بارتھی کا سردار
13 ستمبر 2018 2018-09-13

سردار عثمان احمد خان بزدار کا وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونا اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے تمام سیاسی حلقوں کو اپنے اس فیصلے سے حیرت میں مبتلا کر دیا اورنہ صرف حیران کیا بلکہ ڈٹ کر ان کی حمایت کی۔ عمران خان نے دبے لفظوں میں یا سامنے آ کر مخالفت کرنے والوں، سبھی کو مطمئن کرنے کیلئے ڈٹ کر ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان بھی کیا۔ فیصلے پر ڈٹ جانا تحریک انصاف کے سربراہ کی سرشت میں شامل ہے۔ سیاست ہی نہیں، کرکٹ کے میدان میں بھی انہوں نے ڈٹ کر فیصلے کئے اور کامیابیاں سمیٹ کر ناقدین کے منہ بند کر دیئے۔ عمران خان نے میدان کرکٹ میں تو بہت سے لوگوں کو متعارف کرایا تھا۔ بہت سے کرکٹرز جن کے ٹیلنٹ کو پوری دنیا نے تسلیم کیا، عمران خان ہی کی مردم شناس نگاہوں کا انتخاب تھے۔ لیڈرشپ کیلئے ٹیم کا انتخاب کامیابی کا گویا پہلا زینہ ہے۔ وسیم اکرم، وقار یونس، انضمام الحق سمیت بہت سے کرکٹرز دنیا میں پاکستان کی پہچان بنے لیکن بہت کم لوگ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو متعارف کروانے والا عمران خان تھا جس نے اس ٹیلنٹ کو سامنے لا کر کرکٹ پر احسان کیا۔ 
کرکٹ کے بعد عمران خان نے میدان سیاست میں طبع آزمائی کا فیصلہ کیا تو انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑا لیکن ہمت نہ ہارنا اور جہد مسلسل ان کی شخصیت کا خاصا ہے۔2018 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے میدان مار لیا تو سب کی نظریں پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے نامزدگی کی منتظر تھیں۔ قیاس آرائیاں، پشین گوئیاں اور افواہیں بھی پھیلتی اور مٹتی رہیں۔ بہت سے ہیوی ویٹس کے نام یقین کے ساتھ پیش کئے 
جاتے رہے۔ ہر تجزیہ کار دور کی کوڑی لایا لیکن عمران خان خاموش تھے۔ بار بار استفسار پر انہوں نے صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ پنجاب کا وزیراعلیٰ نوجوان اور صاف شفاف شخصیت ہوگی۔ بہت سے نام زیر لب سرگوشیوں کی صورت میں گردش کرتے رہے لیکن کسی کے گمان میں بھی نہ تھا کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا منصب صوبہ کی آخری تحصیل کے آخری قصبے سے منتخب ہونے والے سادہ دل سردار عثمان احمد خان بزدار کے نصیب میں لکھا جا چکا ہے۔ عمران خان نے کرکٹ کی طرح میدان سیاست میں بھی نئے کھلاڑی متعارف کرانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ 
تونسہ کے بزدار قبیلے کے آباؤ اجداد قیام پاکستان سے قبل سیاست میں متحرک تھے۔ سردار عطا محمد بزدار کو تحریک پاکستان میں حصہ لینے اور قائداعظمؒ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔ سردار دوست محمد بزدار نے 1970 میں جماعت اسلامی کے پینل پر الیکشن لڑا۔ ان کے صاحبزادے سردار فتح محمد بزدار نے ضلع کونسل کی رکنیت کا الیکشن جیت کر عملی سیاست کا آغاز کیا۔ صدر ضیاء الحق کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ 1985 میں رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ 2002 اور 2008 میں ایم پی اے بنے۔ 2018 میں سردار فتح محمد بزدار نے عملی سیاست سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ہونہار بیٹے سردار عثمان احمد خان بزدار کو میدان میں اتارا اور کامیابی یوں ان کا مقدر بنی کہ چند ماہ میں انہوں نے سیاسی کیریئر کی وہ منزلیں طے کر لیں جس کیلئے تاجدار سیاست میں برسوں آبلہ پائی روایت ہے۔
سردار عثمان احمد خان بزدار نے گورنمنٹ کالج ملتان سے گریجوایشن، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹر اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ یونیورسٹی میں سردار احمد خان بزدار کے کلاس فیلو اور احباب انہیں سادگی پسند، صاف گو انسان کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ ان کی باوقار شخصیت دل موہ لیتی ہے۔ تصنوع اور ریاکاری سے دور رہتے ہیں۔ مہمان نوازی کی آخری حد تک جانا انہیں اچھا لگتا ہے۔ کاشتکاری اور وکالت کو بطور پیشہ اپنایا لیکن عملی سیاست کا آغاز 2001 میں بلدیاتی انتخابات میں تحصیل ناظم تونسہ منتخب ہو کر کیا۔ حلقے کے عوام نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے 2006 میں تحصیل ناظم کا منصب دوبارہ سونپ دیا۔ سردار عثمان بزدار ضلع کونسل ڈیرہ غازی خان کے رکن بھی رہے۔ حالیہ انتخابات میں کامیاب ہوئے تو منزل کامیابی کا یہ سفر 8 کلب روڈ کے ایوان وزیراعلیٰ پہنچ کر تھما۔ 
سیاسی روایات کے مطابق سردار عثمان خان کی شخصیت کو بھی الزامات سے داغدار کرنے کی کوشش کی گئی مگر 
بے بنیاد الزامات وقت کی گرد میں گم ہو گئے۔ نیت نیک اور دامن صاف ہو تو بدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے کے مصداق وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ بزدار قبیلہ ڈیرہ غازی خان میں آبادی کے لحاظ سے بڑے قبیلے میں شمار کیا جاتا ہے ۔تمن بزدار کے چیف سردار فتح محمد خان بزدار کے پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں لیکن سیاست میں اپنے آباؤاجداد کی روایت کو آگے بڑھانے کا اعزاز خصوصیت سے عثمان بزدار کے حصے میں آیا۔ بارتھی کی خشک پہاڑیوں میں بنیادی انسانی سہولتیں تو درکنار خود انسانوں کو پہنچنا بھی کاردشوار ہے۔بہت سے لوگوں کے لئے یہ بات ناقابل یقین ہوگی یا کم از کم حیرانگی کا سبب ضرور بن سکتی ہے کہ آج بھی اس علاقے میں کھیتی باڑی کیلئے ٹریکٹر کی بجائے بیل کو ہل میں جوتا جاتا ہے ۔اپنے لوگوں کی انہی محرومیوں کوحزرجاں بنائے سردار عثمان احمد خان بزدار نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے پہلی ملاقات میں وزارت کا منصب مانگنے کی بجائے ہسپتال کا مطالبہ کردیا۔وزیر،وزیرکی گردان سن کر عمران خان کیلئے ہسپتال کا مطالبہ انوکھا ہی نہیں حیران کن تھا ۔کہا جاتا ہے کہ یہی مطالبہ سردار عثمان خان بزدار کی وزارت اعلی کے منصب کیلئے نامزدگی کا سبب بنا۔
سردار عثمان خان بزدارنے ماضی کی روایات کے برعکس ایوان وزیراعلیٰ کے دروازے کھول دےئے۔کسی بھی رکن اسمبلی کو ملاقات کیلئے خاص تردد نہیں کرناپڑتا۔انہوں نے خود کو عمران خان کا سپاہی قراردیتے ہوئے 100روزہ پلان پر عمل در آمد کیلئے کمر کس لی ہے ۔وقت کم اورمقابلہ سخت ہے لیکن عثمان بزدار پرعزم بھی ہیں اورپرامید بھی ۔


ای پیپر