پولیس افسروں کے تبادلے!
13 ستمبر 2018 2018-09-13

گزشتہ ہفتے تین صوبوں کے آئی جی پولیس تبدیل کردیئے گئے ہیں، ہمارے ایک صحافی بھائی امداد حسین بھٹی کی شائع ہونے والی ایک مفصل رپورٹ کے مطابق تینوں صوبوں میں جونیئر افسران کو بطور آئی جی تعینات کردیا گیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب حکومت خود رولز کی خلاف ورزی کرے گی عام لوگوں کو یہ سبق کیسے سکھائے گی وہ قواعدوضوابط کی پابندی کریں ؟۔ جن جونیئر افسران کو تعینات کیا جاتا ہے ان کے بقول سرکار کے احکامات کی انہیں تعمیل کرنا پڑتی ہے۔ اتنا باضمیر یااصول پسند کوئی افسر کم ازکم میری نظروں سے تو نہیں گزرا جو سرکار کی خدمت میں عرض کرے” مجھ پر اعتماد کا شکریہ مگر گریڈ کے لحاظ سے میں اس عہدے کا اہل نہیں ہوں“ ....بڑے بڑے ”ایماندار افسران“ یہ کہنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ البتہ یہ اختیار حکومت کا ہوتا ہے کہ کس عہدے پر کسے تعینات کرنا ہے .... کسی افسر کوکس اہم عہدے پر تعینات کرنے سے پہلے مختلف سرکاری ایجنسیوں سے اس کی ”خفیہ رپورٹیں“ حاصل کی جاتی ہیں۔ سننے میں آیا ہے اکثر خفیہ رپورٹیں جس افسر کے بارے میں ہوتی ہیں وہ خود لکھتا ہے، اصل میں یہ محض ایک خانہ پُری ہوتی ہے، جسے سرکار تعینات نہیں کرنا چاہتی اس کی اچھی رپورٹ بھی مسترد کردی جاتی ہے۔ اور جسے تعینات کرنا چاہتی ہے اس کی بُری رپورٹ بھی نظرانداز کردی جاتی ہے۔ خصوصاً آئی بی اور سپیشل برانچ کی رپورٹوں کا تو کوئی معیار ہی نہیں رہا۔ حال ہی میں پنجاب پولیس کے ایک ”مسٹر جے سوریا“ کو آئی بی میں تعینات کیا گیا ہے، اس کی فطرت صرف اور صرف دوسروں کو نقصان پہنچا کر انجوائے کرنے کی ہے۔ ایک دواور منفی ذہنیت کے حامل پولیس افسران کو بھی اس ادارے کے سپرد کرکے اس ادارے کو ”سپردخاک“ کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے، ان کے رنگ کی طرح کرتوت بھی ان کے سیاہ کالے ہیں، اس کے بعد اس ادارے (آئی بی ) کی خفیہ رپورٹوں کی تھوڑی بہت جوساکھ رہ گئی ہے وہ بھی شاید راکھ میں مل جائے، .... ان اداروں کی رپورٹس کا کوئی معیار ہوتا کلیم امام ایسے نکمے پولیس افسر کو کبھی آئی جی پنجاب تعینات نہ کیا جاتا، تین چار ماہ میں پنجاب پولیس کا ”مورال“ اس نے اتنا ڈاﺅن کردیا اسے واپس اپنے مقام پر لانے کے لیے نئے آئی جی پنجاب محمد طاہر کو اللہ جانے کیا کیا پاپڑاب بیلنا پڑیں گے؟۔ اب اس جوکر کو سندھ کا آئی جی بنادیا گیا ہے۔ وہاں بھی سوائے مختلف قسم کی ”اچھل کود“ کے اور فنکاریاں دکھانے کے وہ کچھ نہیں کرسکے گا۔ البتہ اس کا ضمیر اور کردار سندھ کے سیاسی حکمرانوں سے اچھا خاصا ملتا جلتا ہے۔ سو ”خوب گزرے گی مل بیٹھیں گے جو دیوانے بلکہ نکمے دو“ .... مجھے یقین ہے سندھ کے سیاسی حکمرانوں کو اس سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہوگی۔ سندھ پولیس کو بھی شکر ادا کرنا چاہیے ایک ایسا آئی جی اُنہیں مل گیا ہے جو کم ازکم کرپشن سے ہرگز انہیں منع نہیں کرے گا۔ اس کی سفارش بھی بڑی ڈاہڈی تھی۔ ورنہ تو پنجاب میں جس نااہلی کا اس نے مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں پوری حکومت بدنام ہوئی اس کی بنیاد پر اس کا حق یہ بنتا تھا اسے جبری ریٹائرڈ کردیا جاتا ،.... ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کے معاملے میں محترم چیف جسٹس آف پاکستان کے ازخود نوٹس نے جتنی ”ہائپ “ قائم کردی تھی اس کی بنیاد پر ہم یہ سوچ رہے تھے نہ صرف ڈی پی او پاکپتن کو ان کے عہدے پر واپس بھیج دیا جائے گا بلکہ نصف شب عجلت میں اس کا تبادلہ کرنے والے آئی جی پنجاب کلیم امام کے بارے میں بھی حکم جاری کیا جائے گا آئندہ کبھی اسے فیلڈ میں تعینات نہ کیا جائے۔ اس معاملے میں جو فیصلہ دیا گیا اس سے ثابت ہوگیا آئی جی زیادہ طاقتور ہے۔ البتہ اس طاقت کے بل بوتے پر وہ پنجاب میں برقرار رہنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اب بقیہ گند وہ سندھ جاکر ڈالے گا۔ جہاں پہلے ہی بہت گند پڑا ہے۔ سندھ میں اس کے ماتحتوں کو بڑا محتاط رہنا پڑے گا، کیونکہ یہ وہ پولیس افسر ہے جو ذاتی و مالی مفادات کے لیے ماتحتوں کی قربانی کے عمل کو باقاعدہ حج اور عمرے جتنا ثواب سمجھتا ہے، پنجاب میں ماتحتوں سے ملنے والی بددعائیں ساری زندگی اس کا پیچھا کریں گی ، مشتاق سکھیرے کے بارے میں اکثر ہم سوچتے تھے اس سے زیادہ بدنیت، منفی ذہنیت کا حامل اور منتقم مزاج کوئی اور پولیس افسر بطور آئی جی پنجاب آہی نہیں سکتا، کلیم امام نے اس کا ریکارڈ توڑ دیا، .... نئے آئی جی پنجاب محمد طاہر کو بہت کچھ اب جوڑنا پڑے گا۔ خصوصاً پولیس فورس کے وہ دل جوڑنا پڑیں گے جو کلیم امام اور مشتاق سکھیرے جیسے منتقم مزاج پولیس افسروں کی وجہ سے ٹوٹے اور بکھرے پڑے ہیں، بطور آئی جی پنجاب ایک طرف انہیں اپنی فورس کا مورال بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہیں، دوسری طرف پولیس فورس پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا ہے، ان کی ایمانداری پر کوئی انگلی فی الحال اٹھی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔ البتہ اہلیت ثابت کرنے کا اتنا بڑا موقع اللہ نے انہیں شاید پہلی مرتبہ فراہم کیا ہے، جس کی شکرگزاری صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے اپنے ماتحت افسروں کو وہ حکم دیں مظلوموں کے لیے اپنے بند دروازے کھول دیں، چٹ سسٹم ختم کردیں، زیادہ سے زیادہ لوگوں کو انصاف مہیا کریں۔ پنجاب پولیس سے کرپشن کا خاتمہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، اس سے بھی ضروری مگر یہ ہے فیلڈ میں جتنے مردم بیزار پولیس افسران تعینات ہیں سب کو ان کے عہدوں سے الگ کردیا جائے، خصوصاً اس سی سی پی او لاہور کو جسے انسانوں سے اتنی ہی نفرت ہے جتنی اپنے عہدے سے محبت ہے۔ وہ جب سے اس عہدے پر تعینات ہے میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کسی ایک مظلوم کی مدد کی توفیق اسے نہیں ہوئی ہوگی، یہ کسی شخص کی بڑی بدقسمتی ہوتی ہے اللہ اسے اس کی اوقات سے بہت بڑھ کر نواز دے اور وہ آپے سے باہر ہوجائے، اس ایمانداری کو چاٹنا ہے جس کا کسی مظلوم کو کوئی فائدہ ہی نہ ہو؟ ایسے نام نہاد ایمانداروں سے وہ ”بے ایمان“ ہزار درجے بہتر ہیں جن کے دل میں انسانیت کا درد ہو، اصل درد دوسروں کا ہوتا ہے ورنہ اپنا درد تو جانوروں کو بھی ہوتا ہے۔ بی اے ناصر جیسے افسروں کو صرف اپنا درد ہی ہوتا ہے ، آج انہیں ان کے موجودہ عہدے سے الگ کرکے ان کی اہلیت اور فطرت کے مطابق کہیں تعینات کردیا جائے انہیں فوراً اپنا درد شروع ہوجائے گا۔ جو میرے خیال میں اب ہونے ہی والا ہے، .... جہاں تک نئے آئی جی پنجاب محمد طاہر کا تعلق ہے اس سے پہلے وہ بطور آئی جی کے پی کے میں تعینات تھے، وہاں وہ صرف تین چار ماہ رہے، کے پی کے کا کلچر پنجاب پولیس اور عوام کے کلچر،سوچ اور روایات سے ذرا مختلف ہے، مجھے یقین ہے نیک نیتی اور ایمانداری کی بنیاد پر ان کی راہ میں آنے والی بہت سی مشکلات آسان ہوجائیں گی۔ جناب ناصر درانی جیسے شاندار اور ایماندار انسان کی رہنمائی اور مشاورت بھی ان کے لیے ایک بڑا اثاثہ ثابت ہوسکتی ہے۔ امید ہے اس سے وہ پنجاب پولیس میں یقیناً ایسا ماحول پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے جس کی بہت عرصے سے ہم آس لگائے بیٹھے ہیں !


ای پیپر