الیکٹ ایبلز کی اجارہ داری
13 ستمبر 2018 2018-09-13

اس حقیقت میں تو کوئی شک و شبہ ہے ہی نہیں کہ ہماری جمہویت پر ہمیشہ امراء کا قبضہ رہا ہے۔ چنانچہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی اکثریت بالخصوص دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نہ صرف امراء کے طبقوں میں شمار کئے جاتے ہیں بلکہ ان میں سے بیشتر جاگیردارانہ پس منظر کے حامل ہیں۔ اس ضمن میں دو اہم عوامل نے نمایاں کردار ادا کیا ہے، موروثی سیاست اور سیاسی جماعتوں کی قیادت پر کسی ایک خاندان کا قبضہ۔ موروثی سیاست میں جماعت کے اندر جمہوریت سرے سے نہیں ہوتی جس کے نتیجے میں پارٹی لیڈر شپ کے لئے اپنے خاص لوگوں اور مقربین کو آگے لانا آسان ہو جاتا ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے کے لئے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک عام غریب آدمی اور متوسط طبقے کے پاس سرے سے ہوتا ہی نہیں ہے اور اس طرح یہ طبقہ انتخابات میں حصہ لینے یا اس میں شریک ہونے کی بابت سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہمارے ہاں امراء کا رویہ اور اداروں کا ارتقاء بہتر طریقے سے نہیں ہو پایا۔ مغرب میں ان کی سمجھ میں یہ بات آ چکی ہے کہ بہتر گورننس ایک اچھے جمہوری نظام کو جاری رکھنے کے لئے بے حد ضروری ہے۔ زمانے کے ساتھ اداروں کے مابین توازن بھی پیدا ہو چلا ہے اور احتساب کے لئے ضروری میکنزم بھی وجود میں آ چکا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے سیاستدان بالعموم کرپٹ اور نا اہل واقع ہوئے ہیں۔ یہ لوگ حصولِ اقتدار صرف شہرت یا عام زندگی کی بہتری کے لئے نہیں چاہتے بلکہ برسرِ اقتدار آنا ان کے نزدیک زرگری کے لئے اشد ضروری ہے۔ حکومت کتنے عرصے تک برقرار رہے گی اس کے بارے میں یہ لوگ ہمیشہ متجسس رہتے ہیں اور کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنے کے چکر میں مبتلا رہتے ہیں۔ملک اور عوام کے بارے میں فکر مند ہونا اس طبقے کے نزدیک قطعاً ضروری نہیں ہے۔ حکومتی مدت ختم ہونے پر یہ طاقتور امیدوار بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اور ایسی جماعت کے ٹکٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جن کے اگلی دفعہ برسرِ اقتدار آنے کے چانسز ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں کسی کا بھی نام لینے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان لوگوں کو پورا ملک جانتا ہے۔ 
پارلیمانی جمہوری نظام کو تقویت دینے کے لئے سب سے پہلی ضرورت ہے کہ الیکٹ ایبلز سے نجات کیسے حاصل کی جائے کیونکہ یہ الیکٹ ایبلز مخصوص افراد کے مفادات کو سہارا دے کر سارے انتخاب پر اثر انداز ہو جاتے ہیں اور بہترین پارلیمنٹیرین سامنے لانے کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ یہ وہ گنے چنے افراد ہیں جو ہر حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں کیونکہ بہت سے حلقوں میں ان کی مدد کے بغیر پارٹیوں کے لئے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ناممکن حد تک مشکل ہے۔ پاکستانی سماج صرف شہری اور دیہی میں منقسم نہیں ہے بلکہ قبائلی، فرقہ اور برادری کی بنیاد پر تقسیم بھی خاصی گہری ہے، یہ تقسیم سیاسی طاقت کا منبع ہے، سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں ان کے منشور کا کردار ثانوی ہوتا ہے جب کہ پارٹی لیڈر کی کرشماتی شخصیت اور اس جماعت میں انتخاب جیتنے والے الیکٹ ایبلز کی تعداد اس کی کامیابی کی ضامن ہوتی ہے جن کا تعین شہری حلقے میں برادری، فرقہ اور دیہی حلقے میں تھانہ، پٹواری معاملات کے حل میں اثر نفوذ کرتا ہے۔ سندھ میں برادری سسٹم کی جگہ لسانی شناخت یہ کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں فعال منشور کی تیاری کی بجائے اپنے پارٹی سربراہ کی شخصیت کو ماورائے فطرت پیش کرنے اور زیادہ سے زیادہ الیکٹ ایبلز کو جمع کرنے پر توجہ دیتی ہیں۔ الیکٹ ایبلز کے اپنے مفادات ہوتے ہیں جن کی خاطر وہ انتخابی عمل کا حصہ بنتے ہیں۔ اس لئے انہیں سیاسی نظریات اور پارٹی منشور سے کوئی غرض نہیں ہوتی انہیں یہ اعتماد ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں کامیابی ان کا مقدر ہو گی، اس عمل کو موقع پرستی سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ یہاں بعض سیاستدان اقتدار کے لئے ہوا کا رخ دیکھ کر اپنی وفاداریاں بدلتے ہیں۔ ہماری سیاسی قیادت ان الیکٹ ایبلز کو اپنی مجبوری کچھ یوں بیان کرتی ہے کہ ہم سیاست کرتے ہیں اقتدار حاصل کرنے کے لئے اگر اقتدار نہ ملے تو ہم اتنی جد و جہد کیوں کریں اور یہ الیکٹ ایبلز ایسی اشرافیہ ہے جو اپنے حلقوں میں بہت اثر رسوخ رکھتے ہیں اور ان کا ذاتی ووٹ بینک ہوتا ہے جو پارٹی کے ووٹ کے ساتھ شامل ہو کر انہیں منتخب کرا دیتا ہے، جنہیں نظر انداز کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے۔ حالیہ انتخابات سے قبل عمران خان نے جب ان الیکٹ ایبلز کو اپنی پارٹی میں شامل کیا تو ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ میں اقتدار میں آ کر قوم کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ انتخابات میں کامیابی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ الیکٹ ایبلز چونکہ کسی نظریے سے وابستہ نہیں ہوتے اس لئے انہیں اپنے مفادات سے آگے کچھ نظر نہیں آتا ہر جائز ناجائز کام کے لئے قیادت کو بلیک میل کرتے ہیں اگر قیادت ان کی یہ باتیں نہ مانے تو وہ فارورڈ بلاک ٹائپ چیز بنا لیتے ہیں، اس طرح پارٹی کے لئے مشکلات کھڑی ہونے کا خدشہ ہوتا ہے مجبوراً انہیں ان کی ہر ڈیمانڈ پر عمل کرنا پڑتا ہے۔سیاسی جماعتوں کو جب دوبارہ اقتدار ملتا ہے تو ان چھوڑ کے جانے والے لوگوں کی واپسی پر قیادت انہیں یہ کہہ کر خوش آمدید کہتی ہے کہ یہ تو ہمارے ہی لوگ تھے جنہیں یرغمال بنا لیا گیا تھا اور اب یہ اپنے گھر واپس لوٹ آئے ہیں۔ اس طرح یہ مراعات یافتہ استحصالی طبقے اقتدار کا حصہ بننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ افراد منتخب ہو کر اپنے کھیل میں مصروف ہو جاتے ہیں جب کہ اعلیٰ ترین مقاصد کے حصول اور سیاسی و اخلاقی ضابطوں کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ انہوں نے اپنے اپنے حلقۂ ہائے انتخابات کے رائے دہندگان سے کیا وعدے کئے تھے حالانکہ جمہوریت کے فروغ ، استحکامِ سیاست اور سیاستدانوں پر عوام کے اعتماد کا تقاضا یہ ہے کہ سیاستدان اپنے وعدوں اور عوامی مسائل کو ترجیح دیں۔ اس طرح جمہوریت کو روایتی سیاسی اور جماعتی کھیل کی نذر کر دیا جاتا ہے جو سیاسی بصیرت، دور اندیشی اور قومی مفادات کو ترجیح دینے کی نفی کرتا ہے۔ 


ای پیپر