اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول
13 ستمبر 2018 2018-09-13

مدینہ شہر اہل بیت کیلئے بے سکوں ہو چکا۔ امام حسینؓ اپنے بھائی عباس علمدار کو حکم دے چکے کہ محمل تیار کرو اونٹوں کو ایک قطار میں لگایا جا چکا۔دروازہ تھوڑا کھلا تھا اور گھر میں ایک شور و شین تھا سفر کی تیاری ہو رہی تھی رات کے 2پہر گزر چکے اور تیسرا پہر آنے کو تھا۔ امام حسینؓ دروازے سے اندر اپنی نانی کے کمرے میں داخل ہوئے اور کہنے لگے :اماں یزید حکمران ہوا مجھ جیسے کو عبث ہے کہ اُس جیسے کی بیعت کروں اور میں عازم سفر ہوں، اماں رات کا تیسرا پہر شروع ہوا چاہتا ہے محمل تیار ہیں آج رات ہی مجھے اس وعدہ کو پورا کرنے نکلنا ہے جس کا میں نے محمدؐ سے وعدہ کیا تھا، اماں میرے لئے دعا کرنا یہ سننا تھا کہُ ام سلمہؓ کے گرم گرم آنسوؤں سے امام حسینؓ کے ہاتھ معطرہو گئے گویا کہہ رہی ہوں ۔کاش !میرے بس میں ہوتا تو میں تیرا دامن پکڑ لیتی تجھے کبھی موت کے سفر پر نہ جانے دیتی ۔ماں تو پھر ماں ہوتی ہے کاش رسول اعظمؐ کا حکم نہ  
ہوتا تو میں تیری اس ہجرت کو روک دیتی، مستورات کو جانے سے روک دیتی ۔میں اپنے ہاتھوں سے تجھ جیسے لعل کو قبر کی طرف روانہ نہ کرتی۔ اب آپؓ نے لرزتے ہاتھوں سے امامؓ کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیااورکہنے لگیں بیٹا میری خواہش یہ ہے کہ جہاں دل چاہے چلا جا مگر دیکھ عراق کا سفر نہ کرنا کیوں جو میں نے تمہارے نانا سے بارہا سنا ہے کہ کربلا کی زمین تیرے خون سے تر ہو گی تیری لاش پامال ہو گی، اماں مجھے امت کی اصلاح اور دین کی نصرت کے لئے جانا ہو گا،یہ سب لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں وہ منظر تیرنے لگے کہ کس طرح رسول اعظمؐ نے مسجد میں اپنا خطبہ قطع کرکے گرتے ہوئے ننھے حسینؓ کو بانہوں میں اٹھایا گویا امت کو درس دے رہے ہوں کہ میرے حسینؓ کو اذیت مجھ کو اذیت دینا ہے ۔کس طرح عید کے روز اپنے کندھوں پر سوار کر کے اپنی زلفیں ننھے حسینؓ کے ہاتھوں میں دیکر اپنے اصحابؓ سے پوچھتے کہ دیکھو ذرا بتاؤ! کہ میری سواری کیسی ہے ؟ گویا امت کو درس دے رہے ہوں، دیکھو یہ مہرِ نبوت کے سوار کو تم بھی اپنے کندھوں پر سوار رکھنا ایسا نہ ہو میرے بعد یہ کبھی بھاگتے گھوڑے سے منہ کے بل زمین پر آئے کبھی 
ہل من ناصر کی صدائیں دیتا رہے، اسی طرح آپؐ بار بار فرماتے رہے، حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں مگر آج غربت کا یہ عالم کہ اپنی روتی ہوئی نانی جسے آپ اماں کہہ کر پکارتے تھے ۔ کو موت کی نشانی یہ کہہ کر دے رہے ہیں ، اماں یہ مٹی ہے یہ شیشی میں اپنے پاس رکھنا اور جب دیکھنا کہ اس مٹی کا رنگ سرخ ہو جائے سمجھ جانا کہ تیرا لال شہید ہو چکا، کیا کیا لکھوں ؟محرم کے ایام آنے کو ہیں اسلامی سال کے پہلے مہینے کا پہلا دن مسلمانوں نے اپنے گھروں میں مگر اہل بیت نے جنگلوں میں عازم سفر ہوتے گزارا ، ابھی 26 رجب کا دن ولید بن عتبہ کو یہ کہتے ہوئے گزرا کہ تو مجھ سے عوام الناس کے سامنے کھلے عام یزید کی بیعت کا تقاضا کر میں تجھے کھلے عام عوام الناس کے سامنے اِس کا جواب دوں گا گویا آنے والے مورخ کے لئے آسانیاں پیدا کر رہے تھے کہ ہر لکھنے والے کو خبر ہو کہ کس شدت سے سوالِ بیعت کیا گیا اور کتنی شدت سے اس کا انکار کیا گیا مسلمان حیران پریشان تھے۔ بھلا اس میں مسلمانوں کی خلافت کی خوبیاں کہاں ؟ بھلا شراب نوش بندروں سے کھیلنے والا کہاں اور ماضی کے خلافت کے درخشاں ستارے کہاں ؟ اسلام خود پریشان کھڑا دیکھ رہا تھا گویا کہہ رہا ہو !کوئی ہے؟ جو میری اس نام نہاد خلیفہ سے جان بخشی کروائے ایسے میں دین کے وارث اُٹھے اسلام کو تسلی دی ہوگی کہ گھبرا نہیں تو کوئی اتنا لا وارث نہیں ہوا کہ تیری پشت پر یزید جیسا سواری کرے ، نہیں یہ ممکن ہی نہیں ! گھبرا نہیں ۔ہم اپنے خون سے تیری آبیاری کریں گے ۔
اُمِ سلمہؓ نے آگے بڑھ کے امام حسینؓ کو گلے سے لگایا اور کہنے لگیں بیٹا مجھے بھی ساتھ لے چل میں بھی اس کارِ خیر میں شریک ہونا چاہتی ہوں تاریخ طبری کا مورخ لکھتا ہے کہ ایسے میں حسینؓ نے کہااماں یہ ممکن نہیں مگر میں ایک کام کرتا ہوں کہ آپ کو مدینہ سے کربلا کی وہ زمین دیکھاتاہوں جہاں ترا لعل ذبح ہو گا سر سجدے میں ہو گا شمر پشت پر سوار ہو گا بہنیں خیمے کے دروازے پر کھڑی دُہایاں دے رہی ہوں گی میری بیٹی کبھی ایک خیمے میں کبھی دوسرے خیمے میں کبھی تیسرے خیمے میں ہر کسی کی منتیں کر رہی ہو گی کہ کوئی چھڑاؤ میرے بابا کو ضربیں لگ رہیں ہیں کوئی بچاو جب 4سالہ سکینہ کا کوئی بس نہ چلے گا پھر وہ میرے قاتل کی منتیں کرے گی ۔ام سلمہؓ نے مدینہ سے کربلا کے وہ منظر دیکھے حسینؓ جو پہلے ہی ماں کے قدموں میں بیٹھے تھے مگر یہ کیا ہوا ؟ام المومنینؓ کو غش آگیا ضعیفہ بی بی برداشت نہ کر سکیں اور ستائیس رجب کی سیاہ ترین رات کے اس پہر نے یہ منظر بھی دیکھا کہ حسینؓ کی گود میں لاغر ماں گر چکی اور حسینؓ تسلیاں دے رہے ہیں اماں جاگ دیکھ یہ زینبؓ آگئی دیکھ ام کلثومؓ پانی لائی ہے دیکھ یہ ننھی سکینہ و صغری آپکے پاؤں دبا رہی ہیں اب اہل بیت کو سفر کی پریشانی بھول گئی اور سب اُم سلمہؓ کو جگانے میں مصروف ہیں ۔۔۔(جاری ہے )


ای پیپر