یوٹرن کا دوسرا نا م، تبد یلی 
13 ستمبر 2018 2018-09-13

قا ر ئین کر ا م، پا کستا ن تحر یکِ ا نصا ف جب سے معر ضِ و جو د میں آ ئی ہے،و ہ اور تبدیلی ایک دوسرے کے لیئے یک جا ن اور دو قا لب کے ما نند ہیں۔ہم د یکھتے ہیں کہ مو جو د ہ و ز یرِ ا عظم عمر ا ن خا ن کی کو ئی بھی تقر یر تبد یلی کا ذ کر کیئے بغیر مکمل ہو نے سے قا صر رہی۔ البتہ یہ کہنا درست ہو گا کہ ان کے فلسفۂِ تبد یلی نے ان کے سیا سی حریفو ں کو مو قع بہ مو قع نقصا ن پہنچا یا، لیکن اب،حقیقت سا منے آ کر رہتی ہے، کے مصد ا ق وہ خو د بھی تبدیلی کے شکار ہوچکے ہیں۔عمر ا ن خا ن نے اکثر جوش میں اعلانات کیے اور پھر ان کو کہا گیا یہ ممکن نہیں یہاں پر یوٹرن لینا ضروری ہے۔ عمر ا ن خا ن نے اکانومی کی جنگ جیتنے کے لیے بڑی ٹیم کا اعلان کیا اس نے دنیا بھر سے جس میں دنیا بھر سے ماہر پاکستانیوں کو شامل کیا گیا اور اس اقدام پر خوب داد بھی وصول کی گئی۔ اس فیصلے پر کڑی تنقید ہوئی لیکن فواد چوہدری نے بڑے دعوے کیے کہ ہم نہ ڈرنے والے ہیں اور نہ جھکنے والے ہیں اور اگلے ہی روز دعووں کے برعکس اس ٹیم کی کی سلیکشن تبدیل کردی گئی کیونکہ ان کو کہا گیا کہ یہ ممکن نہیںیہاں پر یوٹرن لینا ضروری ہے۔ عمر ا ن خا ن نے وزیراعظم ہاؤس کی لگژری گاڑیوں سمیت 102 گاڑیوں کی نیلامی کا اعلان کیا لیکن پھر پارلیمنٹ لاجز کے لیے ،مکینوں کی آسائش کے لیے خزانے کے منہ کھول دیئے گئے اور تزئین آرائش کے لیے گیارہ کروڑ پینتیس لاکھ روپے کے ٹینڈرز جاری کیے گئے کیونکہ ان کو کہا گیا کہ یہ ممکن نہیں یہاں بھی یوٹرن لینا ضروری ہے۔ طارق بشیر چیمہ کی بطور وفاقی وزیر بطور ریاستی سرحدی امور تعیناتی کو ابھی چند روز ہی ہوئے تھے کہ ان کی وزارت کا قلمدان تبدیل کرکے انہیں وزارت ہاؤسنگ اینڈ وورس کا قلمدان سونپ دیا گیا کیونکہ ان کو کہا گیا کہ یہ ممکن نہیں یہاں بھی یوٹرن لینا ضروری ہے۔ عمر ا ن خان نے بابر اعوان کو کابینہ کا حصہ بنایا جبکہ نیب کیسز میں بابر اعوان صاحب کے حوالہ سے میڈیا چیختا رہا وہ یاد دلاتا رہا کہ وہ ستائیس ارب کے کرپشن کے مقدمات میں زیر احتساب ہیں لیکن انہیں کابینہ میں شامل کیا گیا اور بالآخر بابر اعوان کو مستعفی ہونا پڑا کیونکہ عمر ا ن خا ن کہا گیا کہ یہ ممکن نہیں یہاں پر بھی یوٹرن لینا ضروری ہے۔ 
عمر ا ن خا ن نے دعوے کیے کہ حکومت میں آتے ہی گورنر ہاؤسز کی دیواریں گرادی جائیں گے۔ نئی حکومت آگئی لیکن پرانے گورنر ہاؤسز کی دیواریں نہیں گرائی جاسکیں کیونکہ ان کو بتا یا یا کہ یہ ممکن نہیں یہاں پر بھی یوٹرن لینا ضروری ہے۔ عمر ا ن خا ن نے جس بھی گورنر کی نامزدگی کا اعلان کیا تنازعہ ضرور کھڑا ہوا۔ گورنر بلوچستان کے لیے پہلے امیر محمد خان جوگزئی کا اعلان کیا گیا لیکن پھر انکار کردیا گیا کیونکہ پھر کپتان کو کہا گیا کہ یہ ممکن نہیں یہاں پربھی یوٹرن لینا ضروری ہے۔ عمر ا ن خان نے نگران وزیر اعلیٰ کے لیے ناصر کھوسہ کی نامزدگی کا اعلان کیا لیکن تنقید کی گئی کہ وہ مخالفین کے قریبی ساتھی ہیں اور اس تنقید کی بوچھاڑ کے نتیجے میں فیصلہ تبدیل کردیا گیا کیونکہ ان کو کہا گیا کہ یہ ممکن نہیں یہاں پر بھی یوٹرن لینا ضروری ہے۔ عمر ا ن خا ن نے دعویٰ کیا کہ ہم کبھی کسی کے سامنے بھیک نہیں مانگیں گے اور آئی ایم ایف سے ہمیشہ کے لیے ناطہ توڑ لیں گے۔ لیکن پہلے ہی ماہ جب حکومت میں آئے تو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی نوید سنادی کیونکہ ان کو کہا گیا کہ یہ ممکن نہیں یہاں پر بھی یوٹرن لینا ضروری ہے۔ عمر ا ن خا ن نے موروثی سیاست کے حوالے سے اپنے مخالفین چاہے وہ شریف خاندان ہو یا بھٹو خاندان ہو ہمیشہ تابڑ توڑ حملے کیے لیکن خٹک اور ترین خاندان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے کیونکہ ان کو ایک مرتبہ پھر کہا گیا کہ جناب یہ ممکن نہیں یہاں پر بھی یوٹرن لینا ضروری ہے۔ عمر ا ن خا ن نے نئے پاکستان میں پرانی قیمتوں کو کم کرنے اور مہنگائی کنٹرول کرنے کے دعوے کیے لیکن حکومت نے پہلے ہی مہینے میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ غریب پاکستانیوں پر کمر توڑ مہنگائی کا مزید بوجھ بڑھے گامہنگائی کی کمر توڑنے کے دعوے تبدیلی کا شکار ہوگئے۔ کیونکہ ان کو کہا گیا کہ یہ ممکن نہیں یہاں پر بھی یوٹرن لینا ضروری ہے۔کسان کی حالت بدلنے کا بلند و بانگ دعویٰ کیا گیا اور پھر کھاد کی قیمتوں میں اضافے کا بھی علان کردیاگیا اور اسی طرح مسافروں پر ٹول پلازوں پر ٹیکسوں میں اضافے سے بجلی گرائی گئی کیونکہ ان کو کہا گیا جناب یہ ممکن نہیں یہاں پر بھی یوٹرن لینا ضروری ہے۔ روایتی سیاست نہ کرنے کا دعویٰ کرنے والے عمر ا ن خا ن کو اپنے بدترین حریفوں ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق) اور آزاد اراکین کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا، اورنہیں حکومت بنانے کے لیے روایت سیاست ہی کرنا پڑی کیونکہ انہیں کہا گیا جناب یہ ممکن نہیں یہاں پر بھی یوٹرن لینا ضروری ہے۔تبدیلی والی حکومت کب تک اپنے فیصلوں کو تبدیل کرتی رہے گی۔
صا حبو، یہ توو ز یرِ اعظم عمر ا ن خا ن کی اب تک کی کار کر د گی میں سے محض چند مثا لیں ہیں۔ اب چو نکہ وہ ملک کے اعلیٰ تر ین عہد ے پہ فا ئز ہو چکے ہیں ،تو انہیں یہ با و ر کر انا عین وطنِ عز یز کے مفا د میں ہے کہ اپو ز یشن کے بینچو ں پر بیٹھ کر بیا نا ت جا ری کیئے چلے جا نا اور با ت ہے، اور حکو مت میں ہو تے ہو ے وکوئی بھی و عد ہ کر نا اور با ت ہے۔ میڈ یا خو ا ہ کسی بھی ملک کا کیو ں نہ ہو، اس کے نز دیک اپو زیشن لیڈرو ں کے قو ل و فعل کی وہ اہمیت کسی قیمت پر نہیں ہو سکتی جو حکو متی اعلیٰ عہد ید ا رو ں کی ہوتی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ پو ری دنیا کی نظر یں حکو مت میں ہو نے کی وہ سے آ پ پر مر کو ز ہو تی ہیں۔پھر کہنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ بے شک ما ضی کے حکمر ا نو ں نے بھی اِس ملک کے بھو ک و ننگ سے سسکتے عوا م کو کچھ نہیں دیا، لیکن انہو ں نے عو ا م سے کو ئی لمبے چو ڑے وعدے بھی تو نہیں کیئے۔ حکو مت کا کسی شخص کو ا مید دلا کر اس کے پا ؤ ں کے نیچے سے پھٹا کھینچ لینا اس شخص کو ملک کے آ ئند ہ کے حکمر ا نو ں سے بھی ما یو س کر نے وا لا عمل ہو تاہے۔ نتیجاتاً آئندہ کے ہو نے وا لے انتخا با ت میں عوام میں پو لنگ اسٹیشنو ں کی ر ا ہ بھو ل جا تے ہیں۔ لاقانو نیت اور بے را ہروی ملک کا مز ا ج بن جا تی ہے۔حکو مت تو پھر بھی کسی نہ کسی نے کر نا ہی ہو تی ہے۔ یوں حکو مت مطلق ا لعنا ن حکمر ا نو ں کے قبضے میں آ جا تی ہے۔ یہا ں میر ے خیا ل میں میں یہ سوا ل پو چھنے کا حق ر کھتا ہو ں کہ اگر مو جو د ہ حکو مت اپنی یو ٹرن لینے کی روش تر ک نہیں کر تی تو اس کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے؟تب عو ا م کی حکو مت سے ما یو سی اور اس کے قو ل و افعا ل میں عد م دلچسپی ان کے مستقبل کو کس طر ح کے حا لا ت سے دو چا ر کر سکتی ہے؟ یہ سو چنے کی ضر و ر ت ہے۔


ای پیپر