Source : Yahoo

تنخواہ دار طبقے پر کوئی ٹیکس نہیں بڑھایا جا رہا :فواد چوہدری
13 ستمبر 2018 (19:08) 2018-09-13

اسلام آباد :وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات نے کہا ہے کہ کابینہ نے وزارت کیڈ کو ختم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے سی ڈی اے کو وزارت داخلہ کے ماتحت کردیا ہے ، تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ نہیں ہوا،کمزور طبقات کا ساتھ دینا ہمارا فرض ہے،گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔

پی ٹی وی کے بورڈ آف گورنرز کی منظوری دیدی گئی ہے،جس کا چیئرمین وزیر ہوگا، میٹروپراجیکٹس پر آنیوالی لاگت کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے، تین میٹرو منصوبوں پر پنجاب حکومت 8 ارب روپے سبسڈی دے رہی ہے ، سبسڈی ختم کرنے پر پراجیکٹ آج ہی بند ہو جائینگے، اورنج لائن ٹرین پراجیکٹ 250ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اس خرچے میں خیبر سے کراچی کا ریلوے ٹریک ڈبل ہوسکتا تھاجبکہ پراجیکٹ کیلئے حکومت کو 3.5ارب روپے سبسڈی دینی پڑیگی،سابق حکومت کی جانب سے گرمیوں میں یوریا کھاد کے پلانٹ کو گیس کی سپلائی روکنے سے پیدوار میں کمی ہوئی ہے، اب ربیع کی فصل کےلئے ایک لاکھ ٹن یوریا کھاد برآمد کرنی پڑےگی۔

ملک میں ہسپتالوں کی حالت بہت خراب ہے ،پاکستان قرضوں پر سود کی مد میں روزانہ 500ارب روپے ادا کر رہا ہے،وزیراعظم آفس کے ہیلی کاپٹرز ایئر ایمبولینس کیلئے این ڈی ایم اے کو فراہم کیے جا سکتے ہیں،ڈیمز فنڈز کی رقم انکم ٹیکس ودہولڈنگ سے مستثنیٰ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جمعرات کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 9 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ نے کیڈ ڈویژن کو ختم کرنے ،وفاق میں صحت سے متعلقہ امور وزارت نیشنل ہیلتھ سروسزکے ماتحت کرنے اور ملکی اداروں میں ریگولیٹری نظام کی کارگردگی بڑھانے کےلئے ٹاسک فورس کے قیام کی منظوری دیدی ہے۔

کابینہ نے اورنج ٹرین سمیت گزشتہ حکومت کے تمام ماس ٹرانزٹ منصوبوں کا خصوصی آڈٹ کرانے کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت راولپنڈی، لاہور، ملتان اور پشاور میٹرو بس منصوبوں کا عالمی معیارکی آڈٹ فرم سے خصوصی آڈٹ کرایا جائےگا۔کابینہ نے بیرون ملک سرمایہ اور اثاثہ جات کی واپسی کےلئے ریکوری یونٹ کے قیام کی بھی منظوری دی ہے ،ریکوری یونٹ احتساب کے حوالے سے ٹاسک فورس کی معاونت کرے گا۔کابینہ نے پاکستان نیوی ایکٹ 1961ءمیں ترمیم اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس میں ترمیم کی بھی منظوری دی ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات چودھری فواد حسین نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی اہلیہ اور سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کیلئے دعائے مغفرت کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے وزارت کیڈ کو ختم کی منظوری کابینہ نے دےدی ہے جب کہ سی ڈی اے کو وزارت داخلہ کے ماتحت کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے وزارت صحت اور دیگرشعبے متعلقہ وزارتوں کے سپرد کئے جائینگے۔انہوں نے بتایا کہ پہلی بار وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے اور وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی اس آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے نے چند دنوں میں 7.5 ارب روپے کی ہزاروں کینال زمین واگزار کرائی ہے ،سی ڈی اے کے آپریشن کو جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 34 ہزار 459کنال زمین کی نشاندہی ہوئی جسے کمرشل استعمال میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ جہاں پر بھی تجاوزات ہونگی،چاہے وہ طاقتور ہو یا عام آدمی، غیر قانونی قبضہ ختم کرائیں گے ،پہلے مرحلے میں زمین واگزار اور دوسرے مرحلے میں سی ڈی اے کے ذمہ دارافسران کےخلاف ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پاکستان ٹیلی وژن کے بورڈ آف گورنرز کی منظوری دی گئی ،پی ٹی وی بورڈ آف گورنر ز کا چیئرمین وزیر ہو گا،سیکرٹری اطلاعات بورڈ کے وائس چیئرمین ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد خان کو ایم ڈی پی ٹی وی کیلئے نامزد کیا جا سکتا ہے۔چودھری فواد حسین نے بتایا کہ ہارون شریف سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس کی سفارشات کو کابینہ نے مسترد نہیں کیا ہے، انکم ٹیس آرڈیننس ترمیم کےلئے پارلیمنٹ میں بھیجا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس شرح میں کوئی ردوبدل نہیں کیا جا رہا ،گیس کی قیمتوں اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، ان میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا۔انہوں نے کہا کہ کمزور طبقات کا ساتھ دینا ہمارا فرض ہے۔انہوں نے کہا کہ میٹروپراجیکٹس پر آنیوالی لاگت کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میٹروبس منصوبہ 45ارب روپے میں بنا ہے،اس سے کرائے کی مد میں 66کروڑ روپے سالانہ وصول ہوتے ہیں ہے جبکہ حکومت پنجاب راولپنڈی میٹرو کےلئے سالانہ 2ارب روپے کی سبسڈی دیتی ہے ،ملتان میٹرو بس منصوبہ 29ارب روپے میں مکمل کیا گیا،ملتان میٹرو کا مکمل کرایہ 5کروڑ روپے ہے اور مکمل سبسڈی2.1ارب روپے ہے جبکہ لاہور میٹرو منصوبے کیلئے پنجاب حکومت 4.2 ارب روپے سبسڈی دیتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ تین میٹرو بس منصوبوں بشمول راولپنڈی/اسلام آباد،لاہور اور ملتان کو ملاکر پنجاب حکومت 8 ارب روپے سبسڈی دے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ابھی اندازہ نہیں کہ کتنے عرصے تک پنجاب حکومت اتنی کثیر رقم ادا کر سکے گی تاہم اگر حکومت کی جانب سے یہ سبسڈی نہیں دی گئی تو پراجیکٹ آج ہی بند ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس کے مقابلے میں پشاور میں ابھی اسی نوعیت کا ٹرانسپورٹ سسٹم بنایا جارہا ہے جس کی لاگت 67ارب روپے ہے اس وقت تک 41ارب خرچ ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہورمیٹرو کی بسیں کرائے پرہیں جبکہ پشاور میٹرو بس سبسڈی کی بجائے 10 ارب روپے لاگت سے اپنی بسیں خریدے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ترقی یافتہ ممالک پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سبسڈی دیتے ہیں لیکن وہ مخصوص علاقہ اور حد تک ہوتی ہے یہ نہیں ہوتا کہ پورے ملک سے اکٹھا ہونے والا ٹیکس کا پیسہ ایک ہی جگہ پر لگا دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اورنج لائن ٹرین پراجیکٹ 250ارب روپے تک پہنچ چکا ہے ،اس خرچے میں خیبر سے کراچی کا ریلوے ٹریک ڈبل ہوسکتا تھالیکن جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا گیا ،ابھی اورنج ٹرین کی سبسڈی کا اندازہ نہیں ہے، وہ منصوبہ مکمل ہوجائے گا تو 3.5ارب روپے کی مزید سبسڈی پنجاب حکومت کو دینے پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے یوریا کھاد کے معاملے کا جائزہ لیا ہے، پاکستان میں یوریا کھاد کی جتنی ضرورت ہے اتنی پیداوار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے جان بوجھ کر گرمیوں میں کھاد کے پلانٹس کو گیس روک دی تھی جس کے نتیجے میں کھاد کی پیداوار کم ہوئی اور دوسری جانب تیار ہونے والی کھاد کی برآمد کی اجازت بھی دیدی گئی، اس ساری صورتحال کے باعث اب پاکستان میں آنے والی ربیع کی فصل کےلئے کھاد کی پیداوار کم ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے ایک لاکھ میٹرک ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،یوریا کھاد درآمد کرنے پر 34سے 35ملین ڈالر اضافی قیمت ادا کرنا پڑے گی اور اضافی قیمت حکومت خود برداشت کرتے ہوئے کسانوں کو سبسڈی دے گی ۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں گیس کی کمی پوری کرنے کیلئے 15 نومبر تک اپنے پلانٹس کو مکمل گیس دینے کافیصلہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک سے رقم واپس لانے کےلئے خصوصی یونٹ بین الاقوامی فارنزک ماہرین کی خدمات لے گا۔ڈیم فنڈز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ڈیمز فنڈ کےلئے چیف جسٹس کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ڈیمز فنڈ کی رقم کو انکم ٹیکس ودہولڈنگ سے مستثنیٰ قرار دینے کیلئے قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان قرضوں پر سود کی مد میں روزانہ 500ارب روپے ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5سال میں وزیراعظم آفس نے 2.3ارب روپے خرچ کئے ، وزیراعلی آفس میں 2.9 ارب روپے خرچ کئے گئے ،گورنر پنجاب نے ایک 1.29 ارب روپے خرچ کئے جبکہ گورنر سندھ نے 5سال کے دوران 1.4ارب روپے خرچ کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دوسری جانب پنڈ دادنخان جیسے ضلع میں پانی نہیں ہے اس کے لئے 35سے 40کروڑ درکار ہیں اور باقی اضلاع میں ہسپتال ،بنیادی مراکز صحت اور سہولیات بھی نہیں ہیں۔ فواد چودھری نے کہا کہ اگرایک ایک آدمی پر اتنے پیسے خرچ کریں گے تو معاملات کیسے آگے چلیں گے اس مقصد کےلئے وزیراعظم عمران خان نے کفایت شعاری مہم شروع کی ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں چودھری فواد حسین نے کہا کہ تین روز قبل پی بی اے کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ ہمیں بتایا جائے کہ حکومت کیسے مدد کر سکتی ہے ؟،تنخواہیں بروقت دی جائیں اور لوگوں کو روزگار سے فارغ نہ کیا جائے ،اپنے مسائل حکومت کو بتائے جائیں ،ہم صحافتی تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ کمزور کے ساتھ کھڑی ہو چاہئے وہ مزدور، صحافی ،کسان جو بھی طبقہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا ۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم ہاﺅس کی گاڑیوں کی نیلامی 17ستمبر کو ہوگی ،(کل) ہفتہ کو ان گاڑیوں کی انسپکشن ہوسکے گی ،ہیلی کاپٹرز کی نیلامی کا فیصلہ نہیں ہوا ہے ممکن ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر ایئر ایمبولینس کےلئے این ڈی ایم اے کو دیدیئے جائیں ۔


ای پیپر