ہمیں پیار ہے پاکستان سے
13 ستمبر 2018 2018-09-13

کسی قوم کی یکجہتی اور جذبوں کا اندازہ اس اَمر سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے قومی تہوار کس انداز سے مناتی ہے ۔ اس حوالے سے پاکستانی قوم دنیا کی اُن سرکردہ اقوام میں سے ہے جو اپنی سالمیت اور حمیت سے متعلق تہوار بہت جوش اور جذبے سے مناتی ہیں۔ جو اس پہلو کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ قوم اپنی سرزمین اور روایات سے پیارکرنے والی ہے ۔ پاکستانی قوم ہر سال 6 ستمبر کو یومِ دفاع کے طور پر مناتی ہے ۔ جو اس فتح کا جشن ہوتا ہے جو اس نوزائیدہ مملکت کے باسیوں نے عددی اعتبار سے ایک بڑی طاقت کی جارحیت کے جواب میں حاصل کی۔ اس حوالے سے ملک بھر میں مختلف تقریبات منائی جاتی ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی اور مرکزی تقریب جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں منعقد کی جاتی ہے ۔ رواں برس بھی یہ تقریب روایتی شان اور بان کے ساتھ منعقد کی گئی۔ تقریب میں جہاں شہدا ء اور غازیوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے وہیں یہ تقریب اس امر کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ ہماری قوم اور افواج، دفاعِ پاکستان اور ملکی سالمیت کے حوالے سے کس قدر حساس ہیں۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز اپنے سربراہ کی ہدایات کی روشنی میں جس انداز سے پروگرام ترتیب دیتی ہے اس سے پروگرام کے ایک ایک سیگمنٹ سے وطن سے محبت کی خوشبو چھلکتی ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور 6ستمبر کے ہر ایک سیگمنٹ کی تیاری کو خود سُپروائزکرتے دکھائی دیئے اور اُن کی رہنمائی اور ہدایات کی روشنی میں قومی سطح کی ایک بہت بڑی اور مرکزی تقریب کا انعقاد ہوا۔ جسے پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز پر براہِ راست کوریج دی گئی جس سے یہ پروگرام ملک کے طول و عرض میں دیکھا گیا۔ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیرِاعظم پاکستان جناب عمران خان تھے۔ وزراء کرام سمیت ملک بھر سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مہمانانِ گرامی اور افواجِ پاکستان کے سربراہان شریک ہوئے۔ مختلف ممالک کے سفیرانِ کرام 
اور ڈیفنس اتاشیوں نے بھی پروگرام دیکھا۔ اس پروگرام میں آئی ایس پی آر کی بنائی گئی دستاویزی فلموں کے ذریعے جہاں پاکستان کی حاصل کردہ کامیابیوں کو اُجاگر کیا گیا وہاں کشمیر میں ہونے والے بھارتی ظلم وجبر کی تصویر کشی بھی کی گئی، ساتھ ہی ساتھ بھارت کے حاضر سروس فوجی آفیسر اور جاسوس کلبھوشن یادیو کی خود اپنی زبان میں اقرار کرتے ہوئے ویڈیو بھی دکھائی گئی جس سے دُنیا بھر کے نمائندگان جو اس تقریب میں موجود تھے یا دنیا بھر میں کہیں بھی بیٹھ کر یہ تقریب کسی چینل پر دیکھ رہے تھے پر عیاں ہوا کہ کس طرح بھارت خطے کا ایک خطرناک ملک ہے جس کی وجہ سے خطے کا امن تہہ و بالا ہو چکا ہے اور پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ میں اُلجھا دیکھ کر کس طرح بھارت نے اس کو ایک موقع جانتے ہوئے پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کروائی ۔ بھارت نے صوبہ بلوچستان کو دیگر بین الاقوامی طاقتوں کی مدد سے خاص طور سے ٹارگٹ کئے رکھا۔ جس کی وجہ سے بلوچستان میں نہ صرف امن قائم ہونے میں وقت لگا بلکہ ترقی کا عمل بھی اُس انداز سے جاری نہیں رکھا جاسکا جس کا یہ متقاضی تھا۔ پھر بھی پاکستانی اداروں بالخصوص افواجِ پاکستان نے بلوچستان میں تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے بہت سے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا۔ آج بلوچستان کے نوجوان سول سروسز میں دکھائی دیتے ہیں، افواجِ پاکستان میں بھی صوبہ بلوچستان کے جوانوں اور افسروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔ جو یقیناًایک خوش آئند امر ہے ۔ بہرطور کلبھوشن جیسے بھارتی جاسوس کی گرفتاری ہمارے خفیہ اداروں کی بہت بڑی کامیابی ہے اور اسے اس طرح سے دنیا بھر کے نمائندگان اور میڈیا کے سامنے پیش کرنا پاکستان کے اس اصولی مؤقف کی تائید ہے جو وہ بھارت کی صوبہ بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں، مداخلت کے حوالے سے رکھتا ہے ۔بہرطور انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے زیرِ اہتمام جنرل ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ یومِ دفاع کی مرکزی تقریب ملی یکجہتی اور محبت کی علامت کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے ۔ جب شہداء کی قربانیوں اور اُن کے لواحقین کا اپنے پیاروں سے بچھڑنے کا تذکرہ آتا ہے تو کون سی آنکھ ہے جو نم نہیں ہوتی اور کون سا دل ہے جو رنجیدہ نہیں ہوتا۔جس گھر سے اُن کا کوئی لعل وطن پرقربان ہوتا ہے اُن کی شدتِ غم کو محسو س کرنا شائد دوسروں کی بساط میں نہیں ہوتا۔ اس کرب کا وہی انداز ہ کرسکتے ہیں جن کا جگر گوشہ ہنستے بستے گھرانے کو غم کے پہاڑ کے حوالے کر کے اپنی جان جانِ آفریں کے سپُرد کردیتا ہے ۔ جو قوم اپنے شہیدوں کے لئے محبت کے جذبات رکھتی ہے اور اُن کے لواحقین کے ساتھ عزت و احترام کے رشتے سے بندھی ہوتی ہے اُس قوم کی کامیابی یقینی ہوتی ہے ۔ ہماری اقوام الحمدﷲ بہت جذبوں والی اور بہت خوبیوں والی قوم ہے ۔ یہاں مثبت سوچ اور طرزِ فکر رکھنے والے لوگوں کی تعداد منفی سوچ رکھنے والوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ یومِ دفاع کے موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک ٹویٹ بھی کی کہ یومِ دفاع کے موقع پر بحیثیت قوم ہمیں مختلف شہداء کے گھروں میں جا کر ان کے لواحقین سے ملنا چاہئے۔ وہ خود ایک شہید فیملی کے گھر گئے اور شہید کے لواحقین سے ملے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ پولیس کے ایک شہید سب انسپکٹر کے گھر گئے اور لواحقین سے اظہارِ ہمدردی اور شہید کے درجات کی بلندی کے لئے دُعا کی۔ یومِ دفاع کے موقع پر چیف آف آرمی سٹاف نے جی ایچ کیو آڈیٹوریم میں پاک فوج کے شہداء کے لواحقین کے ساتھ پورا دن گزارا۔ وہ فرداً فرداً لواحقین سے ملے، اُن کے مسائل سُنے اور اُن کے مؤثر اور فوری حل کے لئے ہدایات جاری کیں۔ اس طرح عوام الناس نے نہ صرف اپنے اپنے علاقوں میں شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا بلکہ سوشل میڈیا پربھی شہداء کے لئے اور ریاستِ پاکستان کے لئے اپنے محبت بھرے جذبات کا اظہار کیا۔ مختلف شہروں میں یومِ دفاع کی تقریبات کا انعقاد کیاگیا۔ ایک ایسی ہی تقریب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بھی منعقد کی گئی جس میں شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ یوں رواں برس کا یومِ دفاع ’’ ہمیں پیار ہے پاکستان سے ‘‘ کی تصویر بنادکھائی دیا۔ پاکستان ہمیشہ سلامت رہے۔


ای پیپر