار کے ہندسوں کے تحت نہ کیا جاسکتا ہے اور نہ سمجھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔ وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ سے کہا ہے کہ وہ نویں قومی مالیاتی کمیشن کے لئے اپنے نمائندوں کو نامزد کریں۔قومی مالیاتی کمیشن مالی وسائل کی صوبوں اور وفاق کے درمیان تقسیم کا فارمولا تیار کر کے منظور کرتا ہے جو فارمولا آئینی طور پر پانچ سال کے لئے نافذ العمل ہوتا ہے۔اس کے بعد نیا مالیاتی ایوارڈ دینا لازم ہے ۔ آئین کی شق 160 (1) کے تحت ہر پانچ سال بعد یہ کمیشن تشکیل دینا ہوتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی وزرائے خزانہ بلحاظ عہدہ کمیشن کے ممبر ہوتے ہیں جبکہ ہر صوبہ مزید ایک ایک اپنا نمائندہ کمیشن کے لئے نامزد کرتا ہے۔ گزشتہ جولائی کے انتخابات کے بعد سوائے سندھ کے وفاق اور تین صوبوں میں حکومتیں تبدیل ہو گئی ہیں لہٰذا ان صوبوں کی حکومتیں نئے اراکین مقرر کریں گی۔ وفاق اور ان صوبوں میں وزرائے خزانہ بھی نئے ہیں،لہٰذا اراکین کمیشن نئے ہونگے۔ ۔ 
2009میں ساتویں مالیاتی ایوارڈ کا اعلان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں کیا گیا تھا۔ صوبوں کا حصہ زیادہ کرنے کی وجہ سے اس ایوارڈ کو تاریخی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ بڑی کوششوں اور محنت کے نتیجے میں یہ ایوارڈ دیا جاسکا، جو ماضی کے تمام ایوارڈز سے اپنی اپروچ اور نقط نظر میں مختلف تھا۔ آنے والے برسوں کے دوران اگرچہ چھوٹے صوبے احتجاج کرتے رہے لیکن نیا ایوارڈ دینے کے بجائے ساتویں ایوارڈ میں توسیع کی جاتی رہی۔ اس کے بعد مشترکہ مفادات کی کونسل کے 18 اجلاس ہوئے لیکن کسی بھی اجلاس میں نئے مالیاتی ایوارڈ پر بحث نہیں کی گئی۔ ساتویں مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے مطابق وفاق کو 42.5 فیصد اور صوبوں کو 57.5 فیصد دیا گیا ہے۔ صوبوں کو دیئے گئے اس حصے سے پنجاب کو 51.74 فیصد، سندھ کو 24.55 فیصد، خیبر پختونخوا کو 14.62 فیصد، اور بلوچستان کو 9.09 فیصد حصہ ملتا رہا۔ یہ ایوارڈ جون 2015 میں ختم ہو گیا تھا، اس کے بعد نیا ایوارڈ دینا تھا۔مسلم لیگ نواز حکومت نے فروری 2016 میں نواں قومی مالیاتی کمیشن تشکیل دیا تھا لیکن بعض رسمی اجلاسوں کے علاوہ یہ کمیشن کوئی ایوارڈ یا فارمولا تجویز نہ کر سکا۔ 
قومی مالیاتی کمیشن میں وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم اور پھر صوبوں کے مابین وسائل کی تقسیم پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کو نئے چیلینج کا سامنا ہے۔ آئندہ مالیاتی ایوارڈ میں نئی مردم شماری، فاٹا کی خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے نئے مظاہر سا منے آئے ہیں۔دوسری طرف مالی معاملات کو دوبارہ مرکزیت میں لانے کے لئے بھی آوازیں آر ہی ہیں۔ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم میں آبادی کو کتنا وزن دیا جائے اور صوبے کی جانب سے خود ٹیکس وصول کرنے کے عوامل کو بھی اہمیت دینے کے معاملات شامل ہیں۔ صوبوں کے درمیان کے معاملات طے کرنا اتنا مشکل نہیں تاہم صوبوں سے وسائل لیکر مرکز کو دینے کا معاملہ متنازع ہوگا۔ 
عسکری حلقوں اور سابق وفاقی وزراء خزانہ سمیت بعض حلقے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ صوبوں اور وفاق کے درمیان وسائل کی تقسیم پر نظر ثانی کی جائے اور سیکیورٹی کے اخراجات میں اضافے کے پیش نظر وفاق کو زیادہ رقومات فراہم کی جائیں۔ یہ بھی فرمائش کی گئی کہ اس کے ساتھ ساتھ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے خصوصی رقومات فراہم کی جائیں۔ قومی مالیاتی ایوارڈ پر پارٹی موقف کا اندازہ ہوتا ہے کہ صوبوں کو زیادہ مالی وسائل ملنے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت خوش ہے، کیونکہ سندھ اور پنجاب کے ساتھ ساتھ خٰبرپختونخوا کا حصہ بھی بڑھا ہے۔ خیبرپختونخوا کے نمائندے نے گزشتہ کمیشن کے اجلاس میں صوبوں کا حصہ 57.5فیصد سے بڑھا کر 75فیصد کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جو کہ کسی طور پر بھی حقیقی نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکز صوبوں کو زیادہ وسائل دینا نہیں چاہتا، پنجاب آبادی کی 
بنیاد پر ہی وسائل کی تقسیم چاہتا ہے اور باقی تین صوبے ٹیکسوں کی وصولی، پسماندگی اور غربت کو فارمولے کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اشیاء پر سیلز ٹیکس صوبوں کو دینے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جو کہ 1973 کے آئین میں ہے اور سندھ نے یہ تجویز پیش کی تھی۔ خیبر پختونخوا کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے قابل تقسیم محاصل میں رقم کم ہو جائے گی، نتیجۃ اس کا حصہ بھی کم ہوگا۔ ستمبر 2017میں تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت کے وزیر خزانہ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کے سلسلے میں خیبر پختونخوا حکومت کے طلب کردہ اجلاس کے موقع پرکہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت مرکز اور صوبوں کے درمیان قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ 80فیصد جبکہ مرکز کا حصہ 20فیصد رکھے اور قبائلی علاقوں کے لئے مرکز اپنے ہی حصے سے تین فیصد ادا کرے۔
سیاسی سطح پر دو چھوٹے صوبوں کا موقف ہے کہ مالی وسائل کی تقسیم میں آبادی کا عنصر کم کیا جائے۔ گزشتہ ماہ مئی میں منعقدہ سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان اور کے پی کے دو سینٹروں نے کہا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کی بنیاد غربت، پسماندگی، سامی اور معاشی ترقی کی عنصر پر ہونی چاہئے۔ ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ میں مالیاتی تقسیم کے لئے جن عوامل کو وزن دیا گیا تھا وہ درج ذیل ہیں۔ آبادی 82 فیصد، غربت او رپسماندگی 10.3 فیصد، ریونیو وصولی 5 فیصد۔
فنی سطح پر بھی موقف میں بڑا فرق ہے۔ آئی ایم ایف بھی پاکستان کے حوالے سے مالی وسائل کی مرکزیت کا موقف رکھتا ہے۔ اس عالمی مالیاتی ادارے کا مشورہ ہے کہ وفاق اور صوبے مشترکہ طور پر کانٹیجنسی فنڈ قائم کریں۔ رواں سال کے اوائل میں عالمی بینک کے تعاون سے وسائل کی تقسیم سے متعلق بل کا مسودہ تیار کیا گیا تھا۔ جس پر سینیٹ چیئرمین رضا ربانی نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وسائل کی تقسیم کے بل کا مسودہ آئین کی نفی کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے آئین کی غلط تشریح کی جارہی ہے۔
ساتویں مالیاتی ایوارڈ پر تنقید کی جاتی ہے کہ اس سے معاشی و مالی وسائل کی مرکزیت ختم ہو گئی ہے۔ وفاق کے پاس کم وسائل اور اختیارات رہ گئے ہیں۔ اس کے جواب میںیہ نقط نظر بھی ہے کہ وفاق انتظامی اصلاحات کے ذریعے وفاقی اخراجات میں کمی کرے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کی روشنی میں صوبوں کو بعض وزارتیں دے کروفاقی وزارتوں کی تعداد 27 سے کم کر کے 18 کی جا سکتی ہے۔ اور 35 ڈویژن کو 23 کیا جاسکتا ہے۔ بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے اخراجات بھی کم کئے جا سکتے ہیں۔ دو بڑے صوبوں کا ماننا ہے کہ بعض ذیلی وفاقی ٹیکس جو ابھی تک وفاق کے پاس ہیں، ان کی وصولی صوبوں کو منتقل کر کے مزید آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔ ماسوائے پنجاب کے باقی صوبوں کوغربت اور پسماندگی کے پیش نظر یہ حصہ کم لگتا۔ سندھ ملک کی کل آمدنی کا 70 فیصد دیتا ہے لیکن مالی تقسیم میں پنجاب بڑا حصہ لے جاتا ہے۔ پنجاب کا ملکی آمدن میں حصہ 23.04 ہے۔ یہی وجہ ہے این ایف سی ایوارڈ وفاق اور صوبوں کے درمیان اور صوبوں کے آپس میں ایک حساس معاملہ ہے۔ مالی مرکزیت واپس لانے والوں کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت کے تقریباً 11فیصد حصے میں کمی کے علاوہ اس کو بلوچستان کی ممکنہ آمدن میں کمی کو پورا کرنے کے لئے رقم چاہئے۔ آمدنی کا ایک فیصد حصہ صوبہ خیبر پختونخوا کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کیلئے مختص کیا گیا۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد نئی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے صوبوں کو وسائل چاہئیں۔ خاص طور پر تعلیم ، صحت وغیرہ کے لئے۔ 
صوبوں میں قدرتی وسائل (تیل، گیس وغیرہ) کی ملکیت اور رائلٹی کی تقسیم پر اختلافات ہیں۔ سندھ اور بلوچستان تیل اور گیس کی ملکیت سے خود کو محروم سمجھتے ہیں۔ سندھ ملکی گیس کی کل پیداوار کا 71 فیصد پیدا کرتا ہے۔ بلوچستان 22 فیصد، خیبر پختونخوا پانچ فیصد اور پنجاب دو فیصد پیدا کرتا ہے۔تیل کی پیدوار میں بھی اسی طرح سے ہے۔ سندھ 56 فیصد، بلوچستان 25 فیصد، خیبر پختونخوا ایک فیصد اور پنجاب 18 فیصد پیداوار دیتا ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم سے پہلے وفاق قدرتی وسائل کی رائلٹی کا 88.5 فیصد اٹھاتا رہا ہے۔ صوبوں کے حصے میں 11.5 فیصد رائلٹی آتی تھی اور وہ بھی کرپشن اور بیورو کریسی کے سرخ فیتے کا شکار ہو جاتی تھی۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کا رائلٹی کا حصہ ساڑھے فیصد سے بڑھا کر پچاس فیصد کر دیا گیا ہے لیکن اس پر عمل درآمد ہونا ابھی باقی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے مطابق قومی مالیاتی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ بڑھایا جا سکتا ہے اس کو کم نہیں کیا جاسکتا۔ اب اس میں کوئی بھی تبدیلی آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہیں۔ منقسم پارلمینٹ میں پی ٹی آئی کی حکومت ایک راہ نکال سکتی ہے کہ قابل تقسیم پول کو تبدیل کر دیا جائے اور بعض اخراجات جمع ہونے والی رقم میں سے منہا کر کے باقی رقم کو قابل تقسیم پول قرار دیا جائے اور اس میں سے صوبوں کو اپنا حصہ دیا جائے۔
ساتویں ایوارڈ سے پہلے وفاقی حکومت صوبوں کو بڑی بڑی رقومات بطور گرانٹ دیتی رہی ہے۔ یہ رقومات ملا کر بعض اوقات موجودہ ایوارڈ کی رقم سے زیادہ بھی بنتی رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے بعض نئے ٹیکس متعارف کرائے ہیں جو قابل تقسیم پول کا حصہ نہیں۔ پیٹرولیم لیوی ’’کاربان ٹیکس‘‘ کی شکل میں نافذ کیا گیا ہے اسی طرح سے گیس انفرا سٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی آمدنی مکمل طور پر وفاقی حکومت کی ملکیت ہے۔ یوں وفاقی حکومت نے اپنی آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کر لئے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ اور وزیراعظم سینٹرل بورڈ آف ریونیو میں بعض بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔ ٹیکس کی بیس بڑھانا چاہتے ہیں۔ نئے این ایف سی ایوارڈ کی راہ ہموار کرنا ایک پیچیدہ، متنوع اور مشکل عمل ہے۔ فریقین کو متفقہ فارمولا پر پہنچنے کے لئے لچک اور باہمی مفاہمت کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ تحریک انصاف جب صرف ایک صوبے خیبر پختونخوا میں حکومت میں تھی اس کا مالی وسائل کی تقسیم کے لئے موقف صوبوں کے حق میں تھا۔ کیا وفاق میں حکومت میں آنے کے بعد وہ اپنا موقف تبدیل کردے گی؟ کیا تحریک انصاف کی حکومت نیا ایوارڈ دینے میں کامیاب ہو جائے گی؟ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا فارمولا تبدیل کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے، جو کہ پی ٹی آئی کو حاصل نہیں۔ دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کی خوش دلی جس کی وجہ سے اٹھارویں ترمیم لائی گئی تھی، موجودہ حالات میں ممکن نہیں۔


ای پیپر