Source : Yahoo

پنجاب حکومت نے بھی 54 لگژری گاڑیاں نیلام کرنے کا فیصلہ کر لیا
13 ستمبر 2018 (19:40) 2018-09-13

لاہور : وزیراعظم عمران خان کے سادگی کے وژن کی پیروی کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے بھی اپنی 54 لگژری گاڑیاں نیلام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نیلامی کے لیے پیش کی جانے والی گاڑیوں میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے زیر استعمال رہنے والی 2 بلٹ پروف اور2 لگژری گاڑیوں بھی شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے گاڑیوں کی نیلامی کے لیے قومی اخبارات میں جلد اشتہار بھی دیا جائے گا جبکہ عدالت کے حکم پر پنجاب کی پبلک سیکٹر کمپنیوں سے واپس لی گئی 42 نئی لگژری گاڑیوں سے متعلق فیصلے کے لیے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر جیسے ہی وزیر اعظم کے دفتر کے زیر استعمال رہنے والی 102 بلٹ پروف، لگڑری اور عام گاڑیوں کی سرعام نیلامی کا اشتہار آیا تو ایوان وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی اس پالیسی پر عمل درآمد کے لیے کام شروع کردیا تھا۔

ایوان وزیر اعلیٰ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور ان کے سٹاف کے زیر استعمال رہنے والی 54 گاڑیوں، جن میں 2 بلٹ پروف اور 2 لگڑری شامل ہیں، کو نیلام کرنے کی فہرست تیار کرلی گئی ہے۔ان گاڑیوں کی بنیادی قیمت کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے۔ ایوان وزیر اعلیٰ میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ 150 افسر کام کرتے تھے جن کے استعمال میں یہ گاڑیاں تھیں لیکن نگران حکومت نے ان افسروں کا تبادلہ سول سیکرٹریٹ کردیا تھا اور گاڑیاں پول میں کھڑی ہوگئیں اور اب ان میں سے کچھ خراب ہونے کی وجہ سے آف روڈ ہوچکی ہیں۔

جس کے بعد اب پنجاب حکومت نے عمران خان کے وڑن کے مطابق حکومتی امور میں سادگی اپنانے کی پالیسی کے تحت ان گاڑیوں کو نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تمام گاڑیاں سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کو بھجو ائی جارہی ہیں جو ان گاڑیوں کا مالک ہے تاکہ ضروری کارروائی مکمل کرکے ان کی نیلامی کا اشتہار دیا جا سکے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نیلامی کے لیے پیش کی جانے والی یہ گاڑیاں عوام کے لیے سول سیکرٹریٹ سے ملحقہ بابا گراونڈ میں معائنہ کے لیے کھڑی کردی جائیں گی۔

ایس اینڈ جی اے ڈی کے ایک سینئر افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ سابق چیف سیکرٹری اور صوبائی سیکرٹریز کے زیر استعمال رہنے والی 50 گاڑیاں جو 2005  سے قبل خریدی گئی تھیں بھی نیلام کی جارہی ہیں۔یہ گاڑیاں مختلف افسران سے نئی حکومت آنے کے بعد سادگی مہم کے تحت واپس آئی ہیں جبکہ ان میں سے چند معمولی خراب ہیں۔ پنجاب میں اضافی سرکاری لگڑری گاڑیوں کی نیلامی سے صوبائی خزانہ کو کروڑوں کے فنڈز حاصل ہوں گے۔

پبلک سیکٹر کمپنیوں سے واپس آنے والی 42 لگڑری گاڑیوں کی نیلامی کے بارے میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جو گاڑیوں کو جلد نیلام کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں اپنی سفارشات دے گی جس پر کابینہ فیصلہ کرے گی۔ان گاڑیوں کو سیکرٹریٹ میں ایک بیسمنٹ میں پارک کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے وزیراعظم ہاوس کی اضافی گاڑیاں فوری نیلام کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت مجموعی طور پر33 گاڑیاں نیلام کرنے کے لیے اشتہار 31 اگست کو جاری کیا گیا۔ ان گاڑیوں میں 8 جدید لگڑری بی ایم ڈبلیو،4 جدید مرسیڈیز بینز بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ وزیراعظم نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت اضافی گاڑیوں کی نیلامی کا حکم دیا تھا۔


ای پیپر