Source : Yahoo

ڈیم فنڈ اکاﺅنٹ کے نام پر فراڈ پکڑا گیا
13 ستمبر 2018 (22:05) 2018-09-13

لاہور:وزیراعظم عمران خان کی اپیل کے بعد ڈیمز فنڈ میں پوری دنیا میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے عطیات جمع کرائے جا رہے ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے تاہم لاہور کا رہائشی ایک شخص جب ڈیمز فنڈ میں رقم جمع کرانے گیا تو ایسا ہوشربا انکشاف ہو گیا کہ چیف جسٹس تو کیا وزیراعظم بھی شدید برہم ہو جائیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے   مطابق یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) کی لاہور میں واقع ایک برانچ کا ملازم ڈیمز فنڈ میں جمع کرائی جانے والی رقم نامعلوم اکا?نٹ میں منتقل کرتا ہوا پکڑا گیا ۔ متاثرہ شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ جب وہ رقم جمع کرانے گیا تو ڈیپوزٹ فارم بھرا گیا اور پھر رقم جمع کرائی گئی جس کے بعد ڈیوٹی پر موجود کیشئر نے ڈیپوزٹ فارم پر دستخط کئے اور مہر لگائی اور زبانی ہی بتا دیا کہ آپ کی رقم ڈیمز فنڈ میں منتقل ہو گئی ہے۔

رقم کی منتقلی کے حوالے سے تذبذب کے شکار شہری نے یہ جاننے کیلئے کہ آیا اس کی رقم واقعی صحیح اکا?نٹ میں منتقل کی گئی ہے یا نہیں، نے ثبوت کے طور پر کیشئر سے ڈیپوزٹ سلپ مانگی تو اس نے سلپ دینے سے صاف انکار کر دیا اور یہی کہتا رہا کہ اس کی رقم ڈیمز فنڈ میں منتقل ہو گئی ہے۔

شہری اس تمام صورتحال سے بددل ہو کر چلا گیا لیکن پھر صورتحال کو مزید جانچنے کیلئے دوسری برانچ سے مزید 500 روپے فنڈ میں دینے کا فیصلہ کیا۔ وہ اسی بینک کی ایک اور برانچ پر گیا اور رقم جمع کروائی تو کیشئر نے حیران کن طور پر اسے ڈیپوزٹ سلپ فراہم کر دی جس پر ڈیمز فنڈ کیلئے اکا? نٹ نمبر اور رقم کی منتقلی کی تفصیلات بھی درج تھیں۔

مذکورہ برانچ منیجر سے جب اس حوالے سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے تصدیق کی کہ اگر کوئی کسٹمر اصرار کرے تو اسے ڈیپوزٹ سلپ فراہم کرنا لازمی ہے اور جب اسے پہلی پرانچ کے کیشئر کے روئیے سے متعلق بتایا تو انہوں نے بھی اس کے روئیے پر شک کا اظہار کیا۔

اس سب کے بعد متاثرہ شخص اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ دوبارہ پہلی برانچ پر پہنچ گیا اور آپریشن منیجر کو ساری صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے جواب طلب کیا جس پر اس نے ڈیمز فنڈ کیلئے جمع کرائی جانے والی رقم نامعلوم اکا?نٹ میں منتقل ہونے کا اعتراف تو کر لیا مگر ساتھ ہی اسے ’غلطی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مذکورہ اکا?نٹ سے رقم واپس حاصل کر کے ڈیمز فنڈ کیلئے مخصوص اکا? نٹ میں منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اگر آپ کو بھی اس طرح کے کسی معاملے کا سامنا کرنا پڑے تو فوراً بینک کے منیجر سے رابطہ کر کے شکایت درج کروائیں اور اگر پھر بھی تسلی نہ ہو تو پھر ای میل کے ذریعے سٹیٹ بینک سے بھی شکایت کی جا سکتی ہے۔


ای پیپر