کلثوم کے باؤجی۔۔۔ان کو کسی کی فکر نہیں
13 ستمبر 2018 2018-09-13

نواز شریف کے جیل جانے سے جو لوگ سمجھتے تھے کہ اب میدان ان کے لیے خالی ہے۔ گزرتے دنوں کے ساتھ اب سیای میدان پھر سجنے کو تیار ہے۔ مفاہمت اور مصلحت دکھانے کا جو وقت تھا گزر گیا۔ نواز شریف اپنی بے گناہی کا مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں لڑ رہے ہیں۔ ان کو جس مقدمے میں سزا دی گئی ہے اس میں نئے نئے نکتے بتائے جا رہے ہیں کہ نیب کے وکیل اور جے آئی ٹی کے سربراہ اور گواہ خاصی مشکل میں ہیں۔ فیصلہ تو پورا مقدمہ سننے کے بعد ہی ہو گا اور انصاف ہو گا اور پورا پورا انصاف مگر یہ حقیقت ہے اس مقدمے پر سیاست کی گردجمی ہوئی ہے۔ جو ہو گا انصاف کے سوا کچھ نہیں ہو گا ۔ سب کو انصاف ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔ نیب کے چیئر مین بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ یہ کردیں گے اور وہ کر دیں گے ان کو ملنے والی طاقت پارلیمنٹ کی عطا کردہ ہے۔ مگر چیئر مین نیب دھمکیاں دے رہے ہیں۔ میڈیا پر آپ کا آنا تو بنتا نہیں ہے ماضی کو دیکھیں نیب کی بدبودار تاریخ رہی ہے مشرف نے اس ادارے کو سیاست دانوں کو زیر کرنے کے لیے تخلیق کیا۔ کون نہیں جانتا کہ اس ادارے کے سامنے اربوں کے لین دین ہوئے۔ جن پر فرد جرم عائد تھی وہ وزیر داخلہ بن گئے مگر نیب نے زبان نہ کھولی۔ خیر سیاست اور کنٹرول سیاست کی گنگا میں نیب کو چوہدری بننے کا شوق ہے تو وہ اپنی یہ آرزو پوری کر لے پہلے بھی تو عدلیہ میں جوڈیشل ایکٹیو ازم پورے عروج سے چل رہا ہے۔نواز شریف کا مقدمہ بھی اسی میں رنگا نظر آتا ہے۔ آج نواز شریف اپنی شریک حیات کو خدا کے سپرد کر دیں گے۔ باؤ جی کے پاس کھونے کے لیے اب کچھ نہیں ہے۔ بے درد زمانے والے اب سکون سے سو جائیں نواز شریف اب اپنی مرضی کا مالک ہے۔ جیل کے پھاٹک سیاست دانوں پر کھلتے اور بند ہوتے رہے ہیں۔ خطرات کے اس کھلاڑی پر ہالہ میں حملہ کیا گیا۔ سابق سپہ سالار آصف نواز کو قتل کرنے کی سازش کا الزام لگایا گیا،دیال سنگھ کا لج ضمنی انتخاب کے موقع پر بال بال بچے ۔ غداری کا مقدمہ بنایا پھر مشرف نے ہائی جیکر کا الزام لگا کر سزائے موت دلانا چاہی۔۔۔ سب کچھ ہو چکا قید میں زنجیروں اور زنجیروں سے باندھا گیا 38 دن تک کال کھوٹھری میں رکھا۔ ستم گر اور کیا کر سکتے ہیں۔ مؤرخ اور تاریخ لکھنے والے تیار ہیں مگر ایک طرف سے زعم لیے کہ تاریخ بھی ہماری مرضی کی ہو گی اور مؤرخ بھی ہمارا مگر اب ماضی کی کہانی نہیں چلے گی۔ جن لوگوں نے یہ نہیں بتایا کہ مشرقی پاکستان کیوں ٹوٹا۔ ایبٹ آباد میں امریکہ نے حملہ کس کی اجازت سے کیا ہوا۔ یہ سب درد ناک کہانیاں ہیں ماضی کا کھیل نئے پاکستان میں نہیں چل سکتا مگر نئے پاکستان میں آج بھی کچھ چل رہا ہے اور وہ کام ہو رہا ہے جو ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ 65ء کے انتخاب میں دھاندلی ہوئی۔ 1977ء میں دھاندلی ہوئی، 1990ء میں دھاندلی ہوئی اب فارم 45 کی کہانی زندہ قوم ہضم کرنے والی نہیں ۔ ایسا نہیں ہو گا اور ہوتا بھی نہیں چاہیے نادرا کی رپورٹ کے چرچے ہیں الیکشن کمیشن کو رپورٹ بھیجی گئی مگر ادھر سے تو جواب ہے ہمیں کچھ نہیں ملا۔۔۔ طاقت کی کھنچا تانی کا دور پھر شروع ہو گیا ہے وضاحتیں آ رہی ہیں کچھ نہیں ہوا۔۔۔ کافی کچھ ہو چکا ہے حکومت سازی مکمل ہوتے ہی نئے کھیل کا بگل بھی بج چکا ہے۔ 
نئی حکومت اور نئی پارلیمنٹ کا پہلا مشترکہ اجلاس ایک آئینی ضرورت ہے جس میں صدر اپنی تقریر کرتا ہے قومی ایشو پر اظہار خیال کرتا ہے جہاں اصلاح کا پہلو ہوتا ہے وہاں تجاویز دیتا ہے ۔ یہ اجلاس 13 ستمبر سے شروع ہونا تھا مگر اس کو کلثوم نواز کے انتقال کے باعث 16 ستمبر تک ملتوی کر دیا۔ نئی حکومت نے اچھا کیا اگر یہ اجلاس وقت پر ہوتا تو مسلم لیگ (ن) کے پارلیمنٹیرین کی بڑی تعداد اجلاس میں شریک نہ ہوتی دوسری جانب نئی حکومت نے نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور داماد کپٹن صفدر کو رہا کر کے اچھا کیا پیرول پر رہائی تو یقیناًحق تصور کی جاتی ہے خاص طور پر ایسا شخص جو تین مرتبہ وزیر اعظم رہا ہو جب کلثوم کے انتقال کی خبر آئی تو اس روز ہی مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے خصوصی اجازت سے اڈیالہ جیل میں نواز شریف سے ملاقات کی اور فوری رہائی کا معاملہ سامنے رکھا مگر نواز شریف نے درخواست لکھ کر پیرول پر رہائی لینے سے انکار کر دیا سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا جو ہونا تھا ہو چکا خدائی رضا کے سامنے کوئی زور نہیں مریم نواز نے بھی اپنے والد کی تائید کی اور انہوں نے بھی اپنے خاندان کے تینوں افراد کو اتوار کی رات تک رہائی دلائی۔ اب تینوں جاتی امرا میں موجود ہیں۔ نواز شریف کے لیے گہرا صدمہ ہے۔ ایک مثالی جوڑی تھی جو ٹوٹ گئی۔ نواز شریف شدید نڈھال ہیں۔ جب بھی نواز شریف حکومت میں آئے انہوں نے خاتون اول کا منصب تین مرتبہ پانے کے باوجود کبھی اس کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہ کیا۔ نہ صرف شریف خاندان بلکہ مسلم لیگ ن کا بھی بڑا نقصان ہے۔ وہ غیر سیاسی ہونے کے باوجود جب بھی مسلم لیگ (ن) کا کہیں نقصان ہونے لگتا وہ پیچھے رہ کر اپنا کردار ادا کرتیں ۔ تدفین کے بعد مسلم لیگ ن اپنی سرگرمیوں کا آغاز شروع کر لے گی۔ نواز شریف جو اپنے ہی گھر میں قیدی ہیں وہ بھی تعزیت کے لیے آنے والے پارٹی رہنماؤں 
سے ملیں گے کچھ ہدایات بھی دیں گے۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ کلثوم نواز کے رخصت ہونے اور ہمیشہ رخصت ہونے کے بعد سیاست میں ٹھہراؤ آئے گا ایسا محسوس ہوتا نہیں نواز شریف اور مریم اپنے موقف سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے اور بات ووٹ کے تقدس کی ہو گی۔ ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کا معاملہ وہاں سے ہی شروع ہو گیا ہے۔ حکومت جس انداز سے ہو رہی ہے وزیر اعظم جمہوریت کی بالا دستی کے نام پر ڈکٹیٹ ہو رہا ہے اور بار بار ہو رہا ہے سنجیدہ سوالات حکومت پر اٹھنا شروع ہو گئے۔ جی ایچ کیو کے دورہ کے بعد آئی ایس آئی کا آٹھ گھنٹے کا دورہ کہنے کو تو یہی کہا گیا ہے حکومت اور فوج ایک پیج پر ہے۔ حکومت کو ایک پیج پر ہی ہونا چاہیے۔ فوج نے جمہوریت کا جو راستہ نکالا ہے اس کا سارا فائدہ کپتان کو ہوا ہے مگر سی پیک پر حکومت کو وزارت خارجہ کی طرف سے جو جواب ملا ہے اس پر کپتان کی تسلی ہو جانی چاہیے ۔ آئی ایس آئی دنیا کی مانی ہوئی سیکیورٹی ایجنسی ہے جس نے روس جیسی سپر پاور کو شکست میں بنیادی کردار ادا کیا ملک کے اندر پاکستان دشمنوں پر اس کی گہری نظر ہے مگر اصل معاملہ تو یہ ہے کہ 
اس کا سیاسی رول پسند نہیں خاص طور پر حکومتیں بنانے اور گرانے میں اس کے کردار کا ایک طبقہ ہمیشہ ناقد رہا ہے اور یہ طبقہ اب بھی ناراض ہے۔ خود عمران خان کی تقریروں کے درجنوں حوالے ایسے ہیں جس میں وہ اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو پسند نہیں کرتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کیسا ہوتا ہے برف نہیں پگھلی۔ نواز شریف جس سیاست کو چھوڑ کر گئے تھے اس کا منظرنامہ ہی نظر آئے گا جو کچھ وزیر اعظم کے انتخاب میں ہوا تھا کیا وہی کچھ نئے صدر عارف علوی کے خطاب میں بھی دہرایا جائے۔ مشترکہ اجلاس میں صدر کی تقریر میں خلل ڈالنا اور ان کے سامنے آ کر مردہ یار کے نعرے لگانے کی روایت پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو سے شروع ہوئی بے نظیر کی حکومت کو نہ صرف اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے بر طرف کیا بلکہ 1990 ء کے انتخاب میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی کے ذریعے انتخاب میں دھاندلی کی گئی۔ اس دھاندلی کے لیے ایوان صدر فاروق لغاری، 1998 ء میں صدر رفیق تارڑ اور 2003 ء میں صدر مشرف اور کچھ ہلکا پھلکا سلوک زرداری کے ساتھ بھی ہو چکا حالیہ صدارتی انتخاب میں حکومت اور اس کے اتحادیوں کی عددی پوزیشن کو دیکھا جائے تو اپوزیشن ایک ووٹ سے آگے ہے۔ مگر حکومت کے لیے بندے پورے کرنا مشکل نہیں ہے کیونکہ کوئی تو ہے جو حکومت کے پیچھے بھی ہے بہر حال اس کے باوجود امکان ہے پہلے مرتبہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی مل کر مشترکہ حکمت عملی اپنا سکتے ہیں اس سے پہلے اپوزیشن نے وزیر اعظم اور صدارتی انتخاب میں بکھرنے کا جو تاثر دیا تھا وہ کلثوم نواز کی موت کے بعد اعتزاز احسن کی معذرت کے بعد ختم ہو گیا ۔اعتزاز نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے مان لیا ہے کہ ان کے الفاظ سے شریف فیملی کو بڑا افسوس ہوا تھا مگر اب معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ حکومت کو نیا بجٹ پیش کرنے کے بعد سخت تنقید کا سامنا ہو گا۔ کپتان کی حکومت پر یہ تنقید بھی جائز ہے کہ قومی اسمبلی میں 176ارکان کی حمایت کے باوجود ان کی جماعت کے پاس ایک درجن ارکان بھی ایسے نہیں ہیں جو حکومت کو چلانے میں مدد دیں۔ مشیروں کی فوج سیاسی رشوت ہے۔ دیکھا جائے تو عملاً ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم ہو چکی یہ ٹیکنوکریٹس کسی نہ کسی کے ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔ معین قریشی سے شروع ہونے والے اپنا کام دکھا کر چلتے بنتے ہیں۔ سپلیمنٹری بجٹ میں جو بھی بوجھ ڈالا جائے گا۔ وہ عوام کو ہی اٹھانا پڑے گا۔ عوام تیار ہو جائیں اب آپ کو 400ارب کا ٹیکہ لگے گا مگر اس سے پہلے ہی بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور بلوں پر نہ پڑھی جانے والی ریڈنگ آ رہی ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈیم بنانے کا جو کام شروع کیا ہے وہ شدید اعتراض کی زد میں ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ایسے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ ڈیم مخالف کسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں جب کہ نواز شریف حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ بھاشا ڈیم کی زمین کی خریداری کے لیے وہ بھاری رقم کے پی کے حکومت کے حوالے کر چکے ہیں۔ مگر اچانک شروع ہونے والے پانامہ بحران نے انہیں مہلت نہیں دی۔ 
دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔۔۔نیا پاکستان پرانا تماشا


ای پیپر