ماں تجھے سلام۔۔۔
13 ستمبر 2018 2018-09-13

دوستو، آج سابق وزیراعظم نوازشریف کی اہلیہ اور تین بار خاتون اول رہنے والی محترمہ بیگم کلثوم نوازکو خاک کے حوالے کیا جائے گا۔۔ ان کا انتقال لندن میں ہوا جہاں وہ ایک سال پچیس دن زیرعلاج رہیں، انہیں گزشتہ سال کینسرتشخیص ہوا تھا ، وہ رکن قومی اسمبلی بھی بنیں لیکن حلف نہ اٹھاسکیں۔۔ مخالفین نے ان کی انتقال کی خبروں کو متنازع بنانے کی کوشش کی، لیکن ہم نے وہ خبریں ایک کان سے سنیں اور دوسرے کان سے اڑادیں کیوں کہ دونوں کانوں کو قدرت ڈیزائن ہی کچھ اس طرح کیا ہے کہ درمیان میں کوئی بات ’’ٹک ‘‘ نہیں سکتی۔۔ سیاست میں ان کا جو بھی مقام ہو، ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، ان کی رشتہ داریاں کسی سے بھی ہوں، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ،ہمارے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ بیگم کلثوم نواز ایک ماں بھی تھیں۔۔اور ہمارے معاشرے میں ماواں ٹھنڈیاں چھاواں ہوتی ہیں، ہماری زندگی کا بڑا حصہ کراچی میں گزرا، وہیں جنم لیا، تعلیم حاصل کی ، پچھلے کچھ عرصے سے لاہور میں ہیں ، لیکن دونوں جگہ ہم نے ماں کا عزت و احترام نوٹ کیا، کوئی ایسا نہیں جو ماں کی عزت نہ کرتا ہو۔۔چونکہ یہ غیرسیاسی کالم ہوتا ہے اس لئے سیاست سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔۔اور یہ کالم بھی بیگم کلثوم نواز پر نہیں بلکہ ماں کے احترام میں ہے۔۔
مائیں سانجھی ہوتی ہیں، ماں کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے لیکن اپنے اندر کل کائنات سموئے ہوئے ہے۔ ماں کی عظمت اور بڑائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ خداوندکریم جب انسان سے اپنی محبت کا دعوی کرتا ہے تو اس کیلئے ماں کو مثال بناتا ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جسکی پیشانی پر نور، آنکھوں میں ٹھنڈک، الفاظ میں محبت، آغوش میں دنیا بھر کا سکون، ہاتھوں میں شفقت اور پیروں تلے جنت ہے۔ ماں وہ ہے جسکو اک نظر پیار سے دیکھ لینے سے ہی ایک حج کا ثواب مل جاتا ہے۔
ماؤں کی مختلف اقسام ہوتی ہیں، ہر ماں اپنی اولاد کو بہت اچھی طرح جانتی ہے، اس کے کرتوت سے آگاہ ہوتی ہے، اس کی کمزوریاں، خامیاں سمجھتی ہے، لیکن اولاد کوئی بھی ہو وہ ماں کو وہ مقام نہیں دیتی جو اس کا حق ہے، ماں نے جب بیٹے کو کہا کہ،ایک گلاس پانی دینا، بیٹے نے جواب دیا، امی جان، پانی کیلئے کسی اور کو کہہ دیں، میں اس وقت بہت مصروف ہوں۔۔ ماں نے حیرت سے پوچھا،تم کیا کررہے ہو؟ بیٹے نے برجستہ کہا، آپ نے جو مٹھائی چھپائی ہے اسے تلاش کررہا ہوں۔۔ایک طالبعلم نے اپنی والدہ کو خط لکھا، پیاری امی جان! دو ماہ سے آپ کی خیرت معلوم نہیں ہو سکی، مہربانی فرما کر میرا خرچ بھیج دیں تاکہ آپ کی خیریت معلوم ہو سکے۔ والسلام۔۔ چھوٹے چھوٹے پرندوں کی ماں انھیں جگا رہی تھی مگر وہ اٹھنے کا نام نہیں لے رہے تھے ماں نے لالچ دیتے ہوئے کہا،تم لوگ صبح جتنی جلدی اٹھ کے باہر جاؤ گے اتنی زیادہ سنڈیاں تمہیں کھانے کو ملیں گی ،ایک بچے نے آنکھیں ملتے ہوئے پوچھا اور صبح جلد اٹھنے والی سنڈیوں کو کیا ملتا ہے۔۔؟؟
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر اعتزازاحسن نے دھرنے کے دنوں میں ایوان بالا میں تقریر کے دوران ایک لطیفہ سنایا، کہنے لگے۔۔ایک بیٹا اپنی ماں کی کوئی بات نہیں مانتا تھا، ایک دن پولیس نے اسے چوری کے کیس میں پکڑ لیا، ماں کو پتہ چلا تو وہ بھی تھانے پہنچ گئی اور دیکھا کہ جب پولیس والے اسکو چھتر لگاتے تو وہ کہتا ’’ہائے ماں ‘‘ اس پر اسکی ماں نے جوش میں آکر کہا ’’واہ تھانیدارا صدقے جاواں، اینوں ماں تے یاد کرا دتی اے‘‘۔۔حیرت انگیز طور پر ہمارے میڈیا میں ماں کو ایک ولن کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، آپ لوگوں نے شاید نوٹ نہ کیا ہو لیکن ہمارا مشاہدہ ہے کہ فی زمانہ ہم ماں کی تذلیل سرعام کررہے ہیں، برتن دھونے کے ایک صابن کے اشتہار میں ماں کو منفی انداز میں پیش کیا جارہا ہے، وہی اشتہار جس میں نوجوان اپنی بیگم سے لانگ ڈرائیو پر جانے کی بات کرتا ہے اور ٹھیک اسی وقت نوجوان کی ماں یہ بات سن کر بہو کو کام پر لگا دیتی ہے۔ بہو جب کام ختم کرکے جانے لگتی ہے تو یہ دکھایا ماں پہلے ہی تیار ہوکر آجاتی ہے اور بیٹا اور بہو برا سے منہ بنا رہے ہیں۔ اسی طرح سے دودھ کے ایک اشتہار میں بھی یہی کچھ دکھایا گیا ہے کہ نوجوان چائے پیتے ہوئے یہ گمان کرتا ہے کہ یہ چائے اس کی والدہ نے بنائی ہے اور وہ والدہ کی تعریف کرتا ہے اور ماں کے ہاتھ کا بوسہ لیتا ہے تو اس کی بیوی اسے گھر سے نکال کر چھت پر سونے بھیج دیتی ہے۔ بظاہر تو یہ بڑے مزاحیہ اشتہار لگتے ہیں اور شاید ہی کسی نے اس کی سنگینی کو محسوس کیا ہو لیکن دراصل اس میں غیر محسوس انداز میں اولاد کو ماں سے دور کیا جارہا ہے۔۔
ماں سے بیٹی نے پوچھا، کیا میری ناک چپٹی ہے؟ ماں نے کہا نہیں بے بی، بیٹی نے پوچھا، کیا میں ہاتھی کی طرح موٹی ہوں، ماں نے کہا ،نہیں بیٹی، بیٹی نے پھر پوچھا،کیا میرارنگ کالا ہے؟، ماں بولی، نہیں تو بہت پیاری ہے،بیٹی دوبارہ بولی، تو پھر لوگ کیوں کہتے ہیں کہ تم اپنی ماں جیسی لگتی ہو؟۔۔ ماں نے غصے سے کہا۔۔ لاواں جتی!! بے غیرت جئی! موٹی ، پھینی، کالی، پھوپھی تے گئی اے ساری۔۔۔ایک لڑکی نے ماں کو فون کیا،امی میری اپنے خاوند سے لڑائی ہو گئی ہے اور میں ناراض ہو کر آپ کے پاس رہنے آرہی ہوں، ماں نے کہا، نہیں میری بیٹی، اس کو اتنی سزا کافی نہیں، تم بھی وہیں رہو، میں بھی وہیں تمہارے پاس رہنے کیلئے آ رہی ہوں۔۔اسی طرح ایک اور لڑکی نے فون پر ماں سے کہا، امی میرا خاوند سے جھگڑا ہو گیا، زبردست مارپیٹ ہوئی ہے، ماں نے سمجھایا، بیٹی لڑائی جھگڑے تو ہوتے رہتے ہیں، کوشش کیاکرو ایک دوسرے کی خامیاں،برائیاں نظراندازکردو، ایک دوسرے سے پیارمحبت سے رہو،درگزر سے کام لو۔۔ بیٹی نے جواب دیا، وہ سب تو ٹھیک ہے ماں لیکن اب لاش کاکیا کروں؟؟۔۔
ایک گرفتار شدہ چور نے جیل سے اپنی ماں کو خط لکھا کہ۔۔میری پیاری اماں جی! ہمیشہ خوش رہو ،تو اچھی طرح جانتی ہے کہ مجھے ہمیشہ تیری دعاؤں کی ضرورت رہی ہے۔میں جانتا ہوں کہ جن راستوں کا میں مسافر ہوں ،وہ مجھے تم سے دور لے گئے ،آج میں اس ملک کی بد ترین جیل میں نچلے درجے کا قیدی ہوں ،یہاں کا جیلر بہت ہی کمینہ آدمی ہے ،وہ مجھے بے حد تنگ کر تا ہے اور اوپر سے دو تین بدمعاش قیدیوں نے میرا جینا حرام کررکھا ہے ،لمبی دال اور سڑی روٹی کھا کھا کر میرا کلیجہ منہ کو آتا ہے۔میری پیاری ماں !میں تجھے کیا بتاؤں کہ آج میں اپنے کیے پر کتنا نادم ہوں۔میرے چھوٹے ویرے کو کہہ دینا کہ میرے راستے پر نہ چلے اورمیٹر ک کی تیاری کرے،پھر خوب پڑھ لکھ کرپولیس افسر بنے۔کل کو جب جیل سے نکلوں تو وہ میرا مان بن سکے،اورسلمیٰ کو کہنا کہ میراانتطار کرے ،یہاں جیل میں مجھے ہر وقت اندرہی اندر یہ غم کھائے جارہا کہ کہیں وہ چاچا فضلو کے’’ وڈے پْتر‘‘ سے شادی نہ کر لے۔ ماں میں نے جیل میں اپنی غلطیوں کا اندازہ لگایا ہے ، ماں ! اب میں نے توبہ کرلی ہے۔ اب ماضی کی غلطیاں کبھی نہیں دہراؤں گا ،تو بس میرے لیے دعا کرتی رہ ،جس دن میں جیل سے نکلا پہلے بابا جی کے دربار پر جا کر منت پوری کروں گا اور وہاں سے سیدھا طاری استادکے پاس جاؤں گا ،بڑا ہی قابل چور ہے ،سو چوریاں کی ہیں پر آج تک پکڑا نہیں گیا۔اور میری توبہ جوکبھی دن چڑھے چوری کی یا گجروں کے پنڈ کی طرف منہ بھی کیا۔سلمیٰ والا کام نہ بھولنا ،انشااللہ پہلی چوری پر تجھے سونے کی چوڑیاں دوں گا۔تیرا سوہنا قیدی پْتر۔
اور چلتے چلتے آخری بات ۔۔پھانسی دیے جانے والے ایک مجرم کو جب پھانسی گھاٹ لایا گیا تو وہاں اس سے آخری خواہش پوچھی گئی۔ مجرم نے کہا م،مجھے میری ماں سے ملا دو۔ ماں روتی پیٹتی پھانسی گھاٹ تک آئی۔بیٹے نے ماں سے کہا کہ وہ اپنا کان قریب کرے۔ جوں ہی ماں نے اپنا کان بیٹے کے منہ کے پاس کیا، بیٹے نے کان اپنے دانتوں سے چباڈالا۔۔اور یہ تاریخی الفاظ کہہ گیا۔۔ میرے ہاتھ پیر بندھے ہیں اور اس وقت میں تجھ سے یہی بدلہ لے سکتا ہوں۔ کاش جب میں پہلی بار پڑوسی کی مرغی کے انڈے چرا کر لایا تھا تو تو نے مجھے تھپڑ لگادیا ہوتا،تو آج میں اس جگہ نہ کھڑا ہوتا۔


ای پیپر