Source : Yahoo

ولدیت میں پاکستان لکھنے کامنفرد کیس
13 ستمبر 2018 (17:39) 2018-09-13

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے والد کے چھوڑ جانے پر لڑکی کی ولدیت میں پاکستان لکھنے کے معاملے پر نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)سے 10 روز میں تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کو والد کا مالی ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سرکاری دستاویز سے لڑکی کے والد کا نام ہٹا کر پاکستان لکھنے سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران درخواست گزار لڑکی تطہیر فاطمہ، ان کی والدہ فہمیدہ بٹ اور والد محمد شاہد ایوب، نادرہ ڈائریکٹر و دیگر عدالت پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے لڑکی کے والد سے استفسار کیا کہ اتنے سال آپ نے اپنی بیٹی سے کیوں رابطہ نہیں کیا، یہ لڑکی اپنے نام سے آپ کا نام ہٹانا چاہتی ہے، یہ کہہ رہی ہے کہ میرا نام تطہیر فاطمہ بنت پاکستان کریں، پاکستان ہماری ماں اور باپ بھی ہے۔اس پر لڑکی کے والد نے بتایا کہ یہ میری بیٹی ہے، میں نے اس سے ملنے کی بہت کوششیں کیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کوششیں کیں، ہمیں تو کچھ نظر نہیں آرہا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کیسے والد ہیں، لڑکی کو چھوڑ کر چلے گئے، جس پر والد نے کہا کہ میں نے نہیں چھوڑا، مجھے تو لڑکی کی ماں ملنے ہی نہیں دیتی تھی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ لڑکی سے آخری بار کب ملے تھے، جس پر والد نے بتایا کہ 2002 میں آخری بار ملا تھا، اس کے بعد ملنے نہیں دیا گیا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 16 سال سے آپ بیٹی سے نہیں ملے، آپ کو شرم آنی چاہیئے، ہم خود دیکھیں گے کہ کس طرح لڑکی کے نقصان کا مداوا کیا جائے۔دوران سماعت عدالت میں موجود تطہیر فاطمہ کا کہنا تھا کہ میں جب میٹرک میں تھی تو اس وقت کچھ دستاویزات کی ضرورت پڑی لیکن مجھے میرے والد نے کہا کہ دستاویز تب دوں گا، جب قریبی تھانے میں لکھ کر دو گی کہ تمہاری والدہ بدکردار عورت ہے اور میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔

لڑکی کے بیان پر چیف جسٹس نے والد کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ نے اس لڑکی کے کئی سال ضائع کردیے، آپ کو اس کا مداوا کرنا پڑے گا، چاہے چوری کرو یا ڈاکہ ڈالو لیکن تمام گزرے برسوں کا خرچ آپ سے لیا جائے گا۔اس پر لڑکی کے والد کا کہنا تھا کہ میں غریب آدمی ہوں خرچ کہاں سے دوں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ غریب ہو تو جیل چلے جا، سول مقدمات کا سامنا کرو۔عدالت میں تطہیر نے مزید بتایا کہ جو بچے والدین کے ستائے ہوئے ہیں، ان کو حق ہونا چاہیے کہ جو اس کی کفالت کرے اسی کا نام اس کو لکھنے دیں۔

تطہیر فاطمہ نے کہا کہ میری ماں نے بہت مشکلات سے مجھ کو پالا، لہذا میرے والد کا نام تمام سرکاری دستاویز سے ہٹایا جائے۔اس دوران تطہیر فاطمہ کی والدہ نے کہا کہ صرف پیسے ہی کفالت نہیں ہوتے، والد کا نام ہٹ جائے گا تو لڑکی کو اطمینان ہوگا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ شریعت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ بیٹی کے نام کے ساتھ والد کا نام ہٹایا جائے۔بعد ازاں عدالت نے مخدوم علی خان کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے 10 دن میں نادرا کو تمام ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔


ای پیپر