ڈیمز کی تعمیر۔۔۔یہ کام عمران کر سکتا ہے
13 ستمبر 2018 2018-09-13

وطن عزیز گوناں گوں مسائل اور بحرانوں کے بھنور میں ہچکولے کھا رہا ہے اور اپنی بقاء کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے ۔ سب سے سنگین آبی بحران ہے یہ بحران کیوں، کیسے پیدا ہوئے ان کو سمجھنے اور بحرانوں سے یہ بحران کیوں ، کیسے پیدا ہوئے ان کو سمجھنے اور بحرانوں سے نکلنے کے لیے ایک جاسوس کا قصہ رقم کر رہا ہوں۔ روس کی فوج میں امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ بھرتی ہوا (جب روس خفیہ ایجنسی KGB کی پتہ چلا تب تک وہ) ترقی کرتے کرتے بریگیڈیئر بن گیا تھا۔ تمام تر کوششوں کے KGB بریگیڈیئر کو رنگے ہاتھوں پکڑنے میں ناکام رہی۔ بریگیڈیئر کو ریٹائرڈ کر دیا گیا۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد وزٹ ویزہ پر یورپ چلا گیا وہاں سے امریکہ جا کر nationality حاصل کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد KGB کے ریٹائرڈ Director ڈائریکٹر کے ساتھ چیکو سلواکیہ میں بریگیڈیئر کی ملاقات ہوتی ہے ۔ گپ شپ کرتے ہوئے ڈائریکٹر نے بریگیڈیئر سے سوال کیا کہ KGB کو یہ معلوم تھا کہ آپ سی آئی اے کی پے رول پر ہیں لیکن رنگے ہاتھوں پکڑنے میں ناکام رہی۔ آخر آپ انفارمیشن سپلائی کرتے تھے۔ بریگیڈیئر 
نے جواب دیا یار کچھ نہیں بس خفیہ ایجنسی والوں کو شک و شبہ کی عادت ہوتی ہے آخر کار بریگیڈیئر نے مجبور ہو کر بتایا کہ میرا صرف یہ کام تھا کہ فوج میں نالائق اور بدیانت لوگوں کو پروموٹ کرنا اور لائق مخلص اور دیانتدار لوگوں کو کھڈے لائن لگانا۔ پاکستان 1947ء تا 1969ء تک ہر شعبہ ہائے زندگی میں ترقی کی منازل طے کرتا رہا۔ پھر پاکستان دشمن لابی نے منسٹریز آف واٹر اینڈ پاور، پلاننگ اور تعلیم میں ایسے پالیسی ساز بٹھائے جنہوں نے وطن عزیز کی نظریاتی ، جغرافیاتی سرحدوں کو نقصان پہنچانے کے لیے معیشت اور تعلیم پر زہر آلودخنجر سے ایسی ضربیں لگائیں کہ پاکستان میں پانی کی قلت ملکی کے لیے خطرہ کی گھنٹی بجا رہی ہے ۔ استحکام پاکستان داأ پر لگا ہوا ہے ۔ پاکستان دنیا کے آبی وسائل کی شدید قلت کے شکار 15 ممالک میں شامل ہے اور پانی کے استعمال کے حوالے سے پاکستان کا چوتھا نمبر ہے پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف 30 دنوں کی ہے جبکہ بین الاقوامی سٹینڈرڈ کے مطابق کی بھی ملک کی مجموعی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کم از کم 120 دن کا پانی ذخیرہ ہونا چاہیے سادہ زبان میں بات کی جائے تو پاکستان اپنے دستیاب آبی وسائل کا صرف 7 فیصد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ عالمی سطح پر یہ تناسب 40 فیصد ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی دنیا میں سب سے کم ہے ۔ پاکستان اپنے دسیتاب پانی کو ذخیرہ نہ کر کے سالانہ تقریباً 32 ارب ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے ۔ سابقہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا تھا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو پانی سب سے زیادہ ضائع کر رہاہے۔ 
چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے بولڈ قدم اٹھایا اس کی تعمیر کے لیے فنڈ قائم کیا اور عوام سے بالخصوص مخیر حضرات سے اپیل کی کہ ڈیم کی تعمیر کے لیے دل کھول کر چندہ جمع کرائیں۔ اب تک تقریباً 2 ارب روپے جمع ہو چکے ہیں۔ ڈیمز کی تعمیر میں میاں ثاقب نثار کے عزم صمیم8 کو دیکھ کر وزیراعظم پاکستان عمران خان سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے 7 ستمبر 2018ء کو ملک میں ڈیموں کی تعمیر کے لیے قوم اور دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں سے مدد مانگتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی 1000 ڈالر فی کس ڈیم فنڈ میں جمع کرائیں کیونکہ ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے ڈیمز نہ بنے تو 2025ء میں قوم بوند بوند پانی کو ترسے گی۔ CPEC منصوبہ پاکستان کی معیشت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ بات انتہائی قابل توجہ ہے کہ ٹول ٹیکس سے پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کو وقتی سہارا مل سکتا ہے لیکن پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے اور مضبوط معیشت کی خاطر CPEC کے ساتھ مجوزہ اسٹریل زونز اور دیگر اسٹریل زونز کو مفت بجلی فراہم کی جائے اور ٹیکس فری زونز ڈیکلر کیے جائیں تا کہ سرمایہ کار خوشی سے سرمایہ کاری کریں۔ اس پر سپیشل کالم لکھوں گا۔ بات ہو رہی تھی کہ ڈیمز کے لیے فنڈز کہاں سے آئیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک نے دیامیر بھاشا اور داسو ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈز دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن امریکہ اور بھارتی دباؤ کی وجہ سے یہ دونوں بینک فنڈز مہیا کرنے سے گریزاں ہیں۔ بھارت اچھی جانتا ہے کہ فوجی طاقت سے پاکستان کمزور یا ختم نہیں کیا جا سکتا چنانچہ بھارت آبی جارحیت کے ذریعے پاکستان کو بنجر بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے تا کہ 2025ء کے بعد پاکستان خود بخود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے اور پوری قوم غفلت کی نیند سو رہی ہے چونکہ قیام پاکستان مشیت ایزی ہے یہ تاقیامت سلامت رہے گا اور دشمن ذلیل و رسوا ہو گا۔ عمران خان کی اپیل کے نتیجے میں مختلف ایم این اے اور ایم پی ایز ایک ایک ماہ کی تنخواہ ڈیمز فنڈز میں جمع کرا کر حاتم طائی کی روح کو شرمندہ کر رہے ہیں راقم کو یقین واثق کہ وزیراعظم عمران خان ایسی شخصیت کے مالک ہیں کہ وہ یہ انقلابی کام کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے PTI کے تمام ممبران کا اعلان فرمائیں کہ یہ پانچ سال تنخواہ نہیں لیں گے ان کی تنخواہیں ڈیمز فنڈ میں جمع ہوں جبکہ دیگر جماعتوں کے قائدین بالخصوص شہباز شریف سے درخواست ہے کہ وبھی اپنی جماعت کی طرف سے اعلان کریں۔ تمام سینئرز حضرات بھی وفائے وطن وفائے وطن اور خیر سگالی کے 
جذبہ کے تحت 5 سال کی تنخواہیں ڈیمز فنڈز میں جمع کرائیں کیونکہ تمام ممبران کروڑ پتی اور ارب پتی ہیں۔ پارٹی ٹکٹ کے لیے کروڑوں خرچ کر سکتے ہیں تو بقاء پاکستان کے لیے کیوں نہیں لیکن یہ کام عمران کرا سکتا ہے ۔ پاکستان میں عجب نا انصافی اور ظلم کا راج ہے کہ درجہ چہارم کا ملازم یوٹیلٹی بلز جیب سے جمع کرائے جبکہ وزیر ، مشیر ، ججز، جرنلز اور بیورو کریٹس کے یوٹیلٹی بلز حکومتی خزانے سے جمع ہوں۔ یہ یوٹیلٹی بلز اب اشرافیہ جیب سے جمع کرائے اور بجٹ میں مختص رقم کو ڈیمز فنڈز میں جمع کرایا جائے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک دفعہ قرضہ معافی کیس میں سماعت کے دوران ریمارکس دیئے تھے کہ 54 ارب روپے وصول کر کے ڈیمز بنائیں۔ چیف صاحب سے درخواست ہے کہ 54 ارب رپوے 5 یا 10 فیصد جرمانہ لگا کر پیسے وصول کیے جائیں اور بینکنگ کورٹس کو ٹائم فریم کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند کریں۔ 
ڈیمز کی تعمیر میاں ثاقب نثار یا عمران خان کی ذاتی پراپرٹی نہیں بلکہ بقاء پاکستان کی جنگ ہے اس جنگ میں تمام سیاسی جماعتوں سرمایہ کاروں اور عوام کو شامل ہو کر دشمن کو بتا دیں کہ سیاسی اختلاف معمولی بات ہے دفاع پاکستان اور بقاء پاکستان کے لیے ہم سب ایک ہیں۔


ای پیپر